بدھ 7 اکتوبر 2026 - 12:21
حضرت خدیجہ سلام الله علیہا طہارت کا الٰہی انتخاب

حوزہ/حضرت خدیجہ سلام الله علیہا وہ عظیم المرتبت خاتون ہیں جنہیں بعثتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے بھی قریش ’’طاہرہ‘‘ کے لقب سے یاد کرتا تھا۔

ترجمہ و تشریح: مولانا گلزار جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی|

حضرت خدیجہ سلام الله علیہا وہ عظیم المرتبت خاتون ہیں جنہیں بعثتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے بھی قریش ’’طاہرہ‘‘ کے لقب سے یاد کرتا تھا۔

ذرا غور کیجیے! وہ معاشرہ جسے ہم دورِ جاہلیت کے نام سے جانتے ہیں، جس کی فضا شرک و بت پرستی، شراب نوشی، زنا و فواحش، قتل و غارت، دختر کشی اور باہمی لوٹ مار جیسی برائیوں سے مسموم تھی؛ ایسا معاشرہ گویا ایک ایسا دلدل تھا جس میں ہر طرف گناہ کے کانٹے اور جاہلیت کے اندھیرے اگے ہوئے تھے۔

ایسے ہی ماحول کے درمیان ایک خاتون کا ظہور ہوتا ہے جو پاکیزگی و عفت کا پیکر بن کر سامنے آتی ہے؛ جس کی زبان و دامن کو معاشرے کی آلودگی چھو نہ سکی؛ جسے اسی جاہلی معاشرے کے لوگ ’’طاہرہ‘‘ کہنے پر مجبور ہوگئے۔ یہ معمولی بات نہیں، بلکہ اپنے اندر ایک عظیم الٰہی راز رکھتی ہے۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدیجہؑ سلام اللہ علیہا کو یہ طہارت کس نے عطا کی؟
وہ کون سی تربیت تھی جس نے انہیں اس قدر پاکیزہ، با عفت اور بلند کردار بنا دیا کہ بعد میں وہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلبِ مبارک میں ایسی منزلت حاصل کرتی ہیں کہ جبرئیلِ امین علیہ السلام خود بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر خداوندِ متعال کا سلام ان تک پہنچاتے ہیں:’’خدا کی طرف سے خدیجہ سلام اللہ علیہا کو سلام پہنچائیے۔‘‘
یہ مقام معمولی نہیں! یہ وہ اعزاز ہے کہ جس میں آسمان کی طرف سے سلام آتا ہے اور زمین پر ایک پاکیزہ خاتون اس سلام کی مخاطَب بنتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس جاہلی ماحول میں خدیجہؑ سلام اللہ علیہا کی تربیت کس نے کی؟ انہیں کس ہاتھ نے سنوارا؟

یقیناً یہاں ایک دستِ قدرت کار فرما تھا؛ ایک ایسی الٰہی تربیت جو انسان کو ماحول کا اسیر نہیں بننے دیتی، بلکہ اسے ماحول کی اصلاح کا چراغ بنا دیتی ہے۔
قرآن مجید حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پرورش کے ایک مرحلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿وَلِتُصْنَعَ عَلَىٰ عَيْنِي﴾’’اور تاکہ تم میری نگرانی اور میری نگاہِ کرم کے سامنے پروان چڑھو۔‘‘

یہ آیت اپنے اندر ایک نہایت لطیف حقیقت سموئے ہوئے ہے: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے میں خیر کی صلاحیت، نیکی کی طلب اور ہدایت کی استعداد دیکھتا ہے تو اسے اپنی خاص عنایت کے حصار میں لے لیتا ہے۔ جیسے ایک ماہر باغبان کسی ننھے پودے کو دیکھ کر سمجھ لیتا ہے کہ اس میں ایک تناور درخت بننے کی صلاحیت موجود ہے؛ پھر وہ اسے کانٹوں سے بچاتا، پانی دیتا، دھوپ سے سنبھالتا اور اپنی نگہداشت میں پروان چڑھاتا ہے۔

اسی طرح اللہ سبحانہ و تعالیٰ بھی اپنے برگزیدہ بندوں کو حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑتا۔ وہ ان کے لیے راستے ہموار کرتا ہے، انہیں باطن کی پاکیزگی عطا کرتا ہے اور ایسی تربیت فرماتا ہے کہ وہ اپنے زمانے کی تاریکی میں چراغِ ہدایت بن جاتے ہیں۔

حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی شخصیت اسی حقیقت کی روشن مثال ہے۔ جاہلیت کا ماحول ان کے گرد موجود تھا، مگر جاہلیت ان کے اندر داخل نہ ہوسکی؛ معاشرہ بتوں کے سامنے جھک رہا تھا، مگر خدیجہؑ س کا باطن کسی باطل کے سامنے نہ جھکا؛ ہر طرف اخلاقی انحطاط تھا، مگر ان کا دامن عفت و پاکیزگی سے معمور تھا۔
یہی تو الٰہی تربیت کی پہچان ہے کہ انسان ماحول سے متاثر ہونے کے بجائے ماحول پر اثر انداز ہونے لگے۔

حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا گویا جاہلیت کے صحرا میں وہ پاکیزہ چشمہ تھیں جس کا پانی گرد و غبار سے آلودہ نہیں ہوا؛ اندھیری رات میں وہ ستارہ تھیں جس نے اپنے گرد پھیلے ہوئے ظلمت کدے کو شکست دی۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے انھیں اس لیے محفوظ رکھا کہ مستقبل میں انہیں اُس عظیم ہستی کا ساتھ دینا تھا جس کے ذریعے پوری انسانیت کو ہدایت کا سورج نصیب ہونا تھا۔
پس خدیجہؑ سلام اللہ علیہا کا طاہرہ ہونا محض ایک اخلاقی وصف نہیں، بلکہ الٰہی انتخاب کی ایک روشن علامت تھا۔ اللہ نے انہیں اس عظیم امانت کے لیے تیار کیا تھا کہ جب پوری دنیا رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کے مقابل کھڑی ہوگی، تو ایک خاتون سب سے پہلے ایمان، تصدیق، ایثار اور نصرت کے ساتھ رسولؐ کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی۔

(اور شاید یہی وجہ ہیکہ قدرت نے نزول آیت تطہیر سے پہلے ہی جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا کو اس دارفانی سے اٹھا لیا کہ کہیں وظیفہ بانٹنے والی کے صدقہ میں وظیفہ لیکر کھانے والی بیویاں داخل چادر تطہیر نہ ہو جائیں اگر کوئی زوجہ واقعا حق رکھتی ہے چادر طہارت میں پناہ گزیں ہونے کی تو وہ صرف اور صرف حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی ذات ہے جو مصداقیت آیت تطہیر میں سما سکتی ہیں لہذا ایک پہلو یہ بھی ہے) (عرض مترجم)

حضرت خدیجہؑ سلام اللہ علیہا ہمیں یہ درس دیتی ہیں کہ اگر انسان کے اندر خیر کی طلب زندہ ہو تو ماحول کی تاریکیاں اسے نگل نہیں سکتیں؛ اللہ کی عنایت اسے اپنے حصار میں لے کر ایسا چراغ بنا دیتی ہے جو خود بھی روشن ہوتا ہے اور زمانے کو بھی روشن کرتا ہے۔

بیان آیت الله محمد یعقوبی

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha