ہفتہ 3 اکتوبر 2026 - 16:44
مقصر اور غالی: اہلِ بیتؑ کا واضح فیصلہ

حوزہ/رسول و اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات میں تقصیر اور غلو دو مختلف انتہائیں ہیں۔ تقصیر سے مراد اہلِ بیتؑ کے مقام، حقوق اور فضائل کی معرفت میں کمی ہے، جبکہ غلو یہ ہے کہ محبت و عقیدت میں ایسی حد عبور کر دی جائے جہاں مخلوق کے لیے وہ صفات یا اختیارات مانے جائیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہیں۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی|

رسول و اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات میں تقصیر اور غلو دو مختلف انتہائیں ہیں۔ تقصیر سے مراد اہلِ بیتؑ کے مقام، حقوق اور فضائل کی معرفت میں کمی ہے، جبکہ غلو یہ ہے کہ محبت و عقیدت میں ایسی حد عبور کر دی جائے جہاں مخلوق کے لیے وہ صفات یا اختیارات مانے جائیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ائمہ اہلِ بیت علیہم السلام نے تقصیر کی اصلاح کا دروازہ کھلا رکھا، مگر غلو سے سخت براءت اور نفرت کا اظہار فرمایا۔
امام جعفر صادقؑ کا غلو کے بارے میں فرمان،
شیخ طوسی نے الأمالي میں فضیل بن یسار سے امام جعفر صادق علیہ السلام کا یہ فرمان نقل کیا ہے:
قَالَ الصَّادِقُ عَلَيْهِ السَّلَامُ:
احْذَرُوا عَلَى شَبَابِكُمُ الْغُلَاةَ لَا يُفْسِدُونَهُمْ، فَإِنَّ الْغُلَاةَ شَرُّ خَلْقِ اللَّهِ، يُصَغِّرُونَ عَظَمَةَ اللَّهِ، وَيَدَّعُونَ الرُّبُوبِيَّةَ لِعِبَادِ اللَّهِ، وَاللَّهِ إِنَّ الْغُلَاةَ لَشَرٌّ مِنَ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى وَالْمَجُوسِ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا.
ثُمَّ قَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: إِلَيْنَا يَرْجِعُ الْغَالِي فَلَا نَقْبَلُهُ، وَبِنَا يَلْحَقُ الْمُقَصِّرُ فَنَقْبَلُهُ.
فَقِيلَ لَهُ: كَيْفَ ذَلِكَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ؟
قَالَ: لِأَنَّ الْغَالِيَ قَدِ اعْتَادَ تَرْكَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَالصِّيَامِ وَالْحَجِّ، فَلَا يَقْدِرُ عَلَى تَرْكِ عَادَتِهِ وَعَلَى الرُّجُوعِ إِلَى طَاعَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَبَدًا، وَإِنَّ الْمُقَصِّرَ إِذَا عَرَفَ عَمِلَ وَأَطَاعَ.
حوالہ: شیخ طوسی، الأمالي، مجلس ۳۳، حدیث ۱۲۔
ترجمہ “اپنے نوجوانوں کو غالیوں سے بچاؤ، کہیں وہ انہیں خراب نہ کر دیں۔ بے شک غالی اللہ کی مخلوق میں بدترین ہیں۔ وہ اللہ کی عظمت کو گھٹاتے اور اس کے بندوں کے لیے ربوبیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ خدا کی قسم! غالی یہود، نصاریٰ، مجوس اور مشرکین سے بھی بدتر ہیں۔”

پھر فرمایا: “غالی ہماری طرف پلٹ کر آئے تو ہم اسے قبول نہیں کرتے، جبکہ مقصر ہمارے ساتھ آ ملے تو ہم اسے قبول کر لیتے ہیں۔”
عرض کیا گیا: “اے فرزندِ رسول اللہ! یہ کیسے؟”
فرمایا:“اس لیے کہ غالی نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج چھوڑنے کا عادی ہو چکا ہے؛ وہ اپنی اس عادت کو ترک کرکے اللہ عزوجل کی اطاعت کی طرف واپس نہیں آتا، جبکہ مقصر جب معرفت حاصل کرتا ہے تو عمل اور اطاعت کرتا ہے۔”

حدیث کی مختصر شرح

اس فرمان میں غلو کی سنگینی کی بنیاد خود امام علیہ السلام نے بیان کر دی: اللہ کی عظمت کو گھٹانا، بندوں کے لیے ربوبیت کا دعویٰ کرنا اور بالآخر فرائضِ الٰہی سے دور ہو جانا۔ اسی لیے امام علیہ السلام نے نوجوانوں کو غالیوں سے بچانے کی خاص تاکید فرمائی؛ کیونکہ یہ صرف ایک شخص کی فکری لغزش نہیں بلکہ عقیدہ اور عمل دونوں کو بگاڑنے والا انحراف ہے۔

دوسری طرف مقصر کے بارے میں امام علیہ السلام کا رویہ اصلاح اور قبولیت کا ہے۔ وجہ بھی واضح فرمائی: “إِذَا عَرَفَ عَمِلَ وَأَطَاعَ”؛ یعنی جب اسے معرفت حاصل ہوتی ہے تو وہ عمل اور اطاعت کی طرف لوٹ آتا ہے۔ یوں روایت کا مرکزی فرق سامنے آتا ہے: تقصیر میں کمی ہے جس کی اصلاح ممکن ہے، جبکہ غلو میں ایسی حد شکنی ہے جو انسان کو توحید اور شریعت سے دور کر سکتی ہے۔
اس حدیث کا پیغام بالکل واضح ہے: اہلِ بیت علیہم السلام کی حقیقی معرفت انسان کو اللہ کی عبادت سے آزاد نہیں کرتی بلکہ اس کی اطاعت میں زیادہ مضبوط بناتی ہے۔

یہاں امام علیہ السلام کا مقصد یہ نہیں کہ تقصیر قابلِ تعریف ہے، بلکہ یہ ہے کہ یہاں کمی کے بعد اصلاح ممکن ہے، مگر غلو انسان کو اس مقام تک لے جاتا ہے جہاں اصلاح کا راستہ بھی دشوار ہو جاتا ہے۔ اسی لیے آپ نے مقصر کے لیے فرمایا، “اسے ہم قبول کر لیتے ہیں” جبکہ غالی کے لیے فرمایا “ہم اسے قبول نہیں کرتے”۔

غلو کی سنگینی کا اندازہ اس حقیقت سے ہوتا ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام سے غالیوں سے صریح براءت اور بیزاری منقول ہے۔ یعنی اہلِ بیت علیہم السلام نے اپنے نام پر ہونے والے غلو کو محبت، عقیدت یا ولایت کا کوئی قابلِ قبول درجہ نہیں دیا، بلکہ اسے اپنی تعلیمات سے انحراف سمجھ کر مسترد کیا۔ اس سے اصول بالکل واضح ہے کہ اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت وہی معتبر ہے جو توحید کے تابع اور بندگیِ خدا کے دائرے میں ہو؛ ایسی محبت جو اللہ کی ربوبیت کی حدود کو پامال کرے، اہلِ بیت علیہم السلام کی محبت نہیں بلکہ ان کی تعلیمات سے بغاوت ہے۔

قرآن کریم کا فیصلہ قطعی ہے:اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ
“اللہ ہر چیز کا خالق ہے۔” (الزمر: 62)
اور فرمایا:إِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ
بے شک اللہ ہی رزق دینے والا ہے
(الذاریات: 58)
لہٰذا اہلِ بیت علیہم السلام کی عظمت، ولایت اور تمام ثابت شدہ فضائل اپنی جگہ مسلم ہیں، مگر خالقیت، رزاقیت اور ربوبیت کا مستقل اختیار اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے۔ کسی مخلوق کے لیے ان صفات کو مستقل بالذات ماننا محض عقیدے میں ایک معمولی زیادتی نہیں، بلکہ توحید کی بنیادی حدوں کو مجروح کرنے والا نہایت سنگین انحراف ہے۔ اللہ کے اذن سے کسی تصرف کا عقیدہ اپنی جگہ ایک بحث ہے، مگر مخلوق کو مستقل ربوبیت یا مستقل خالقیت و رزاقیت دینا بالکل دوسری چیز ہے۔ اہلِ بیت علیہم السلام کی عظمت بیان کرنے کے لیے اگر اللہ کی عظمت گھٹانی پڑے تو یہ محبت نہیں، غلو ہے؛ اور غلو کے بارے میں خود اہلِ بیت علیہم السلام کا موقف براءت، نفی اور سخت ترین ردّ کا ہے۔
اسی طرح “مقصر” کی اصطلاح کو بھی بے محل استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ ہر وہ شخص جو کسی مخصوص تعبیر، عمل یا اضافی عقیدے کو قبول نہ کرے، لازماً اہلِ بیت علیہم السلام کا دشمن یا ناقص العقیدہ نہیں بن جاتا۔ مثال کے طور پر نماز میں کسی ایسے کلمے کو، جسے وہ جزوِ نماز سمجھنے کے لیے شرعی دلیل کا محتاج سمجھتا ہے، قبول نہ کرنا بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ اہلِ بیت علیہم السلام کی ولایت یا محبت کا منکر ہے۔ اصطلاحات کا فیصلہ جذبات سے نہیں، عقیدے کے حقیقی مفہوم اور معتبر دلیل سے ہونا چاہیے۔
اصل میزان یہی ہے کہ انسان اہلِ بیت علیہم السلام کو نہ گھٹائے اور نہ ان کے نام پر اللہ تعالیٰ کی مخصوص صفات میں ایسی شرکت کا عقیدہ پیدا کرے جو توحید سے متصادم ہو۔ تقصیر کی اصلاح معرفت سے ہوتی ہے اور غلو کا علاج حدودِ توحید کی طرف واپسی ہے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام کا فرمان دراصل اہلِ بیت علیہم السلام کی محبت کو محدود نہیں کرتا بلکہ اسے صحیح سمت دیتا ہے: محبت ہو، ولایت ہو، فضائل کا اقرار ہو، مگر مرکز اللہ کی توحید اور مقصد اس کی اطاعت رہے۔ یہی وہ توازن ہے جس میں اہلِ بیت علیہم السلام کی حقیقی معرفت بھی محفوظ رہتی ہے اور غلو کے خطرناک انحراف سے دین بھی محفوظ رہتا ہے۔
دعوتِ فکر یہ ہے کہ اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت کا معیار ہمارے دعوے نہیں، خود اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات ہوں۔ جس راستے پر وہ توحید، عبادت اور اطاعت کی طرف لے جائیں، وہی محبت کا راستہ ہے؛ اور جس مقام پر ان کے نام پر اللہ کی ربوبیت کی حدود مٹنے لگیں، وہاں رک جانا ہی ان کی تعلیم کی پاسداری ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha