جمعہ 2 اکتوبر 2026 - 15:27
قم میں شہدائے مقاومت کانفرنس کا انعقاد / شہید سید حسن نصراللہ اور دیگر شہدائے مقاومت کو خراجِ عقیدت

حوزہ / ایران کے شہر قم المقدسہ میں مجلس وحدت مسلمین، شعبۂ قم کے زیر اہتمام شہداء کرام کی یاد میں ’’شہدائے مقاومت کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یکم اکتوبر 2026ء بمطابق 19 ربیع الثانی 1448ھ کو قم المقدسہ کے مرکزی کانفرنس ہال الغدیر میں شہید سید حسن نصراللہ، شہید سید ہاشم صفی الدین اور مقاومتی محاذ کے دیگر شہداء کی یاد میں ’’شہدائے مقاومت کانفرنس‘‘منعقد ہوئی۔

مجلس وحدت مسلمین، شعبۂ قم کے زیر اہتمام منعقدہ اس کانفرنس میں علما، دینی و سیاسی شخصیات، مقاومتی تحریکوں کے نمائندوں اور مختلف ممالک سے آئے ہوئے وفود نے شرکت کی۔

تقریب کا آغاز حجۃ الاسلام والمسلمین قاری بشارت امامی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ بعد ازاں شہزاد حسین نے نعتِ رسول اکرم ﷺ اور شہید سید حسن نصراللہ کی یاد میں ترانۂ شہادت پیش کیا جبکہ گروہ ’’پیامِ اسلامی‘‘ نے فارسی، عربی، اردو اور انگریزی زبانوں میں ترانے پیش کیے۔

قم میں شہدائے مقاومت کانفرنس کا انعقاد / شہید سید حسن نصراللہ اور دیگر شہدائے مقاومت کو خراجِ عقیدت

کانفرنس کے پہلے مقرر جہادِ اسلامی فلسطین کے نمائندے ناصر ابوشریف تھے۔ انہوں نے شہید سید حسن نصراللہ کی شخصیت، انتظامی صلاحیتوں اور مقاومتی محاذ میں ان کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے انہیں اسلامی مقاومت کی نمایاں شخصیات میں شمار کیا۔

انہوں نے مقاومتی تحریک کو مضبوط بنانے اور مسئلۂ فلسطین کی حمایت میں شہید سید حسن نصراللہ کے کردار کو اجاگر کیا اور امتِ مسلمہ کے اتحاد و یکجہتی اور مسئلۂ فلسطین کی حمایت کی اہمیت پر زور دیا۔

قم میں شہدائے مقاومت کانفرنس کا انعقاد / شہید سید حسن نصراللہ اور دیگر شہدائے مقاومت کو خراجِ عقیدت

جمہوریہ اسلامی ایران میں یمن کی انقلابی حکومت کے سفیر محمد ابراہیم الدیلمی نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا۔

انہوں نے خطے کی موجودہ صورتحال، محاذِ مقاومت اور شہید سید حسن نصراللہ کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

محمد ابراہیم الدیلمی نے کہا: فلسطین اور مسجد الاقصیٰ کا دفاع خطے کی مقاومتی تحریک کے اہم ترین مقاصد میں شامل ہے۔

انہوں نے انصار اللہ کے بارے میں بعض الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا: یہ دعویٰ درست نہیں کہ انصار اللہ خانۂ کعبہ یا دیگر اسلامی مقدسات پر حملے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا: ’’یہ کیسے ممکن ہے کہ جو لوگ مسجد الاقصیٰ کا دفاع کرتے ہیں، وہ کعبہ پر حملہ کریں؟‘‘

قم میں شہدائے مقاومت کانفرنس کا انعقاد / شہید سید حسن نصراللہ اور دیگر شہدائے مقاومت کو خراجِ عقیدت

یمنی سفیر نے یمن کے خلاف 2015ء میں شروع ہونے والی فوجی کارروائی کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کا بھی ذکر کیا اور اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں پر پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کیا اور اس مؤقف کو یمنی عوام کی حمایت میں ایک اہم اقدام قرار دیا۔

انہوں نے مزید کہا: حالیہ صورتحال کے آغاز سے اب تک وہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری جنرل حجۃ الاسلام والمسلمین راجہ ناصر عباس جعفری سے رابطے میں ہیں اور یمن سے متعلق مسائل اور خطے کی صورتحال کے حوالے سے باہمی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔

قم میں شہدائے مقاومت کانفرنس کا انعقاد / شہید سید حسن نصراللہ اور دیگر شہدائے مقاومت کو خراجِ عقیدت

کانفرنس کے آخری مقرر دفترِ تبلیغاتِ اسلامی حوزۂ علمیہ قم کے تحقیقی شعبے کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین نجف لک زائی تھے۔

انہوں نے شہید سید حسن نصراللہ کی شخصیت کی نمایاں خصوصیات پر گفتگو کرتے ہوئے قرآن کریم کی آیت "إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلَّذِينَ يُقَٰتِلُونَ فِي سَبِيلِهِۦ صَفّٗا كَأَنَّهُم بُنۡيَٰنٞ مَّرۡصُوص" کی روشنی میں منظم صف بندی اور اجتماعی جدوجہد کی اہمیت بیان کی۔

قم میں شہدائے مقاومت کانفرنس کا انعقاد / شہید سید حسن نصراللہ اور دیگر شہدائے مقاومت کو خراجِ عقیدت

انہوں نے کہا: انفرادی طور پر قربانی اور ایثار کا جذبہ قابلِ قدر ہے، تاہم اسی جذبے کو ایک منظم، اجتماعی اور تنظیمی تحریک میں تبدیل کرنا ایک مشکل مرحلہ ہے۔

حجۃ الاسلام لک زائی کے مطابق شہید سید حسن نصراللہ جیسی شخصیات کی نمایاں خصوصیات میں یہ صلاحیت شامل تھی کہ وہ افراد کے ایمان، جذبۂ ایثار اور قربانی کو اسلامی مقاصد اور مقاومت کی راہ میں ایک منظم اور متحد تحریک کی شکل دے سکیں۔

قم میں شہدائے مقاومت کانفرنس کا انعقاد / شہید سید حسن نصراللہ اور دیگر شہدائے مقاومت کو خراجِ عقیدت

کانفرنس میں مختلف دینی شخصیات اور مقاومتی تحریکوں سے وابستہ نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء میں آیت اللہ شیخ حسین، حجۃ الاسلام عبدالمحسن البقشی اور حوزۂ علمیہ آل البیت کے ذمہ دار سمیت دیگر شخصیات شامل تھیں۔

پاکستان سے بھی مختلف دینی شخصیات، علما اور اسلامی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ پاکستانی شرکاء میں آیت اللہ سید شجاع حسینی، آیت اللہ شیخ باقر المقدسی، شیعہ علما کونسل پاکستان کے نمائندگان، تحریک بیداری امتِ اسلامی کے نمائندے اور پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے علما و اسلامی تنظیموں کے نمائندے شامل تھے۔

قابل ذکر ہے کہ کانفرنس کے اختتام پر مجلس وحدت مسلمین شعبۂ قم کے ذمہ دار حجۃ الاسلام والمسلمین سید ذیشان حیدر الحسنی نے علما، دینی و سیاسی شخصیات، مقاومتی تحریکوں کے نمائندوں اور مختلف ممالک سے آنے والے وفود کا شکریہ ادا کیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha