جمعرات 8 اکتوبر 2026 - 05:51
یمن کی جنگ؛ سعودی دباؤ، حوثی مزاحمت اور بدلتا ہوا مشرقِ وسطیٰ

حوزہ/ یمن کی جنگ مشرقِ وسطیٰ کی پیچیدہ ترین اور طویل جنگوں میں شمار ہوتی ہے۔ موجودہ مرحلے میں یہ تنازع 2014ء سے جاری ہے، جب سعودی عرب نے 2014ء سے 2022ء تک یمن میں فوجی مداخلت کی۔ اس جنگ کے نتیجے میں سعودی حمایت یافتہ قوتیں اپنے بنیادی مقاصد حاصل نہ کر سکیں، جبکہ حوثی تحریک نے دارالحکومت صنعاء سمیت ملک کے ایک بڑے حصے پر اپنا اثر و رسوخ قائم کر لیا۔

تحریر: سید انجم رضا

حوزہ نیوز ایجنسی|

یمن کی جنگ مشرقِ وسطیٰ کی پیچیدہ ترین اور طویل جنگوں میں شمار ہوتی ہے۔ موجودہ مرحلے میں یہ تنازع 2014ء سے جاری ہے، جب سعودی عرب نے 2014ء سے 2022ء تک یمن میں فوجی مداخلت کی۔ اس جنگ کے نتیجے میں سعودی حمایت یافتہ قوتیں اپنے بنیادی مقاصد حاصل نہ کر سکیں، جبکہ حوثی تحریک نے دارالحکومت صنعاء سمیت ملک کے ایک بڑے حصے پر اپنا اثر و رسوخ قائم کر لیا۔

یمن: ایک ملک، متعدد طاقت کے مراکز

یمن کی موجودہ صورتِ حال کو سمجھنے کے لیے وہاں موجود مختلف طاقت کے مراکز کو دیکھنا ضروری ہے۔ ایک جانب حوثی تحریک ہے، جس کا مرکز صنعاء ہے۔ دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت ہے، جس کا عارضی دارالحکومت عدن بتایا جاتا ہے اور جسے سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے۔ تیسری اہم قوت جنوبی عبوری کونسل (STC) ہے، جسے متحدہ عرب امارات کی حمایت حاصل ہے اور جو جنوبی یمن میں علیحدگی پسند رجحانات کی نمائندگی کرتی ہے۔

یوں یمن میں اقتدار اور جغرافیائی کنٹرول ایک پیچیدہ مثلث کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، حوثی تحریک اور دیگر علاقائی و بین الاقوامی قوتیں اپنے اپنے مفادات کے ساتھ موجود ہیں۔

حوثی پیش قدمی اور جنگ کا نیا مرحلہ

حالیہ صورتِ حال کے حوالے سے متن میں یہ مؤقف پیش کیا گیا ہے کہ حوثی قوتوں نے یمن کے مختلف علاقوں میں اپنی پیش قدمی تیز کر دی ہے۔ تعز کے گردونواح میں ان کی پیش قدمی، اہم پہاڑی علاقوں پر کنٹرول اور بعض مقامات پر عسکری کامیابیوں کو اس نئی صورتحال کی علامت قرار دیا گیا ہے۔

تعز کے گرد اہم بلند علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنا اس لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے کہ ان علاقوں سے شہر پر عسکری دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے۔ اسی تناظر میں بعض مقامات پر حوثی کمانڈروں کی موجودگی اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز کو بھی ان کی پیش قدمی کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

اگر تعز پر حوثی قوتوں کا مؤثر کنٹرول قائم ہو جاتا ہے تو اس کے بعد عدن کی جانب پیش قدمی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ اسی لیے موجودہ جنگ میں تعز کو ایک نہایت اہم اسٹریٹیجک محاذ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

سعودی عرب کی امریکہ سے مدد کی اپیل

اس بدلتی ہوئی صورتحال میں سعودی عرب کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ حوثی پیش قدمی کو کس طرح روکے۔ سعودی عرب نے امریکہ سے براہِ راست فوجی مدد کی درخواست کی، تاہم امریکہ نے براہِ راست اپنی فوج یمن بھیجنے سے انکار کرتے ہوئے انٹیلی جنس، مشاورت، عسکری سازوسامان اور دیگر معاونت تک تعاون محدود رکھنے کا مؤقف اختیار کیا۔

یہ مؤقف بہت اہمیت کا حامل ہے کہ امریکی کردار کو محض غیر عسکری یا بالواسطہ تعاون تک محدود سمجھنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ خطے میں امریکی مفادات، سعودی عرب اور اسرائیل کے باہمی اسٹریٹیجک تعلقات اور متحدہ عرب امارات کے کردار نے اس تنازع کو ایک وسیع علاقائی تناظر دے دیا ہے۔

بحیرۂ احمر اور باب المندب کی اسٹریٹیجک اہمیت

یمن کی جنگ صرف زمینی اقتدار کی جنگ نہیں بلکہ اس کی ایک بڑی جہت بحیرۂ احمر، باب المندب اور سمندری راستوں سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ حوثی قوتوں کی جانب سے بعض جزائر اور ساحلی علاقوں میں پیش قدمی کا ایک مقصد سعودی عرب پر بحری دباؤ بڑھانا بھی سمجھا جاتا ہے۔

اسی تناظر میں انصار اللہ کی جانب سے یہ مؤقف بھی پیش کیا گیا کہ اگر سعودی عرب یمن کی فضائی ناکہ بندی ختم کرے تو حوثی قوتیں سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی ختم کر سکتی ہیں۔ اس مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے عسکری محاذ کے ساتھ ساتھ ناکہ بندیوں کے خاتمے کو بھی ایک اہم مسئلہ سمجھا جا رہا ہے۔

جنگ کے آغاز اور ناکہ بندی کا تنازع

تجزیات کے مطابق موجودہ تنازع کے بنیادی اسباب میں سعودی فوجی مداخلت اور یمن پر عائد پابندیاں و ناکہ بندی بھی شامل ہیں۔ صنعاء ایئرپورٹ پر حملوں اور فضائی آمدورفت میں رکاوٹ نے جنگ کو مزید پیچیدہ کیا۔

یمن میں طویل عرصے سے جاری بحران نے عام شہری آبادی کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ خوراک، صحت اور بنیادی ضروریات کی مشکلات نے اس جنگ کو محض ایک سیاسی یا عسکری تنازع نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ایک سنگین انسانی بحران میں تبدیل کر دیا ہے۔

سعودی سلامتی کا تصور اور علاقائی طاقت کا توازن

سعودی عرب کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ اس کی سرحدی سلامتی یمن میں ایک مضبوط اور اس کے لیے قابلِ قبول سیاسی و عسکری انتظام سے وابستہ ہے۔ دوسری جانب اسرائیل بھی اپنی سلامتی کو اپنے وسیع تر جغرافیائی اور اسٹریٹیجک مفادات سے جوڑتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں یمن کا تنازع محض سعودی عرب اور حوثی تحریک کے درمیان جنگ نہیں رہتا بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے طاقت کے توازن، امریکی پالیسی، اسرائیلی مفادات اور خلیجی ریاستوں کی علاقائی حکمتِ عملی سے جڑ جاتا ہے۔

حوثی تحریک: تاریخ، زیدیہ اور مزاحمت

حوثی تحریک کو سمجھنے کے لیے یمن کی مذہبی اور سیاسی تاریخ کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ حوثی تحریک کے تاریخی پس منظر کو زیدی روایت اور حضرت زید بن علی کی تحریک سے جوڑا گیا ہے۔ یمن میں زیدی روایت ایک طویل تاریخی پس منظر رکھتی ہے اور اس نے وہاں کے سیاسی و مذہبی ماحول پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

حوثی نام بنیادی طور پر ایک جغرافیائی نسبت سے معروف ہوا، کیونکہ حوث ایک علاقے کا نام ہے جہاں سے اس تحریک کے ابتدائی مراحل وابستہ رہے۔ بعد ازاں یہی نام پوری تحریک کی شناخت بن گیا۔

حوثی تحریک کے بارے میں یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ اس کی موجودہ عسکری قوت کو صرف مذہبی شناخت تک محدود کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ اس میں مختلف سماجی اور سیاسی طبقات شامل ہیں اور اس کی موجودہ قوت ایک وسیع تر سیاسی و عسکری تحریک کی صورت اختیار کر چکی ہے۔

ایران کا سفارتی کردار

یمن کے بحران میں ایران کا کردار بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔ صدر مسعود پزشکیان نے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان مذاکرات اور جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی تھی۔

سپاہِ قدس کے کمانڈر جنرل اسماعیل قاآنی کے حوالے سے سعودی عرب کو جنگ ختم کرنے اور یمن پر حملے روکنے کی اپیل بھی کی ہے۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ایران بھی اس تنازع کو ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی خواہش رکھتا ہے۔

کیا جنگ ایک نئے بڑے محاذ کی طرف بڑھ رہی ہے؟

حالیہ صورتحال کا سب سے اہم سوال یہی ہے کہ کیا یمن کا تنازع دوبارہ ایک وسیع تر علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے؟

بعض ذرائع کے حوالے سے یہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ سعودی عرب بڑی تعداد میں فوجی قوت کو یمن کے محاذ پر استعمال کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان کی سعودی عرب میں موجودگی اور سعودی سرحدوں کے تحفظ کے حوالے سے اس کے کردار کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

تاہم یہ مؤقف بھی واضح ہے کہ پاکستانی فوج کا کردار سعودی سرزمین اور مقدس مقامات کے دفاع تک محدود رہنا چاہتا ہے اور اسے یمن میں کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتا ۔

طاقت کا موازنہ اور یمن کا ممکنہ ردِعمل

اگر ایک بڑی سعودی یا اتحادی فوج یمن میں داخل ہوتی ہے تو بنیادی سوال یہ ہوگا کہ کیا وہ حوثی قوتوں کی پیش قدمی روک سکے گی؟ یمن کا جغرافیہ، پہاڑی علاقے، مقامی مزاحمت اور طویل جنگ کا تجربہ کسی بھی بیرونی فوج کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔

سعودی عرب اور حوثی قوتوں کی افرادی اور عسکری صلاحیتوں کا تقابلی جائزہ بھی پیش کیا گیا ہے، جس کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ محض جدید ہتھیاروں یا بڑے دفاعی بجٹ کی بنیاد پر یمن میں فیصلہ کن فتح حاصل کرنا آسان نہیں۔

حوثی نظریہ اور مزاحمتی بیانیہ

حوثی تحریک کے نظریاتی پس منظر میں زیدی فکر، مزاحمت اور ظالم یا غاصب حکمران کے خلاف قیام کا تصور اہم سمجھا جاتا ہے۔ موجودہ حوثی قیادت اپنے سیاسی بیانیے میں امریکہ اور اسرائیل کی مخالفت کو بھی بنیادی اہمیت دیتی ہے۔

اس تحریک کے نعروں اور سیاسی مؤقف سے واضح ہوتا ہے کہ اس کی شناخت صرف یمنی داخلی سیاست تک محدود نہیں بلکہ اس نے خود کو ایک وسیع تر مزاحمتی بیانیے کے ساتھ جوڑ رکھا ہے۔ اسی وجہ سے یمن کا تنازع مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل، ایران اور خلیجی ریاستوں کے درمیان طاقت کے توازن کا بھی ایک اہم میدان بن چکا ہے۔

نتیجہ: یمن صرف ایک جنگ نہیں، ایک نئے علاقائی توازن کا سوال ہے

یمن کی موجودہ جنگ کو صرف سعودی عرب اور حوثی تحریک کے درمیان عسکری تصادم سمجھنا اس بحران کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ یہ جنگ ایک طرف یمن کے داخلی سیاسی انتشار، دوسری طرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے علاقائی مفادات، تیسری طرف ایران کے اثر و رسوخ اور چوتھی طرف امریکہ و اسرائیل کے وسیع تر اسٹریٹیجک مفادات سے جڑی ہوئی ہے۔

اگر حوثی تحریک تعز اور پھر عدن کی جانب اپنی پیش قدمی برقرار رکھنے میں کامیاب ہوتی ہے تو یمن کے سیاسی نقشے میں ایک بڑی تبدیلی واقع ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس اگر سعودی عرب اور اس کے اتحادی ایک بڑی عسکری مداخلت کرتے ہیں تو جنگ ایک نئے اور کہیں زیادہ وسیع مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ یمن میں کون سی قوت وقتی طور پر کسی شہر یا علاقے پر قبضہ کرتی ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا طاقت کے ذریعے یمن کو زیر کیا جا سکتا ہے، یا طویل جنگ کے بعد مذاکرات، علاقائی مفاہمت اور باہمی سلامتی ہی اس بحران کا پائیدار حل بن سکتی ہے؟

یمن کا مستقبل اسی سوال کے جواب سے وابستہ ہے—اور اس جواب کے اثرات صرف یمن تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ سعودی عرب، ایران، اسرائیل، امریکہ اور پورے مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے اسٹریٹیجک توازن پر مرتب ہوں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha