جمعرات 29 اکتوبر 2026 - 05:28
تشدد اور ایران مخالف فضا کے فروغ میں سعودی مفتیوں کا کردار

حوزہ / سعودی عرب کے ایران کے حوالے سے مؤقف میں تبدیلی نے گزشتہ برسوں میں اس ملک کے مذہبی حلقوں کے کردار پر ایک بار پھر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ یہی وہ حلقے تھے جنہوں نے فرقہ وارانہ زبان استعمال کرتے ہوئے تہران کے ساتھ سیاسی اختلافات کو مذہبی دشمنی میں تبدیل کیا اور اس کے اثرات خطے کے تنازعات، بالخصوص یمن، میں نمایاں ہوئے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یمنی میڈیا کارکن محسن علی الجمال نے ایک تحریر میں سعودی مفتیوں کے مؤقف پر تنقید کی ہے۔

بعض سعودی مفتیوں اور مبلغین نے ایران مخالف فتووں اور پروپیگنڈہ کے ذریعہ ایران کے نام کو ’’مجوس‘‘ جیسے الزامات سے جوڑا اور تہران کے ساتھ دشمنی کو مذہبی رنگ دیا۔ لیکن آج جب سعودی عرب ایران کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھا ہے تو یہ سوال شدت سے اٹھتا ہے کہ ماضی کے وہ تمام الزامات اور دشمنی کی فضا کہاں چلی گئی؟

برسوں تک لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھائی جاتی رہی کہ ایران کے ساتھ اختلاف محض سیاسی چپقلش نہیں بلکہ اعتقادی محاذ آرائی ہے۔ اس بیانیہ میں تہران کے ساتھ مذاکرات کو ایک سیاسی انتخاب کے بجائے مذہبی عقائد سے متصادم عمل کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ تاہم آج وہی سعودی عرب، جو ایران مخالف فضا کی تشکیل میں کردار ادا کرتا رہا، ایران کے ساتھ تعلقات میں تعاون اور مفاہمت کی راہ اختیار کر رہا ہے۔

اس طرزِ فکر میں تبدیلی نے بعض سعودی مفتیوں اور مبلغین کے کردار کے بارے میں سوالات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ ان شخصیات نے فرقہ وارانہ زبان کے ذریعہ سیاسی اختلافات کو مذہبی خلیج سے جوڑا اور ایسی فضا پیدا کرنے میں مدد دی جس میں ایران سے دشمنی کو سیاسی مؤقف نہیں بلکہ ایک مذہبی فریضہ قرار دیا جانے لگا۔

اس فضا کے اثرات صرف تہران اور ریاض کے تعلقات تک محدود نہیں رہے۔ یمن میں بھی فرقہ وارانہ نعروں نے اختلافات کو شدت دینے اور جنوبی علاقوں کے نوجوانوں کو اپنے ہی ہم وطنوں کے خلاف جنگ میں دھکیلنے کے لیے زمین ہموار کی۔ ان نوجوانوں نے ان لڑائیوں کی قیمت اپنی جانوں سے ادا کی جبکہ متعدد خاندان اپنے پیاروں کے سوگ و غم میں ڈوب گئے۔

آج جب سیاسی مفادات سامنے آئے ہیں اور مذاکرات کا راستہ کھل گیا ہے تو یہ سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر ایران کے ساتھ تعامل ممکن ہے تو برسوں تک اس کے بارے میں الزامات اور نفرت کی زبان کیوں استعمال کی جاتی رہی؟

حکومتیں حالات بدلنے کے ساتھ اپنے مؤقف تبدیل کر سکتی ہیں لیکن فرقہ وارانہ پروپیگنڈے کے اثرات لوگوں کے ذہنوں اور زندگیوں سے اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوتے۔ جنگ کے زخم، سوگوار خاندان اور معاشروں کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج محض سیاسی زبان بدلنے سے ختم نہیں ہو جاتی۔

گزشتہ روز کے نعروں اور آج کے مذاکرات کے درمیان یہ تضاد اس امر کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے کہ ان بیانیوں پر نظرثانی کی جائے جنہوں نے سیاسی اختلافات کو مذہبی دشمنی میں تبدیل کیا۔ بالآخر ان بیانیوں کے نتیجے میں عام لوگوں کو ایسی رقابتوں کی قیمت چکانا پڑی جن کے اصل فیصلہ ساز آج ایک مختلف راستہ اختیار کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔

ماخذ: افق نیوز یمن

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha