جمعرات 22 اکتوبر 2026 - 15:20
حضرت فاطمہ زہرا (س) کی ’’وفات‘‘ اور ’’شہادت‘‘ میں تعارض کے متعلق شبہات کا جواب

حوزہ / بعض افراد نے یہ اشکال پیش کیا ہے کہ شیعہ علما اور بزرگ خود بھی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کو تسلیم نہیں کرتے کیونکہ وہ آپ کے لیے ’’وفات‘‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ اس شبہہ کے جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ لفظ ’’وفات‘‘ طبعی موت اور شہادت دونوں کو شامل ہے۔ شیعہ اور اہل سنت کی کتب میں دیگر شہدا کے لیے بھی یہی لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، وہابیوں اور شیعہ مخالف عناصر کی جانب سے بعض صحابہ کی طرف سے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شان میں گستاخی کے واقعے کی تردید کے لیے پیش کیے جانے والے شبہات میں سے ایک یہ ہے کہ شیعہ علما اور بزرگ خود بھی حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کو تسلیم نہیں کرتے کیونکہ وہ آپ کے لیے لفظ ’’وفات‘‘ استعمال کرتے ہیں۔

اس اشکال کے جواب میں درج ذیل نکات قابلِ توجہ ہیں:

قرآن کریم میں لفظ ’’وفات‘‘ مطلق موت کے لیے استعمال ہوا ہے۔ مثال کے طور پر، سورۂ زمر میں ارشادِ خداوندی ہے:

اللَّهُ یَتَوَفَّی الْأَنْفُسَ حِینَ مَوْتِهَا وَالَّتِی لَمْ تَمُتْ فِی مَنَامِهَا فَیُمْسِکُ الَّتِی قَضَی عَلَیْهَا الْمَوْتَ وَیُرْسِلُ الْأُخْرَی إِلَی أَجَلٍ مُسَمًّی إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ۔ (زمر: 42)

ترجمہ: اللہ ہی موت کے وقت روحوں کو قبض کرتا ہے اور جو ابھی نہیں مرا، اس کی روح بھی نیند کے دوران قبض کر لیتا ہے۔ پھر جس کی موت کا فیصلہ کر چکا ہوتا ہے، اس کی روح روک لیتا ہے اور دوسری روح کو ایک مقررہ وقت تک کے لیے واپس بھیج دیتا ہے۔ بے شک اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

اس آیت کی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں لفظ ’’وفات‘‘ کا استعمال طبعی موت تک محدود نہیں بلکہ موت کی تمام صورتوں کو شامل ہے۔ لہٰذا حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کے ساتھ آپ کے لیے لفظ ’’وفات‘‘ کا استعمال کسی قسم کا تعارض نہیں رکھتا کیونکہ اس لفظ میں ہر طرح کی موت شامل ہے۔

دوسری جانب، قدیم و جدید شیعہ اور اہل سنت علما کی کتابوں میں بھی لفظ ’’وفات‘‘ اپنے عمومی مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ شیعہ علما کے نزدیک اس لفظ کے استعمال کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ حضرت صدیقۂ طاہرہ سلام اللہ علیہا کی شہادت کے قائل نہیں ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ دیگر شخصیات کی شہادت کو یقینی تسلیم کرنے والے علما نے بھی ان کے لیے لفظ ’’وفات‘‘ استعمال کیا ہے۔ اس سلسلے میں چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں:

1۔ جعفر طیار اور زید بن حارثہ کے بارے میں شیخ صدوق کی روایت

شیخ صدوق نے حضرت جعفر بن ابی طالب اور زید بن حارثہ کی وفات کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچنے کے بارے میں روایت نقل کی ہے کہ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر تشریف لاتے تو ان دونوں کے فراق میں آپ کا گریہ شدت اختیار کر جاتا تھا۔ [ابن بابویہ، من لا یحضرہ الفقیہ، دفتر انتشارات اسلامی، جلد 1، صفحہ 177 / «إِنَّ النَّبِیَّ ص حِینَ جَاءَتْهُ وَفَاةُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ع- وَ زَیْدِ بْنِ حَارِثَةَ کَانَ إِذَا دَخَلَ بَیْتَهُ کَثُرَ بُکَاؤُهُ عَلَیْهِمَا جِدّاً وَ یَقُولُ کَانَا یُحَدِّثَانِی وَ یُؤَانِسَانِی فَذَهَبَا جَمِیعاً.»]

2۔ امام زین العابدین علیہ السلام کی ولادت کے بارے میں ابن شہر آشوب کا بیان

ابن شہر آشوب نے امام زین العابدین علیہ السلام کی تاریخِ ولادت بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آپ امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کی وفات (شہادت) سے دو سال قبل پیدا ہوئے تھے۔ [ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، نشر علامہ، جلد 4، صفحہ 175 / «... .قَبْلَ وَفَاةِ أَمِیرِالْمُؤْمِنِینَ بِسَنَتَیْنِ وَ ...»]

3۔ اہل سنت کی کتب میں شہید شخصیات کے لیے لفظ ’’وفات‘‘ کا استعمال

اہل سنت کی کتابوں میں بھی صدرِ اسلام کی دو عظیم شہید شخصیات "حضرت حمزہ، سید الشہدا اور حضرت جعفر طیار" کے لیے لفظ ’’وفات‘‘ استعمال ہوا ہے۔ [ابن ابی شیبہ، المصنف، مکتبۃ الرشد، جلد 3، صفحہ 62 اور جلد 7، صفحہ 414 / «لَمَّا أَتَتْ وَفَاةُ جَعْفَرٍ عَرَفْنَا فِی وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی‌اللهُ‌عَلَیْهِ‌وَسَلَّمَ الْحُزْنَ.»]

اب سوال یہ ہے کہ کیا محض حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے لیے لفظ ’’وفات‘‘ استعمال ہونے کی بنیاد پر یہ شبہہ اور اشکال پیدا کرنا درست ہے کہ آپ کی شہادت کا واقعہ حقیقت نہیں رکھتا؟

مذکورہ شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ لفظ ’’وفات‘‘ کا استعمال بذاتِ خود شہادت کی نفی نہیں کرتا۔ لہٰذا صرف اس لفظ کی بنیاد پر حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کے بارے میں شیعہ علما کے موقف پر اعتراض کرنا درست نہیں۔

ماخذ: پایگاه جامع فرق، ادیان و مذاہب (مذہبی فرقوں اور ادیان کے تقابلی مطالعے کا جامع مرکز)

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha