تحریر: سیدہ معصومہ زہرہ
مقدمہ
اس تحریر میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی فضیلت، مقام اور مرتبے کو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی بیٹی سے محبت کے نمایاں پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ آپ بحیثیتِ والد اپنی بیٹی کو کس قدر اہمیت اور فضیلت عطا فرماتے تھے اور ان کا کس قدر احترام کرتے تھے۔
حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کا تعارف
آپ سلام اللہ علیہا کا نام فاطمہ زہرا، جب کہ آپ کی کنیتوں میں ام الائمہ، ام ابیہا، ام الحسن اور ام الحسین شامل ہیں۔ آپ کے مشہور القابات میں زہرا، بتول، صدیقہ، کبریٰ، مبارکہ اور سیدۃ النساء شامل ہیں۔ آپ سید الانبیاء اور خاتم النبیین، رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دخترِ گرامی تھیں۔ آپ کی والدۂ ماجدہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علیہا، رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجۂ اول اور ایمان لانے والی پہلی خاتون تھیں۔
آپ کے شوہر شیرِ خدا، فاتحِ حیدر اور امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام تھے۔ آپ کی اولاد میں امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام، امام حسین سیدالشہداء علیہ السلام، حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا، حضرت ام کلثوم سلام اللہ علیہا اور حضرت محسن علیہ السلام شامل ہیں، جن کے بارے میں روایت ہے کہ وہ سقط ہو گئے تھے۔آپ سلام اللہ علیہا بعثت کے پانچویں سال مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں۔ آپ کی شہادت رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتقال کے بعد، 11 ہجری میں، 13 جمادی الاول یا 3 جمادی الثانی کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔
فضیلت
آپ کا نام فاطمہ اور کثرت سے استعمال ہونے والا لقب زہرا ہے۔ یہ لقب اکثر آپ کے نام کے ساتھ آتا ہے، یعنی فاطمہ زہرا۔ عربی لغت کے اعتبار سے لفظ فاطمہ، مادۂ «فطم» سے مشتق ہے، جس کے معنی کاٹنے، قطع کرنے اور جدا کرنے کے ہیں۔ اس صیغے میں، جو فاعل کے وزن پر ہے، مفعولی مفہوم پایا جاتا ہے؛ چنانچہ اس کے معنی کٹا ہوا، جدا شدہ یا علیحدہ کیا گیا کے ہیں۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کس چیز سے جدا ہیں؟ شیعہ اور سنی کتب میں ایک روایت ملتی ہے کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا اور ان کے پیروکار دوزخ کی آگ سے جدا ہیں۔ (علامہ محمد باقر مجلسی، بحار الانوار، جلد 43، ص 18)
اگر آپ کے لقب زہرا کے لغوی معنی پر غور کیا جائے تو اس کا مطلب درخشاں اور روشن ہے۔ یہ لقب ہر لحاظ سے آپ کی شان کے مطابق ہے۔ آپ ایک ایسی مسلمان خاتون ہیں جن کا درخشاں چہرہ، معرفت کی تابندہ روشنی، پرہیزگاری اور خدا پرستی کا روشن نمونہ ہے۔
آپ کی یہ درخشندگی کسی خاص یا معین دن تک محدود نہیں۔ جس دن سے آپ نے اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کی ادائیگی کا آغاز کیا، اسی دن سے لے کر آج تک آپ اسلامی تربیت کی پیشانی پر ایک درخشندہ گوہر کی مانند جلوہ گر ہیں۔
آپ کی پرورش اس گھر میں ہوئی جو فرشتوں کی آماج گاہ اور مرکزِ وحی تھا۔ بی بی سلام اللہ علیہا کی فضیلت کے لیے یہی کافی ہے کہ آپ آغوشِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں پروان چڑھیں۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کے احترام میں اپنی جگہ سے کھڑے ہو جایا کرتے تھے۔
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ فاطمہ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں۔ یہ روایت اہلِ سنت کی معتبر ترین کتب، صحیح بخاری اور صحیح مسلم، میں بھی ملتی ہے۔ اس کے علاوہ اہلِ تشیع کی کتب میں بھی آپ کی فضیلت کا ذکر موجود ہے۔ (علامہ محمد باقر مجلسی، بحار الانوار، جلد 43، ص 19-20؛ ڈاکٹر سید جعفر شہیدی، حیاتِ فاطمہ، ص 44-45)
حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کلامِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی نورانی زندگی کو جو چیز مزید عظمت عطا کرتی ہے، وہ حضرت مرسلِ اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے پناہ محبت اور شفقت ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے اس قدر محبت فرماتے تھے کہ اس کی کوئی حد و انتہا نہیں تھی۔
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں قرآنِ مجید میں ارشاد ہوتا ہے:وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ۔ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ
ترجمہ: ’’اور وہ اپنی خواہش سے کچھ نہیں بولتے، یہ تو صرف وحی ہے جو ان پر کی جاتی ہے۔‘‘ (سورۂ نجم، آیات 3-4)
اس آیت کو مدنظر رکھتے ہوئے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی متعدد احادیث ملتی ہیں، جن میں بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی فضیلت اور عظمت بیان کی گئی ہے۔ ان احادیث سے آپ کے مقام و مرتبے اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہ میں آپ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ (مجلسِ مصنفین، ادارہ درۂ حق، قم، ایران، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا)
ام ابیہا
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا ایک لقب ’’ام ابیہا‘‘ بھی تھا، جو آپ کے والدِ گرامی رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو عطا فرمایا۔حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا اور حضرت ابوطالب علیہ السلام کی وفات کے بعد رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غم و اندوہ کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ آپ کی غم گسار زوجہ اور حوصلہ بڑھانے والے سرپرست اس دنیا سے رخصت ہو چکے تھے، جس کے باعث آپ کو تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تنہائی کا تجربہ اس سے پہلے بھی ہو چکا تھا۔ بے شک آپ کا دل عشقِ خدا سے سرشار تھا، لیکن آپ انسان بھی تھے۔ جس طرح آپ بھوک محسوس کرتے تھے، اسی طرح آپ کو محبت اور شفقت کی ضرورت بھی محسوس ہو سکتی تھی۔
چنانچہ جب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو محبت اور شفقت کی آغوش کی ضرورت ہوتی تو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا انتہائی خلوص، مہربانی اور محبت کے ساتھ اپنے والدِ گرامی کی زندگی پر شفقت کا سایہ پھیلا دیتی تھیں۔ اپنے مشن اور ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو زخم پہنچتے، حضرت زہرا سلام اللہ علیہا ان کے لیے مرہم بن جاتیں۔ یہاں تک کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو محسوس ہونے لگتا کہ گویا ان کی مادرِ گرامی دوبارہ زندہ ہو گئی ہیں۔ اسی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیٹی کو ’’ام ابیہا‘‘ کے لقب سے نوازا۔
جب ہم حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے ام ابیہا ہونے پر گفتگو کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ اپنے والد کا دل و جان کی گہرائیوں سے خیال رکھتی تھیں، تو بعض لوگ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ گویا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت کے کسی کمزور پہلو پر گفتگو کر رہے ہیں۔
ان حضرات کے جواب میں عرض ہے کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھوکا رہنا اور شعبِ ابی طالب میں اپنے پیٹ پر پتھر باندھنا آپ کے مقام و عصمت کے منافی ہے؟ کیا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا محبت محسوس کرنا اور پیاس بجھانے کے لیے پانی نوش کرنا آپ کے مقام و عصمت کے منافی ہے؟ اسی طرح محبت کی ضرورت محسوس کرنا، جذباتی آسودگی چاہنا اور محبت و شفقت سے سکون حاصل کرنا بھی انسانی فطرت کا حصہ ہے۔
بعض لوگ خداوندِ عالم کی طرف سے تائید شدہ ان مفاہیم کو پوری طرح نہیں سمجھ پاتے کہ خداوندِ عالم نے ہمیں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتہائی دردمندانہ احساسات سے آگاہ کیا ہے، جن کا سرچشمہ آپ کی کامل انسانیت ہے۔
’’ام ابیہا‘‘ کا لقب پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے درمیان پائے جانے والے گہرے تعلق کی ترجمانی کرتا ہے، جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات تک برقرار رہا۔ (آیت اللہ سید محمد حسین فضل اللہ، رازِ طہارت، ص 9-10)
فاطمہ میرا ٹکڑا
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:«فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي، يُؤْذِينِي مَا آذَاهَا»
ترجمہ: ’’فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے؛ جو چیز اسے تکلیف دیتی ہے، وہ مجھے تکلیف دیتی ہے۔‘‘ (صحیح البخاری، حدیث 3714؛ صحیح مسلم، حدیث 2449)
اس فرمان سے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے مقام و مرتبے اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آپ کے گہرے تعلق کا اظہار ہوتا ہے۔اس روایت کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجودِ مبارک سے گہرا تعلق رکھتی تھیں۔ جس طرح رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طہارت و صداقت کے پیکر تھے، اسی طرح حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا بھی طہارت و صداقت کا نمونہ تھیں۔ آپ کو صدیقہ اور طاہرہ جیسے القابات سے یاد کیا جاتا ہے، جو آپ کی عظمت اور پاکیزگی کو ظاہر کرتے ہیں۔
اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم پر لازم ہے کہ ہر لحاظ سے بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا احترام کریں۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان محض ایک جذباتی تعلق کا اظہار نہیں، بلکہ آپ کی بیٹی کے مقام و مرتبے اور ان کے احترام کی اہمیت کو بھی واضح کرتا ہے۔
قرآنِ مجید میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں ارشاد ہے کہ آپ اپنی خواہشِ نفس سے کلام نہیں کرتے، بلکہ آپ کا کلام وحیِ الٰہی کے تابع ہے۔ اس تناظر میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی فضیلت بیان کرنے والی احادیث آپ کے بلند مقام کی اہمیت کو نمایاں کرتی ہیں۔
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے اس قدر محبت فرماتے تھے کہ جب آپ کسی سفر پر تشریف لے جاتے تو سب سے آخر میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے رخصت ہوتے، اور جب واپس تشریف لاتے تو سب سے پہلے انہی سے ملاقات فرماتے تھے۔ (علامہ محمد باقر مجلسی، بحار الانوار، 1983ء، جلد 43، ص 439؛ علی بن عیسیٰ اربلی، کشف الغمہ، جلد 2، ص 4؛ محمد بن علی بن شہر آشوب مازندرانی، مناقب آل ابی طالب، جلد 3، ص 113)
فاطمہ آنکھوں کی ٹھنڈک
اسی طرح رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو اپنی آنکھوں کا نور اور آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیتے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اپنے بابا کے لیے سکون، خوشی اور قلبی اطمینان کا باعث تھیں۔
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے:«وَهِيَ نُورُ عَيْنِي»
ترجمہ: ’’وہ میری آنکھوں کا نور ہے۔‘‘ (علامہ محمد باقر مجلسی، بحار الانوار، جلد 43، ص 54)
یہ روایت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت اور مقام کو ظاہر کرتی ہے۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو اپنے وجود کا حصہ اور اپنی آنکھوں کا نور قرار دیا، جو آپ سے بے پناہ محبت اور قلبی وابستگی کی علامت ہے۔
فاطمہ میوہ دل
اگر رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہ میں بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مزید فضیلت کا جائزہ لیا جائے تو ایک اور مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے:«فَاطِمَةُ ثَمَرَةُ فُؤَادِي»
ترجمہ: ’’فاطمہ میرے دل کا پھل ہے۔‘‘ (علامہ محمد باقر مجلسی، بحار الانوار، جلد 43، ص 54)
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان احادیث اور روایات سے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی فضیلت، عظمت اور آپ سے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرامین کو مدنظر رکھتے ہوئے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت پر عمل کریں اور ان کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
خلاصہ
اس مضمون میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے مختصر تعارف کے بعد رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہ میں آپ کی عظمت، فضیلت اور مقام و مرتبے کو بیان کیا گیا ہے۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے بے پناہ محبت فرماتے تھے۔ کبھی آپ کے بارے میں ارشاد فرماتے کہ فاطمہ میری آنکھوں کا نور ہیں، اور کبھی انہیں اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیتے تھے۔اسی طرح رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے کہ جس نے فاطمہ کو ناراض کیا، اس نے مجھے ناراض کیا، اور جس نے مجھے ناراض کیا، اس نے خدا کو ناراض کیا۔ اسی طرح حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی رضا اور خوشنودی کو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضا اور خوشنودی سے وابستہ قرار دیا گیا ہے۔رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا اس قدر احترام فرماتے تھے کہ جب بھی آپ تشریف لاتیں تو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے استقبال کے لیے کھڑے ہو جاتے، آگے بڑھ کر ان کا استقبال فرماتے، انہیں بوسہ دیتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے تھے۔جس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہم حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت، کردار، تقویٰ، طہارت اور تعلیمات کو سمجھیں اور اپنی زندگیوں میں ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔
حوالہ جات:
1. قرآنِ مجید
2. مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، 1983ء
3. اربلی، علی بن عیسیٰ، کشف الغمہ، 1962ء
4. مازندرانی، محمد بن علی بن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، 1956ء
5. امینی، ابراہیم، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا: مثالی خاتون، 2021ء
6. فضل اللہ، آیت اللہ سید محمد حسین، رازِ طہارت، 2000ء کے بعد
7. شہیدی، ڈاکٹر سید جعفر، حیاتِ فاطمہ، 2004ء
8. مسعودی، علی بن حسین، اثبات الوصایہ، 1404ھ
9. مجلسِ مصنفین، ادارہ درۂ حق، قم، ایران، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، تاریخِ اشاعت: اپریل 1992ء، مطابق 1412ھ
10. نیشاپوری، مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، 250ھ
11. بخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح البخاری، 232ھ










آپ کا تبصرہ