تحریر: محدثہ بتول
حوزہ نیوز ایجنسی|
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قرآنِ کریم نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت کو متعدد آیات میں بیان کیا ہے۔ ان آیات کی تفسیر ایامِ فاطمیہ کے فلسفے کو سمجھنے میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
۱۔ آیتِ تطہیر
﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾[سورۃ الاحزاب: ۳۳]
تفسیر: علامہ طباطبائی اپنی تفسیر المیزان فی تفسیر القرآن، جلد ۱۶، صفحہ ۳۰۹ میں بیان کرتے ہیں کہ لفظ «تَطْهِيرًا» میں تاکید پائی جاتی ہے اور یہ مفعولِ مطلق ہے۔ اس سے ایسی کامل طہارت مراد ہے جو ہر قسم کی ظاہری و باطنی آلودگی، شرک، جہالت اور گناہ سے پاکیزگی کو ظاہر کرتی ہے۔ جس ہستی کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح پاکیزگی عطا فرمائی ہو، اس پر ظلم کرنا اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ طہارت کے مقابل کھڑے ہونے کے مترادف ہے۔ ایامِ فاطمیہ اسی ظلم کی یاد تازہ کرتے ہیں۔
۲۔ آیتِ مودّت
﴿قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ﴾
[سورۃ الشوریٰ: ۲۳]
تفسیر: امام شافعی، امام احمد بن حنبل کی مسند اور ثعلبی کی کتاب الکشف والبیان میں نقل کیا گیا ہے کہ قرابت داروں سے مراد حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین علیہم السلام ہیں۔ اس طرح رسالت کا اجر اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت و مودّت قرار پاتا ہے۔ ایامِ فاطمیہ میں اہلِ بیت علیہم السلام سے مودّت کے تقاضوں کو پامال کیے جانے کا واقعہ یاد کیا جاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
«فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي، فَمَنْ آذَاهَا فَقَدْ آذَانِي»
[صحیح البخاری، کتاب المناقب؛ صحیح مسلم]
ترجمہ: فاطمہ میرے وجود کا حصہ ہیں؛ جس نے انہیں اذیت دی، اس نے مجھے اذیت دی۔
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو اذیت دینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذیت دینے کے مترادف ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
﴿إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ﴾[سورۃ الاحزاب: ۵۷]
ترجمہ: بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں، اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت فرمائی ہے۔
۳۔ سورۃ الدہر (الانسان)
﴿وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا﴾[سورۃ الدہر: ۸]
شانِ نزول: شیخ طوسی کی کتاب الامالی، شیخ طبرسی کی مجمع البیان، جلد ۱۰، اور سیوطی کی الدر المنثور، جلد ۶ میں اس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں نقل کیا گیا ہے کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب حضرت علی اور حضرت فاطمہ علیہما السلام نے مسلسل تین دن خود بھوکا رہ کر اپنا افطار مسکین، یتیم اور اسیر کو پیش کیا۔
اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ گھرانۂ فاطمی ایثار و قربانی کا گھرانہ ہے۔ اسی تناظر میں فدک کے مطالبے کو محض دنیاوی مال کے حصول کے بجائے نظامِ ولایت کے معاشی استحکام سے متعلق مطالبے کے طور پر بھی بیان کیا جاتا ہے۔
ایامِ فاطمیہ کی تاریخ: فاطمیہ اوّل اور فاطمیہ دوم
شیخ مفید اپنی کتاب مسار الشیعہ، صفحہ ۵۴ میں لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شہادت ۲۸ صفر کو ہوئی۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اس کے بعد ۷۵ دن زندہ رہیں اور پھر شہادت پائی۔ اس حساب سے ۱۳، ۱۴ اور ۱۵ جمادی الاوّل کے ایام بنتے ہیں، جنہیں فاطمیہ اوّل کہا جاتا ہے۔
دوسری روایت الکافی، جلد ۱، صفحہ ۴۵۸، اور دلائل الامامہ، صفحہ ۴۵ میں نقل ہوئی ہے، جس کے مطابق حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ۹۵ دن زندہ رہیں۔ اس حساب سے ۳ جمادی الثانی کا دن بنتا ہے، جسے فاطمیہ دوم کہا جاتا ہے۔ یہ روایت ایران اور عراق کے دینی علمی مراکز میں مشہور ہے اور مراجعِ کرام کے ہاں معتبر سمجھی جاتی ہے۔ اسی بنا پر ۱۳ جمادی الاوّل سے ۳ جمادی الثانی تک کے بیس دن ایامِ فاطمیہ کے عنوان سے یاد کیے جاتے ہیں۔
امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب ایک قول میں بیان کیا گیا ہے:’’ہمارا غم دو ماہ یا دو صدیوں تک محدود نہیں، بلکہ ہم ہمیشہ فاطمی ہیں، کیونکہ فاطمہ حق و باطل کا معیار ہیں۔‘‘[صحیفۂ نور، جلد ۱۹، صفحہ ۲۷۸]
فاطمیہ کے بنیادی واقعات
۱۔ درِ زہرا سلام اللہ علیہا پر حملہ
علامہ مجلسی بحار الانوار، جلد ۳۰، صفحہ ۳۴۸ میں اس واقعے سے متعلق روایات نقل کرتے ہیں۔ اس واقعے کو محض لکڑی کے دروازے پر حملہ نہیں، بلکہ گھرِ وحی پر حملے کے طور پر بھی بیان کیا جاتا ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:﴿فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ﴾
[سورۃ النور: ۳۶]ترجمہ: ان گھروں میں جن کے بلند کیے جانے اور جن میں اللہ کے نام کا ذکر کیے جانے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔
ابن عباس سے منقول روایت کے مطابق، ان گھروں میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا گھر بھی شامل ہے۔
۲۔ خطبۂ فدکیہ: حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی زبان سے قرآن کی تفسیر
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے مسجد میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا:﴿أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْمًا﴾[سورۃ المائدہ: ۵۰]
ترجمہ: کیا یہ لوگ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں؟ اور یقین رکھنے والوں کے لیے اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کون ہے؟
آپ سلام اللہ علیہا نے اپنے خطبے میں احکامِ الٰہی کے فلسفے اور حکمت کو بیان کیا۔ یہ خطبہ آج کی طالبات کے لیے فقہ، فلسفے اور دینی بصیرت کا ایک اہم درس ہے۔[بلاغات النساء، ابن طیفور، صفحات ۱۲ تا ۲۶]
۳۔ رات کے وقت تدفین کی وصیت
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے وصیت فرمائی کہ آپ کو رات کے وقت دفن کیا جائے۔ شیخ عباس قمی کی کتاب بیت الاحزان، صفحہ ۱۷۶ میں اس موضوع سے متعلق بیان موجود ہے۔ اس وصیت کو اس تاریخی حقیقت کی یاد دہانی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دخترِ گرامی دنیا سے رخصت ہوئیں تو ان کی ناراضی کا معاملہ بھی تاریخ کا حصہ بنا۔
آج بھی آپ سلام اللہ علیہا کی قبرِ مبارک کا مخفی ہونا مختلف ادوار میں ظلم کے خلاف احتجاج کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
عصرِ حاضر میں ایامِ فاطمیہ کا پیغام
رہبرِ معظم نے ایک بیان میں فرمایا:فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا صرف تاریخ کا ایک باب نہیں، بلکہ ایک مکتب ہیں۔ آج کی نوجوان عورت کو فاطمی بصیرت پیدا کرنی چاہیے۔[بیاناتِ رہبری در ایامِ فاطمیہ، ۱۳۹۵ شمسی]
۱۔ علمی بصیرت
جس طرح حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے فدک کے معاملے میں دلائل کے ساتھ اپنا مؤقف پیش کیا، اسی طرح آج کی طالبہ کو بھی سماجی ذرائع ابلاغ پر اپنی بات دلیل اور علمی بصیرت کے ساتھ پیش کرنی چاہیے۔
۲۔ عفت و حجاب پر استقامت
علامہ طباطبائی نے المیزان، جلد ۱۶، میں آیتِ قرآنی ﴿وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ﴾ [سورۃ الاحزاب: ۳۳] کی تفسیر میں تبرّج کو زیب و زینت کی نمائش کے مفہوم میں بیان کیا ہے۔
فاطمی حجاب کو جاہلی طرزِ فکر کے مقابلے میں پاکیزگی، عفت اور اسلامی تہذیب کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
۳۔ اتحاد اور ولایت
گلگت بلتستان میں شیعہ سنی اختلافات اور فساد کو ہوا دینے والی سوچوں کے مقابلے میں اتحاد و یکجہتی کی ضرورت ہے۔ فاطمی طالبہ کو چاہیے کہ وہ قرآنِ کریم کے اس فرمان پر عمل کرتے ہوئے اتحاد کی محافظ بنے:﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا﴾[سورۃ آل عمران: ۱۰۳] ترجمہ: اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔
ایامِ فاطمیہ منانا کیوں ضروری ہے؟
ایامِ فاطمیہ منانا صرف گریہ و ماتم تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک فکری اور عملی پیغام بھی ہے:
- ہم اس مکتب سے تعلق رکھتے ہیں جہاں بیٹی کو رحمت سمجھا جاتا ہے، بوجھ نہیں۔
- ہم اس مکتب کے پیروکار ہیں جہاں عورت مسجد میں کھڑے ہو کر حق کی بات اور دینی تعلیمات بیان کر سکتی ہے۔
- ہم اس مکتب سے وابستہ ہیں جہاں ظلم کے سامنے خاموش رہنے کے بجائے حق کا دفاع کرنے کی تعلیم دی جاتی ہے۔
اے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا! ہماری شفاعت فرمائیے اور ہمیں اپنی کنیزوں میں شمار ہونے کا شرف عطا ہو۔
حوالہ جات:
۱۔ المیزان فی تفسیر القرآن، علامہ محمد حسین طباطبائی، جلد ۱۶ اور ۲۰۔
۲۔ مجمع البیان فی تفسیر القرآن، شیخ طبرسی، جلد ۸ اور ۱۰۔
۳۔ الدر المنثور، جلال الدین سیوطی، جلد ۶۔
۴۔ بحار الانوار، علامہ محمد باقر مجلسی، جلد ۲۹، ۳۰ اور ۴۳۔
۵۔ بیت الاحزان فی مصائب سیدۃ النسوان، شیخ عباس قمی۔
۶۔ مسار الشیعہ، شیخ مفید۔
۷۔ الکافی، شیخ کلینی، جلد ۱۔
۸۔ بلاغات النساء، ابن طیفور۔
۹۔ صحیح البخاری، کتاب المناقب، باب فضل فاطمہ۔
۱۰۔ صحیفۂ نور، امام خمینی، جلد ۱۹۔
۱۱۔ بیاناتِ رہبری در جمعِ بانوان و در ایامِ فاطمیہ، ۱۳۹۵ تا ۱۴۰۲ شمسی۔










آپ کا تبصرہ