حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام والمسلمین نظری منفرد نے قم میں حسینیہ مرحوم آیت اللہ العظمیٰ فاضل لنکرانی میں ایام فاطمیہ اول کی پہلی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی احسان مند ہے۔ اگر آپؑ نے قربانیاں نہ دی ہوتیں تو معلوم نہیں آج ہماری صورت حال کیا ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد کے حساس حالات میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا کردار بہت نمایاں اور اہم ہے۔ آپؑ نے حق اور باطل کے درمیان فرق واضح کیا۔
حوزہ علمیہ قم کے اس استاد نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ناراضگی سے ناراض اور آپؑ کی خوشنودی سے خوشنود ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؑ حق و باطل کی پہچان کا معیار ہیں
انہوں نے مزید کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد بہت سے لوگ امتحان میں ناکام ہوئے۔ دنیا کی محبت ہی وہ بنیادی وجہ تھی جس نے معاشرے کے اہم افراد اور عام لوگوں کو حق کے راستے سے منحرف کیا۔ شبث بن ربعی اس کی ایک مثال ہے، جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی تھے، لیکن بعد میں انحراف کا شکار ہوئے اور واقعۂ کربلا میں بڑے جرائم کا ارتکاب کیا۔
حجۃ الاسلام والمسلمین نظری منفرد نے کہا کہ لوگوں کا بار بار اپنا موقف بدلنا ان کے عقیدے کی کمزوری کی علامت ہے۔ اگر کسی کا ایمان مضبوط اور عقیدہ درست ہو تو وہ اس طرح اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹتا۔ روایات میں ایسے لوگوں کا ذکر ملتا ہے جن کا ایمان عارضی ہوتا ہے اور دل میں گہرائی تک نہیں اترا ہوتا، جبکہ اس کے برعکس بعض افراد کا ایمان ان کے وجود میں راسخ ہوتا ہے۔ امام حسین علیہ السلام کے اصحاب کی ثابت قدمی ان کے مضبوط ایمان کا نتیجہ تھی۔
انہوں نے نوجوانوں کے ایمان کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج ہمارے معاشرے کا ایک بڑا مسئلہ ایمان اور عقیدے کی کمزوری ہے۔ اگر نوجوانوں کا ایمان مضبوط اور عقائد درست نہ ہوں تو سوشل میڈیا کے موجودہ ماحول میں ان کے بھٹکنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
انہوں نے صدر اسلام کے بعض اہم افراد کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ زبیر ابتدا میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے حامی تھے، لیکن بعد میں جنگ جمل میں آپؑ کے مقابل آکر لڑے۔
واضح رہے کہ قم میں حسینیہ مرحوم آیت اللہ العظمیٰ فاضل لنکرانی میں ایام فاطمیہ کی مجالس کا آغاز جمعرات سے ہوا ہے۔ یہ مجالس پانچ روز تک روزانہ شام چار بجے منعقد ہوں گی۔










آپ کا تبصرہ