اتوار 11 اکتوبر 2026 - 19:35
کراچی میں کتاب ’’ڈھائی سو سالہ انسان‘‘ کے موضوع پر علمی نشست؛ حضرت فاطمہ زہرا (س) کی سیاسی و مجاہدانہ زندگی کے مختلف پہلوؤں پر درس

حوزہ/ کراچی میں اصلاحِ اُمت انسٹیٹیوٹ اور مدرسہ خیر العمل شہدائے کربلا کے زیرِ اہتمام کتاب ’’ڈھائی سو سالہ انسان‘‘ کے سلسلے میں اہم علمی نشست منعقد ہوئی، جس میں مولانا نوید تقوی نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیاسی و مجاہدانہ زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کراچی/ اصلاحِ اُمت انسٹیٹیوٹ اور مدرسہ خیر العمل شہدائے کربلا کے زیرِ اہتمام کتاب ’’ڈھائی سو سالہ انسان‘‘ کی ساتویں نشست منعقد ہوئی، جس میں مولانا نوید تقوی (قم المقدسہ) نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیاسی و مجاہدانہ زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ نشست میں طلبہ و طالبات نے شرکت کی، جبکہ خواہر روزینہ جبین اور خواہر شہلا رضوی نے بھی کتاب کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔

رپورٹ کے مطابق، نشست کا آغاز قاری زمان کاظمی کی تلاوتِ قرآن کریم سے ہوا، جس کے بعد کتاب ’’ڈھائی سو سالہ انسان‘‘ کے موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ مولانا نوید تقوی نے اپنے درس میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی، ان کی جدوجہد اور اسلام کے دفاع میں ان کے تاریخی کردار کو بیان کیا۔

انہوں نے سورۂ کوثر کی آیتِ مبارکہ ’’اِنَّا اَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے خیرِ کثیر کے مفہوم اور اس کی تفسیر میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے مقام کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ آپؑ کی زندگی صرف گھریلو ذمہ داریوں تک محدود نہیں تھی، بلکہ آپؑ نے اسلام کی حفاظت، حق کی حمایت اور دینی و سیاسی شعور کی بیداری میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

مولانا نوید تقوی نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیاسی اور مجاہدانہ زندگی کے مختلف مراحل کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آپؑ نے مکہ کے دور میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوتِ اسلام کے دوران پیش آنے والی مشکلات کے ماحول میں تربیت پائی اور مدینہ میں حضرت علی علیہ السلام کی مجاہدانہ زندگی میں بھرپور ساتھ دیا۔

انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی حالات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے ان حالات کو سمجھتے ہوئے اپنے موقف کا واضح اظہار کیا اور خطبۂ فدک سمیت اپنے خطابات کے ذریعے اسلام، نبوت اور امامت کے دفاع میں اہم کردار ادا کیا۔ آپؑ نے ان خطابات کے ذریعے لوگوں کو دینی و سیاسی حقائق سے آگاہ کیا اور حق و حقیقت کی وضاحت فرمائی۔

انہوں نے مزید کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ گھریلو ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ساتھ معاشرتی اور دینی فرائض سے بھی غافل نہیں ہونا چاہیے۔ آپؑ نے مختصر زندگی کے باوجود حق کے دفاع میں صبر، استقامت اور فداکاری کا ایسا نمونہ پیش کیا جس کے اثرات اسلامی تاریخ پر گہرے اور دیرپا ثابت ہوئے۔

نشست کے اختتام پر شرکاء نے اس علمی و تربیتی پروگرام میں دلچسپی کا اظہار کیا اور کتاب ’’ڈھائی سو سالہ انسان‘‘ کے موضوع پر اس طرح کی مزید نشستوں کے انعقاد کی ضرورت پر زور دیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha