جمعہ 23 اکتوبر 2026 - 17:48
حضرت فاطمہ زہراؑ نے صبر، پاکدامنی، خدمتِ خلق اور باطل کے خلاف آواز بلند کرنے کا عملی درس دیا؛ مولانا سید تابش حسن خراسانی

حوزہ/ مولانا سید تابش حسن نے کلیان، تھانے (ممبئی) میں خطبۂ جمعہ کے دوران سیرت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو پوری انسانیت کے لیے عملی نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپؑ نے صبر و شکر، پاکدامنی، خدمتِ خلق اور حق و صداقت کے دفاع کا درس دیا اور واضح کیا کہ اہل بیتؑ سے حقیقی وابستگی ان کی تعلیمات پر عمل اور باطل قوتوں کے مقابلے میں حق کا ساتھ دینے سے ثابت ہوتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کلیان-تھانہ/ مولانا سید تابش حسن خراسانی نے کلیان، تھانے (ممبئی) میں خطبۂ جمعہ کے دوران سیرت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آپؑ کی حیاتِ مبارکہ پوری انسانیت کے لیے ہدایت اور رہنمائی کا روشن نمونہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنے کردار و عمل سے صبر و شکر، پاکدامنی، ایثار، خدمتِ خلق اور باطل طاقتوں کے مقابلے میں حق کی حمایت کا عملی درس دیا۔

مولانا سید تابش حسن نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ حقیقی عظمت مال و دولت یا اقتدار میں نہیں، بلکہ پاکیزہ کردار، بلند اخلاق اور رضائے الٰہی کے حصول میں ہے۔ آپؑ نے اپنی زندگی کے ذریعے ثابت کیا کہ انسان کی قدر و منزلت اس کے اخلاق، کردار اور دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک سے متعین ہوتی ہے۔

انہوں نے خدمتِ خلق کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے بھوکوں کو کھانا کھلا کر، ضرورت مندوں کی مدد کرکے اور سادگی و عبادت سے آراستہ زندگی گزار کر ایثار و اخلاص کی بے مثال مثال قائم کی۔ آپؑ کی سیرت اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ دوسروں کی ضروریات کا خیال رکھنا اور معاشرے کے کمزور طبقات کی مدد کرنا دینی و اخلاقی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

مولانا سید تابش حسن نے حق و باطل کے درمیان امتیاز اور حق گوئی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے باطل قوتوں کے سامنے کلمۂ حق بلند کرکے یہ پیغام دیا کہ ظلم کے مقابلے میں خاموشی اختیار کرنا حق کی حمایت نہیں ہے۔ حق و صداقت کا دفاع، عدل کی حمایت اور باطل کے خلاف آواز بلند کرنا ہر باضمیر انسان کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے منقول ایک روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپؑ نے اپنے پیروکاروں کے لیے اطاعتِ الٰہی اور دینی احکام کی پابندی کو بنیادی معیار قرار دیا ہے۔ روایت کے مطابق، آپؑ نے فرمایا کہ اگر تم ان باتوں پر عمل کرو جن کا ہم تمہیں حکم دیتے ہیں اور ان امور سے پرہیز کرو جن سے ہم تمہیں روکتے ہیں تو تم ہمارے شیعوں میں شمار ہوگے، ورنہ نہیں۔

مولانا سید تابش حسن نے اس روایت کی روشنی میں اس بات پر زور دیا کہ اہل بیت علیہم السلام سے محبت کا حقیقی تقاضا ان کی تعلیمات پر عمل کرنا، اخلاق و کردار کو سنوارنا اور اپنی زندگی کو دینی اصولوں کے مطابق ڈھالنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت آج بھی انسانیت کو صبر و استقامت، شکر و بندگی، پاکیزگی، خدمتِ خلق اور حق کی حمایت کا درس دیتی ہے، اور ان تعلیمات کو عملی زندگی میں اپنانا ہی آپؑ کی سیرت سے حقیقی استفادے کی علامت ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha