ترجمہ و ترتیب: مولانا سید علی ہاشم عابدی
حوزہ نیوز ایجنسی | رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شہادت کے بعد حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مختصر حیاتِ مبارکہ شدید مصائب اور رنج و آلام سے گزری۔ شیعہ روایات میں ان واقعات کو بالخصوص امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کے حقِ امامت و ولایت کے دفاع اور آپ کے ساتھ پیش آنے والے حالات کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔
شیعہ علماء نے ابتدائی صدیوں ہی سے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے مصائب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد پیش آنے والے واقعات کو اپنے حدیثی، تاریخی، کلامی اور دیگر علمی آثار میں نقل کیا ہے۔ مختلف ادوار سے تعلق رکھنے والے متعدد علماء کی تحریروں میں ان واقعات کے مختلف پہلوؤں کا ذکر ملتا ہے۔ اس طرح یہ موضوع شیعہ علمی روایت میں ایک طویل تاریخی تسلسل کے ساتھ سامنے آتا ہے۔
ذیل میں مختلف صدیوں سے تعلق رکھنے والے بعض معروف شیعہ علماء رضوان اللہ تعالیٰ علیہم کی عبارات پیش کی جارہی ہیں، جن سے اس موضوع کے قدیم اور مسلسل علمی پس منظر کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
1۔ شیخ نعمانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ
جناب محمد بن ابراہیم نعمانی، المعروف ابن ابی زینب رضوان اللہ تعالیٰ علیہ (متوفی 360ھ) حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پر گزرنے والی مصیبت کی شدت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "فلو لم يكن في الإسلام مصيبة … إلا ما لحق فاطمة عليها السلام حتى مضت غضبى على أمة أبيها، ودعاها ما فعل بها إلى الوصية بأن لا يصلي عليها أحد منهم، لكان عظيماً." یعنی ’’اگر اسلام میں کوئی اور مصیبت نہ بھی ہوتی، سوائے اس مصیبت کے جو حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا پر گزری، یہاں تک کہ وہ اپنے والد کی امت سے ناراض ہو کر دنیا سے رخصت ہوئیں، اور ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات نے انہیں یہ وصیت کرنے پر آمادہ کیا کہ ان لوگوں میں سے کوئی بھی ان پر نماز نہ پڑھے، تو بھی یہ ایک عظیم اور سنگین معاملہ تھا۔‘‘(محمد بن ابراہیم بن جعفر، المعروف ابن ابی زینب نعمانیؒ، الغیبۃ، ص 55، تحقیق: فارس حسون کریم، ناشر: انوار الہدیٰ، قم، چاپ اول، 1422ھ۔)
2۔ شیخ صدوق رضوان اللہ تعالیٰ علیہ
جناب ابوجعفر محمد بن علی بن الحسین، معروف بہ شیخ صدوق رضوان اللہ تعالیٰ علیہ (متوفیٰ 381ھ)، حضرت محسن علیہ السلام کے سقط ہونے کے واقعہ کے ضمن میں لکھتے ہیں: "هو (المحسن) السقط الذي ألقته فاطمة عليها السلام لما ضغطت بين البابين." یعنی وہ محسن ہیں، جو حضرت فاطمہسلام اللہ علیہا کے وہ سقط شدہ فرزند ہیں، جنہیں آپؑ نے اس وقت حمل سے کھو دیا، جب آپؑ کو دونوں دروازوں کے درمیان دبایا گیا۔(شیخ صدوقؒ، معانی الأخبار، ص 206، ناشر: جامعہ مدرسین، قم، چاپ اول، 1403ھ۔)
شیخ صدوقؒ نے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کے ضمن میں آپ کو ’’صدیقہ، شہیدہ‘‘ اور ’’مظلومہ‘‘ کے الفاظ سے بھی یاد کیا ہے: "السَّلَامُ عَلَيْكِ يَا بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ … السَّلَامُ عَلَيْكِ أَيَّتُهَا الصِّدِّيقَةُ الشَّهِيدَةُ … السَّلَامُ عَلَيْكِ أَيَّتُهَا الْمَظْلُومَةُ الْمَغْصُوبَةُ، السَّلَامُ عَلَيْكِ أَيَّتُهَا الْمُضْطَهَدَةُ الْمَقْهُورَةُ." یعنی ’’سلام ہو آپ پر، اے رسول اللہ کی بیٹی! … سلام ہو آپ پر، اے صدیقہ، شہیدہ! … سلام ہو آپ پر، اے مظلومہ، اے غصب شدہ حق والی! سلام ہو آپ پر، اے ستم رسیدہ اور مقہورہ!‘‘(شیخ صدوقؒ، من لا یحضره الفقیه، ج 2، ص 573، تحقیق: علی اکبر غفاری، ناشر: جامعہ مدرسین حوزۂ علمیہ قم۔)
3۔ شیخ مفید رضوان اللہ تعالیٰ علیہ
جناب محمد بن محمد بن نعمان، معروف بہ شیخ مفید رضوان اللہ تعالیٰ علیہ (متوفیٰ 413ھ)، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زیارت کے بیان میں آپ کو ’’بتولِ شہیدہ‘‘ کے عنوان سے یاد کرتے ہیں: "فَإِذَا أَرَدْتَ زِيَارَتَهَا فَقِفْ بِالرَّوْضَةِ وَقُلْ: السَّلَامُ عَلَيْكِ … يَا سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ، أَيَّتُهَا الْبَتُولُ الشَّهِيدَةُ" یعنی ’’جب تم ان کی زیارت کا ارادہ کرو تو روضۂ رسول پر کھڑے ہو کر کہو: سلام ہو آپ پر … اے تمام عالم کی عورتوں کی سردار! اے بتولِ شہیدہ!‘‘(شیخ مفیدؒ، کتاب المزار، مناسک المزار، ص 179، تحقیق: آیت اللہ سید محمد باقر ابطحی، ناشر: دار المفید للطباعة والنشر والتوزیع، بیروت، چاپ دوم، 1414ھ)
4۔ سید مرتضیٰ علم الہدیٰ رضوان اللہ تعالیٰ علیہ
جناب سید مرتضیٰ رضوان اللہ تعالیٰ علیہ (متوفیٰ 436ھ) پانچویں صدی ہجری کے معروف شیعہ عالم و متکلم تھے۔ انہوں نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر کے دروازے کو جلانے کی دھمکی سے متعلق ایک روایت نقل کی اور اس کے متعدد طرق سے منقول ہونے کا ذکر کیا۔ وہ لکھتے ہیں: "هذا الخبر (فقالت (فاطمة): يا ابن الخطاب، أتراك محرقاً عليَّ بابي؟ قال: نعم …) قد روته الشيعة من طرق كثيرة … وأيُّ اختيارٍ لمن يُحرَق عليه بابه حتى يبايع؟" یعنی ’’یہ روایت کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا: ’اے ابنِ خطاب! کیا تم میرے گھر کا دروازہ جلانے والے ہو؟‘ اس نے جواب دیا: ’ہاں‘۔۔۔ شیعہ علماء نے اس روایت کو متعدد طریقوں سے نقل کیا ہے۔ پھر اس شخص کے لئے اختیار کہاں باقی رہتا ہے جس کے گھر کا دروازہ جلایا جائے تاکہ وہ بیعت کرے؟‘‘(شریف مرتضیٰ، علی بن حسین موسوی (متوفیٰ 436ھ)، الشافی فی الإمامة، ج 3، ص 241، تحقیق و تعلیق: سید حسینی خطیب، مؤسسۃ اسماعیلیان، قم، طبع دوم، 1410ھ۔)
5۔ شیخ طوسی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ
بانی حوزہ علمیہ نجف اشرف شیخ الطائفہ شیخ طوسی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ (متوفیٰ 460ھ)، پانچویں صدی ہجری کے ممتاز شیعہ عالم، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو ضرب لگنے اور حضرت محسن علیہ السلام کے سقط ہونے کے واقعہ کو شیعہ حلقوں میں مشہور روایت کے طور پر نقل کرتے ہیں۔ ان کے الفاظ ہیں: "والمشهور الذي لا خلاف فيه بين الشيعة: أن عمر ضرب على بطنها حتى أسقطت، فسمي السقط محسناً، والرواية بذلك مشهورة عندهم." یعنی ’’شیعوں کے درمیان مشہور بات، جس میں ان کے ہاں اختلاف نہیں، یہ ہے کہ عمر بن خطاب نے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے شکم پر ضرب لگائی، جس کے نتیجے میں آپ کا بچہ ساقط ہوگیا اور اس ساقط ہونے والے بچے کا نام محسن رکھا گیا۔ اس واقعہ سے متعلق روایت بھی ان کے درمیان مشہور ہے۔‘‘(شیخ طوسی، ابوجعفر محمد بن حسن بن علی، تلخیص الشافی، ج 3، ص 156۔)
6۔ ابو الصلاح حلبی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ
جناب ابو الصلاح حلبی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ (متوفیٰ 447ھ) پانچویں صدی ہجری کے معروف شیعہ عالم تھے۔ انہوں نے خلفائے ثلاثہ کی عدالت پر بحث کرتے ہوئے حضرت علی علیہ السلام کے گھر سے متعلق پیش آنے والے واقعات کا ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: "ومما يقدح في عدالة الثلاثة … إحضار الحطب لتحريق منزله والهجوم عليه بالرجال من غير إذنه واضطرارهم بذلك زوجته وبناته وغيرهم إلى الخروج عن بيوتهم." یعنی ’’ان تینوں کی عدالت کو مخدوش کرنے والی باتوں میں سے ایک یہ ہے کہ علی علیہ السلام کے گھر کو جلانے کے لئے لکڑیاں جمع کی گئیں، ان کی اجازت کے بغیر لوگوں کے ذریعہ ان کے گھر پر حملہ کیا گیا اور اس کے نتیجے میں ان کی زوجہ، بیٹیوں اور گھر کے دیگر افراد کو اپنے گھروں سے باہر نکلنے پر مجبور ہونا پڑا۔‘‘(ابو الصلاح حلبیؒ، تقریب المعارف، ص 233، تحقیق: فارس تبریزیان الحسون، 1417ھ)
7۔ قاضی ابن براج رضوان اللہ تعالیٰ علیہ
جناب قاضی عبدالعزیز بن براج طرابلسی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ (متوفیٰ 481ھ) نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زیارت کے ضمن میں آپ کو ’’شہیدہ‘‘ اور ’’مظلومہ‘‘ کے الفاظ سے یاد کیا ہے: "السلام على البتول الشهيدة … السلام عليك أيتها المظلومة." یعنی ’’سلام ہو بتولِ شہیدہ پر۔۔۔ سلام ہو آپ پر، اے مظلومہ!‘‘(قاضی ابن براجؒ، المهذب، ج 1، ص 277، تحقیق: مؤسسہ سید الشہداء العلمیہ)
8۔ ابن شہر آشوب رضوان اللہ تعالیٰ علیہ
چھٹی صدی ہجری کے معروف عالم جناب ابن شہر آشوب مازندرانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے بھی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو "الْمَظْلُومَةُ الشَّهِيدَةُ" یعنی ’’مظلومہ شہیدہ‘‘ کے عنوان سے یاد کیا ہے۔(ابن شہر آشوب، رشیدالدین ابو عبداللہ محمد بن علی السروی المازندرانیؒ، مناقب آل ابی طالب، ج 3، ص 132، تحقیق: نجف اشرف کے علما کی ایک جماعت، المکتبۃ والمطبعۃ الحیدریہ، 1376ھ)
9۔ سید ابن طاووس رضوان اللہ تعالیٰ علیہ
ساتویں صدی ہجری کے معروف شیعہ عالم جناب سید ابن طاووس رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پر ہونے والے ظلم کے بارے میں علماء امامیہ کے درمیان اختلاف نہ ہونے کا ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: "وعلماء أهل البيت عليهم السلام لا يحصى عددهم وعدد شيعتهم إلا الله تعالى، وما رأيت ولا سمعت عنهم أنهم يختلفون في أن أبا بكر وعمر ظلما أمهم فاطمة عليها السلام ظلما عظيما." یعنی علمائے اہل بیت بے شمار ہیں اور ان کے شیعہ جن کی تعداد اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، میں نے نہ کسی ایسے عالم کو دیکھا اور نہ ان کے بارے میں سنا کہ وہ اس بات میں اختلاف رکھتے ہوں کہ ابوبکر اور عمر نے ان کی مادرِ گرامی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا پر جو عظیم ظلم کیا۔‘‘(ابن طاووس حلیؒ، ابوالقاسم علی بن موسیٰ، الطرائف في معرفة مذاهب الطوائف، ص 252، مطبعہ الخیام، قم، طبع اول، 1399ھ۔)
10۔ خواجہ نصیر طوسی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ
ساتویں صدی ہجری کے معروف متکلم و فلسفی خواجہ نصیر الدین طوسی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول عبارت میں بھی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے متعلق اس واقعہ کا ذکر ملتا ہے۔ عبارت یہ ہے: "وبعث (أبو بكر) إلى بيت أمير المؤمنين عليه السلام لما امتنع من البيعة فأضرم فيه النار وفيه فاطمة والحسن والحسين وجماعة من بني هاشم." یعنی ’جب امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے بیعت سے منع کیا تو ابوبکر نے ان کے گھر کی طرف افراد بھیجے، پھر اس گھر میں آگ بھڑکائی (لگائی) گئی، جبکہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، امام حسن علیہ السّلام، امام حسین علیہ السلام اور بنی ہاشم کی ایک جماعت وہاں موجود تھی۔‘‘(حسن بن یوسف حلیؒ (متوفیٰ 726ھ)، کشف المراد فی شرح تجرید الاعتقاد، ص 511۔)
مذکورہ شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شہادت کے بعد حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پر پیش آنے والے مصائب کا ذکر شیعہ علمی ذخیرے میں ابتدائی صدیوں ہی سے موجود ہے۔ نعمانیؒ، شیخ صدوقؒ، شیخ مفیدؒ، سید مرتضیٰؒ، شیخ طوسیؒ اور بعد کے متعدد علما کی تحریروں میں اس موضوع کے مختلف پہلو بیان ہوئے ہیں۔ کہیں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی مظلومیت و شہادت کے الفاظ ملتے ہیں، کہیں گھر سے متعلق واقعات کا ذکر ہے اور کہیں حضرت محسن علیہ السلام کے سقط کا بیان موجود ہے۔
یہ شواہد کم از کم اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے مصائب اور شہادت کا تصور شیعہ علمی روایت میں کسی ایک متاخر دور کی پیداوار نہیں، بلکہ اس کے مختلف اجزا ابتدائی اور بعد کی صدیوں کے شیعہ مصادر میں مسلسل نقل ہوتے رہے ہیں۔










آپ کا تبصرہ