جمعہ 23 اکتوبر 2026 - 18:23
بچوں کی عبادی تربیت والدین کی شرعی ذمہ داری ہے، نماز سے محبت اور ایمان کی تقویت پر توجہ دیں: مولانا نقی مہدی زیدی

حوزہ/ امام جمعہ تاراگڑھ اجمیر، حجۃ الاسلام مولانا سید نقی مہدی زیدی نے خطبۂ جمعہ میں بچوں کے حقوق اور عبادی تربیت کی اہمیت پر کہا کہ والدین کو بچوں کے دلوں میں نماز سے محبت پیدا کرنے، اسلامی تعلیمات سے آراستہ کرنے اور ایمان کو مضبوط بنانے کے ساتھ ہی ایامِ عزائے فاطمیہ کی تربیتی و معاشرتی اہمیت بھی بیان کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام جمعہ تاراگڑھ اجمیر مولانا سید نقی مہدی زیدی نے خطبۂ جمعہ میں امام حسن عسکری علیہ السلام کے وصیت نامے کی شرح و تفسیر کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے چھوٹوں کے حقوق بیان کیے، انہوں نے بچوں کی عبادی تربیت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ: والدین پر بچوں کی عبادی تربیت کرنا واجب عینی ہے لیکن اگر کوئی دوسرا اس عمل کو انجام دے تو اس صورت میں والدین سے یہ شرعی ذمہ داری ساقط ہو جائے گی، اس طرح والدین میں سے کسی ایک کے کامل طور پر اس فریضہ کو انجام دینے سے دوسرے فرد سے یہ ذمہ داری ساقط ہو جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ: امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:اپنے بچوں کو جلد از جلد اسلامی احادیث سکھائیں اس سے قبل کہ مخالفین تم پر سبقت لے جاتے ہوئے اپنے غلط عقائد اور نظریات سے تمہارے بچوں کے دلوں کو پر کر دے، بچوں کے اندر نماز سے عشق اور محبت کا جذبہ پیدا کریں اور اپنے بچوں میں ایمان کو تقویت دیں۔

خطیب جمعہ تاراگڑھ حجۃالاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے مزید کہا کہ: قرآن مجید کے سورۂ طہ میں ارشاد خداوندی ہے کہ:"وأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا لَا نَسْأَلُكَ رِزْقًا نَحْنُ نَرْزُقُكَ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَىٰ"، اوراپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دیں اور خود بھی اس پر ثابت قدم رہیں، ہم آپ سے کوئی رزق نہیں مانگتے بلکہ آپ کو رزق ہم دیتے ہیں اور انجام اہل تقویٰ ہی کے لیے ہے۔

انہوں نے کہا کہ: بعض روایات کے مطابق اس آیت کریمہ کے نزول کے بعد حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم چالیس دن تک اوربعض روایات کے مطابق

چھ ماہ تک ، نماز کے وقت ،حضرت علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر کے سامنے حاضر ہوتے اورفرماتے تھے:"السلام علیکم یا اهل بیت النبوة"، آپ پر سلام ہو اور خدا کی رحمت اور برکتیں آپ پر ہوں، اس کے بعد اپنے ہاتھوں کو کھولتے تھے اور دروازے کو پکڑتے اور فرماتے تھے؟"الصلاة الصلاة یرحمکم الله"، نماز نماز، خدا آپ لوگوں پر رحم کریں اس کے بعد آیہ تطہیر کی تلاوت کرتے اور مسجد میں تشریف لے جاتے تھے، اس طریقہ سے ہم کو بھی اپنے اہل و عیال کو نماز پڑھنے کے لئے تاکید کرنا چاہیے۔

امام جمعہ تاراگڑھ حجۃالاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے فرشتۂ وحی جبریلِ امیں کی خواہش کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ: پیغمبـر اکـرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فـرمـایـا:"اے علی علیہ السلام! سات چیزوں کی وجہ سے جبرائیل نے خواہش کی کہ کاش وہ (فرشتہ ہونے کی بجائے) آدم کی اولاد (انسانوں) میں سے ہوتا (تاکہ وہ سات کام انجام دے سکتا)، اور وہ سات چیزیں یہ ہیں"

١۔ الصَّـلَوة فِي الْجَمَـاعَـة،"باجمـاعت نمـاز پڑھنـا"۔

٢۔ وَ مُجَـالَسَتُـهُ الْعُلَمَـاءَ،"علمـا کے سـاتھ اُس کی ہمنشینی"۔

٣۔ وَالصُّـلْحُ بَيْنَ الاِثْنَيْنِ،"دو (نـاراض) لـوگـوں کے درمیـان صلـح کـروانا"۔

٤۔ وَ اِکْـرَامُ الْيَتِيمِ

"یتیم کا اکـرام (اور خـدمت) کـرنا"۔

٥۔ وَ عِيَـادَة الْمَـرِيضِ

"مـریض کی عیـادت کـو جـانـا"۔

٦۔ وَ تَشْيِيعُ الْجَنَـازة

"تشییع جنـازہ میں شـرکت کـرنا"۔

٧۔ وَ سَْقيُ الْمَـاءِ فِی الْحَجِّ

"اور حج (مـذہبی اجتمـاع)کے مـوقع پـر لـوگـوں کـو پـانی پـلانا"۔

مولانا نقی مھدی زیدی نے ایام عزاء فاطمیہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ: ایام عزاء فاطمیہ کی افادیت عالمگیر ہے اور یہ عصر حاضر میں شیعہ بلکہ اسلام کو تربیتی اور معاشرتی بحران سے نجات دینے میں معاون ہو سکتے ہیں؛ چونکہ ان ایام میں ’’درسگاہ فاطمہؑ‘‘ کے دروازے کھلے ہوتے ہیں اور اس میں ہر انسان اور بالخصوص خواتین کیلئے انفرادی، معاشرتی اور سیاسی سطح پر اسلامی طرز زندگی کو بیان کیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ: شہادت صدیقہ طاہرہ جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے سلسلے میں علمائے شیعہ کے درمیان دو احتمال معتبر ہیں:

۱۔ آپؑ کی شہادت رسولؐ کے ۷۵ دن بعد ہوئی۔

۲۔ آپؑ کی شہادت رسول اکرم کے ۹۵ دن بعد ہوئی۔

لہٰذا اگر پیغمبر اکرمؐ کی ۲۸ صفر کے دن رحلت کے بعد ۷۵ دن شمار کیے جائیں تو آپؑ کی شہادت تیرہ جمادی الاول کو واقع ہوئی؛ اور ۹۵ دن کی روایت کے مطابق حضرت زہراؑ کی شہادت تین جمادی الثانی کو ہوئی، چونکہ شہادت کی دقیق تاریخ معلوم نہیں ہے اس لیے علماء، بزرگان اور شیعہ شہادت کی دونوں تاریخوں کی مناسبت سے ’’ایام فاطمیہ‘‘ کا اہتمام کرتے ہیں۔

شیخ عباس قمی نے منتھی آلامال میں نقل کیا ہے: بہتر یہ ہے کہ ہم دونوں روایتوں پر عمل کریں اور دونوں تاریخوں میں عزاداری کا اہتمام کریں۔

مولانا نقی مھدی زیدی نے خطبہ جمعہ کے آخر میں مسائل شریعہ کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ: کس کو کرسی پر نماز پڑھنے کرنے کا حق ہے؟

جواب: قیام، رکوع اور سجود نماز کے ارکان اور بنیادی واجبات میں سے ہیں، جنہیں قدرت کے باوجود ترک کرنا جائز نہیں؛ اگرچہ دیوار یا عصا سے مدد لے کر، یا ضرورت کے وقت کسی دوسرے پر اعتماد کر کے ہو۔

لہٰذا محض ہلکی تھکاوٹ یا ایسی مشقت محسوس کرنے سے، جو عرف میں عجز یا شدید حرج نہ سمجھی جائے، کرسی پر نماز پڑھنا جائز نہیں؛ بلکہ یہ صرف اس شخص کے لیے مخصوص ہے جسے واقعی عجز لاحق ہو یا شدید مشقت ہو۔

انہوں نے مزید تفصیل سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ:

اول: سجدہ نہ کر سکنے کی صورت میں (جو عام ہے): جو شخص کھڑا ہو سکتا ہو (اگرچہ ٹیک لگا کر) اور رکوع کر سکتا ہو، لیکن زمین پر سجدہ نہ کر سکتا ہو، تو شرعاً اس پر لازم ہے کہ تکبیرِ تحریمہ، قراءت اور رکوع کھڑے ہو کر کرے، اور کرسی پر بیٹھنا اس کے لیے جائز نہیں مگر جب سجدے کی وظیفے تک پہنچے، تو کرسی پر بیٹھے اور سجدے کے لیے جھکے، اور اپنی پیشانی اس چیز پر رکھے جس پر سجدہ صحیح ہوتا ہے (جیسے سامنے رکھی ہوئی مٹی کی تربت)۔

دوم: قیام سے کلی طور پر عاجز ہونا: جو شخص بالکل کھڑا نہ ہو سکے، حتیٰ کہ کسی چیز سے ٹیک لگا کر بھی نہ ہو، تو اسے اس وقت پوری نماز کرسی پر بیٹھ کر ادا کرنے کی اجازت ہے، اور اپنے رکوع و سجود میں حسبِ استطاعت جھکے گا۔

لہٰذا جب مکلف نماز کے بعض اجزاء کھڑے ہو کر ادا کرنے پر قادر ہو (اگرچہ ٹیک لگا کر ہو) تو صرف کرسی پر بیٹھ کر پوری نماز ادا کرنے سے اس کی ذمہ داری بری نہیں ہوگی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha