حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدرسہ جعفریہ تاراگڑھ، اجمیر میں ایامِ فاطمیہ کی مناسبت سے حجت الاسلام مولانا نقی مہدی زیدی کے زیرِ اہتمام ’’فاطمہ شناسی‘‘ کے سلسلہ وار دروس جاری ہیں، جس میں سیرت، فضائل اور مقام و منزلت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی احادیث و ارشادات کی روشنی میں بیان کیا جا رہا ہے۔
اس سلسلے کے ایک درس میں حجۃ الاسلام مولانا نقی مہدی زیدی نے ’’احادیثِ رسول اکرمؐ اور ائمہ معصومینؑ کی روشنی میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا مقام و مرتبہ‘‘ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی معرفت اور ان کے حقیقی مقام کو سمجھنے کا سب سے معتبر ذریعہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی احادیث و ارشادات ہیں۔ ان روایات کی روشنی میں آپؑ کا مقام، مرتبہ اور فضائل انتہائی بلند و بالا ہیں۔

انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ آپؐ نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی رضا و غضب کو اللہ تعالیٰ کی رضا و غضب کا معیار قرار دیا ہے۔ رسول اکرمؐ کا فرمان ہے: ’’إِنَّ اَللَّهَ تَعَالَی يَغْضَبُ لِغَضَبِ فَاطِمَةَ وَ يَرْضَی لِرِضَاهَا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ فاطمہؑ کی ناراضگی پر ناراض اور ان کی خوشنودی پر راضی ہوتا ہے۔
اسی طرح آپؐ نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو اپنا جز قرار دیتے ہوئے فرمایا: ’’فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي، فَمَنْ أَغْضَبَهَا أَغْضَبَنِي‘‘ یعنی فاطمہؑ میرا حصہ ہیں، جس نے انہیں ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔ متعدد احادیث میں رسول اکرمؐ نے یہ بھی واضح فرمایا کہ حضرت فاطمہؑ کو پہنچنے والی اذیت آپؐ کو اذیت پہنچانے کے مترادف ہے اور آپؑ کی خوشی رسول اللہؐ کی خوشی ہے۔
مولانا نقی مہدی زیدی نے مزید بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو اولین و آخرین کی تمام خواتین کی سردار قرار دیا ہے۔ ایک روایت کے مطابق جب آپؐ سے پوچھا گیا کہ کیا حضرت فاطمہؑ اپنے زمانے کی خواتین کی سردار ہیں تو آپؐ نے فرمایا کہ حضرت مریمؑ اپنے زمانے کی خواتین کی سردار تھیں، جبکہ میری بیٹی فاطمہؑ اولین و آخرین کی تمام جہانوں کی خواتین کی سردار ہیں۔ آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ جب وہ محرابِ عبادت میں کھڑی ہوتی ہیں تو ستر ہزار مقرب فرشتے ان پر سلام بھیجتے ہیں۔
انہوں نے رسول اکرمؐ کی ان روایات کا بھی ذکر کیا جن میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو ’’حوراء انسیہ‘‘ یعنی انسانی شکل میں حور قرار دیا گیا ہے۔ آپؐ کا فرمان ہے کہ جب بھی مجھے جنت کی خوشبو کا اشتیاق ہوتا ہے تو میں اپنی بیٹی فاطمہؑ کی خوشبو محسوس کرتا ہوں۔ ان روایات میں حضرت فاطمہؑ کی غیر معمولی روحانی عظمت اور مقام کو بیان کیا گیا ہے۔

درس کے دوسرے حصے میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے مقام و منزلت کو امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے ارشادات کی روشنی میں بیان کیا گیا۔ اس ضمن میں روایت نقل کی گئی کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علیؑ سے پوچھا کہ آپ نے اپنی زوجہ کو کیسا پایا تو آپؑ نے فرمایا: ’’نِعْمَ الْعَوْنُ عَلَى طَاعَةِ اللّٰهِ‘‘ یعنی فاطمہؑ اللہ کی اطاعت میں بہترین معاون ہیں۔
اسی طرح حضرت علی علیہ السلام کے وہ ارشادات بھی بیان کیے گئے جن میں آپؑ نے حضرت فاطمہؑ کی سچائی، امانت داری، تقویٰ، پاکیزگی اور اطاعت شعاری کی گواہی دی ہے۔ ایک روایت کے مطابق آپؑ نے فرمایا کہ خدا کی قسم، فاطمہؑ نے کبھی مجھے ناراض نہیں کیا اور نہ ہی کسی معاملے میں میری نافرمانی کی۔ آپؑ مزید فرماتے ہیں کہ جب میں فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے چہرۂ اقدس کو دیکھتا تو میرے غم اور پریشانیاں دور ہو جاتی تھیں۔
درس کے تیسرے حصے میں ائمہ معصومین علیہم السلام کے فرامین کی روشنی میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت کو اجاگر کیا گیا۔ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے منقول روایت میں آپؑ نے اپنی والدہ ماجدہ کو فضیلتوں کا ہار، عصمت کے گلدستے کا پھول، علم و حکمت کی زینت اور خواتین کی سردار قرار دیا ہے۔ امام حسین علیہ السلام کا فرمان ’’اُمّی خیرٌ منّی‘‘ یعنی میری والدہ مجھ سے بہتر ہیں، بھی اسی سلسلے میں نقل کیا گیا۔
اسی طرح امام زین العابدین علیہ السلام نے اپنے تعارف میں فرمایا: ’’أَنَا ابْنُ فَاطِمَةَ الزَّهْرَاءِ، أَنَا ابْنُ سَيِّدَةِ النِّسَاءِ‘‘ یعنی میں فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا فرزند اور تمام خواتین کی سردار کا بیٹا ہوں۔
امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول روایات میں حضرت فاطمہؑ کی اطاعت کی عظمت اور تسبیحِ فاطمہؑ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ آپؑ کے مطابق تسبیحِ فاطمہؑ سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش کی کوئی عبادت نہیں۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے آپؑ کو دنیا کی خواتین کے درمیان روشن ستارہ قرار دیا، جبکہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے آپؑ کو صدیقہ اور شہیدہ فرمایا۔
امام علی رضا علیہ السلام سے منقول روایت میں حضرت فاطمہؑ کے نام کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ آپؑ اور آپؑ کے پیروکاروں کو جہنم کی آگ سے محفوظ رکھا گیا ہے۔ اسی طرح امام محمد تقی علیہ السلام سے منقول روایت میں آپؑ کی جانب سے والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پر ڈھائے جانے والے مظالم اور مصائب پر گہرے تأثر کا اظہار کیا گیا ہے۔
مزید برآں امام علی نقی علیہ السلام سے منقول روایت میں حضرت فاطمہؑ کے نام کی وجہ کو آپؑ اور آپؑ سے محبت کرنے والوں کی آتشِ جہنم سے نجات قرار دیا گیا ہے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام نے آپؑ کے چہرۂ مبارک کی نورانیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ صبح سورج، دوپہر چاند اور غروب کے وقت ستارے کی مانند روشن ہوتا تھا۔
درس کے اختتام پر امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا یہ فرمان بھی نقل کیا گیا: ’’وَفِي ابْنَةِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ لِي أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ‘‘ یعنی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دختر نیک اختر حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا میرے لیے بہترین اسوہ ہیں۔
سلسلۂ فاطمہ شناسی کے ان دروس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی احادیث و ارشادات کے ذریعے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت، فضائل، عصمت، عبادت، اطاعتِ الٰہی اور اہل بیت علیہم السلام میں آپؑ کے بلند مقام کو بیان کیا جا رہا ہے۔










آپ کا تبصرہ