حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام جمعہ تاراگڑھ اجمیر حجۃالاسلام مولانا سید نقی مہدی زیدی نے خطبۂ جمعہ میں امام حسن عسکری علیہ السلام کے وصیت نامے کی شرح و تفسیر کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے چھوٹوں کے حقوق بیان کرتے ہوئے کہا کہ: اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو زندگی کے ہر موڑ پر ہماری رہنمائی کرتا ہے، اسلام نے انسانی زندگی کے ہر گوشے کے لیے سنہرے اصول وضع کیے ہیں، جس طرح بڑوں کے حقوق اور ذمہ داریاں ہیں، اسی طرح اسلام نے کمسن اور چھوٹے بچوں کے حقوق کو بھی بڑی اہمیت دی ہے۔ بچے معاشرے کا مستقبل ہیں ان کی صحیح تربیت ہی ایک صالح معاشرے کی ضمانت ہے، بچے پھول کی طرح نازک ہوتے ہیں ان کی درست تربیت ہی ایک صحت مند معاشرے کی اصل بنیاد ہے، حضرت امام زین العابدین علیہ السلام اپنے رسالۃ الحقوق میں بچوں کے حقوق بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:"وَالْعَفْوُ عَنْهُ وَ السَّتْرُ عَلَيْهِ... وَ السَّتْرُ عَلَى جَرَائِرِ حَدَاثَتِهِ فَإِنَّهُ سَبَبٌ لِلتَّوْبَةِ"، اور اس سے درگزر کرنا، اس کی پردہ پوشی کرنا، اور اس کی کمسن عمری کے جرائم و خطاؤں پر پردہ ڈالنا (لازم ہے) کیونکہ یہ چیز توبہ کا سبب بنتی ہے، بچپن کی نادانیوں اور خطاؤں کو معاف کیا جائے اور ان کے عیوب کو چھپایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ: اس فرمان کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ جب بچے سے کوئی غلطی سرزد ہو جائے اور والدین اس کا ڈھنڈورا پیٹنے یا بار بار ذکر کرنے کے بجائے پردہ پوشی کریں، تو اس سے بچے کے اندر ندامت پیدا ہوتی ہے اور وہ سچی توبہ کی طرف مائل ہوتا ہے۔
خطیب جمعہ تاراگڑھ حجۃالاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے درگزر اور پردہ پوشی کے تربیتی اثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ:
١۔ جب بچوں کو یہ یقین ہو جائے کہ غلطی کرنے پر والدین اس کو ذلیل و رسوا نہیں کریں گے بلکہ اس کی اصلاح کریں گے، تو بچوں کا والدین پر اعتماد بڑھتا ہے، وہ ڈر کی بجائے محبت کی وجہ سے سچ بولنا سیکھتے ہیں۔
٢۔ بچپن کی چھوٹی موٹی لغزشوں یا غلطیوں سے پردہ پوشی کرنا بچہ کی عزتِ نفس کو بچاتی ہے۔
٣۔ یہ اصلاح کا مؤثر ذریعہ ہے، سختی اور سرزنش اکثر بچوں کو ضدی بنا دیتی ہے، جبکہ نرمی، معافی اور درگزر ان کے دل کو پگھلا دیتی ہے اور وہ آئندہ کے لیے سنبھل جاتے ہیں۔
انہوں نے والدین کے فرائض کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ: والدین برداشت اور تحمل سے کام لیں وہ بچوں کی ہر غلطی کو پہاڑ نہ سمجھیں، ان کی عمر اور عقل کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے برداشت کا مظاہرہ کریں، اگر بچے سے کوئی غلطی ظاہر ہو بھی جائے تو اسے سب کے سامنے ذلیل کرنے کے بجائے یا فوراً سزا دینے کے بجائے، اکیلے میں پیار سے سمجھائیں (پردہ پوشی کرتے ہوئے، بچے کو یہ احساس دلائیں کہ "تم نے غلطی کی ہے لیکن تم اچھے بچے ہو اور مجھے یقین ہے کہ تم دوبارہ ایسا نہیں کرو گے"۔ یہ مثبت رویہ بچے کی اصلاح کی بہترین ضمانت ہے۔
امام جمعہ تاراگڑھ حجۃالاسلام مولانا نقی مہدی زیدی نے ایام عزائے فاطمیہ کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ: ایام عزائے فاطمیہ میں عزاداری کو ایک تحریک بنائیں اور محبت اہل بیتؑ کو معاشرتی زندگی کا حصہ بنائیں، عزائے فاطمی ایک تاریخ ہے، عزائے فاطمی، یعنی ظالموں کے خلاف صدائے احتجاج ہے، عزائے فاطمی کے دنوں میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ملکوتی شخصیت کی تجلیل و تعظیم ہو اور سب لوگ ان دنوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اکلوتی یادگار بیٹی سے اپنی محبت و مودت کو ثابت کریں، ہمیں چاہیے بدعتوں، بیگانو کی پیروی کے بڑھاوے، نامناسب حالات، گناہ، منکرات، فساد، جہالت اور گمراہی کا مقابلہ کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ: مکتب اہل بیت علیہم السلام معرفت کا مکتب ہے، جناب فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا نے اپنے پورے وجود کے ساتھ اپنے وقت کے امام کا دفاع کیا، جان و مال سب کچھ راہ امامت میں قربان کیا، یہاں تک کہ اپنے اس بچے کو بھی قربان کیا کہ جو ابھی بطن میں تھا۔
مولانا نقی مہدی زیدی نے کہا کہ ہمیں چاہیے ان ایام میں معارفِ فاطمی کو عام کریں، اسی سلسلے میں مدرسہ جعفریہ میں بھی "فاطمہ شناسی" کے عنوان سے نشستیں جاری ہیں۔
خطبہ کے اختتام پر مولانا سید نقی مھدی زیدی نے مظلوموں کی نصرت، امتِ مسلمہ میں بیداری و اتحاد، سیرتِ اہل بیت علیہم السلام پر عمل اور امام زمانہ حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل کے لیے دعا فرمائی۔










آپ کا تبصرہ