حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام و المسلمین سید نقی مہدی زیدی نے تاراگڑھ اجمیر، راجستھان میں نمازِ جمعہ کے خطبہ میں تقوائے الٰہی کی تاکید کرتے ہوئے امام حسن عسکری علیہ السلام کے وصیت نامے کی شرح و تفسیر کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اپنے سے کمسن، چھوٹوں کا حق یہ ہے"وأَمّا حَقّ الصّغِيرِ فَرَحْمَتُهُ وَ تَثْقِيفُهُ وَ تَعْلِيمُهُ وَ الْعَفْوُ عَنْهُ وَ السّتْرُ عَلَيْهِ وَ الرّفْقُ بِهِ وَ الْمَعُونَةُ لَهُ وَ السّتْرُ عَلَى جَرَائِرِ حَدَاثَتِهِ فَإِنّهُ سَبَبٌ لِلتّوْبَةِ وَ الْمُدَارَاةُ لَهُ وَ تَرْكُ مُمَاحَكَتِهِ فَإِنّ ذَلِكَ أَدْنَى لِرُشْدِهِ"، اس کے ساتھ مہر و محبت سے پیش آؤ، اس کی پرورش کرو، اس کو تعلیم دو اور سکھاؤ ، اس سے در گزر کرو، اس کی پردہ پوشی کرو، اسے لباس پہناؤ، اس کے ساتھ نرم رویہ اپناؤ، اس کی مدد کرو، اس کی بچکانہ حرکتوں اور بچپنے کی غلطیوں پر پردہ ڈالو اس لئے کہ یہ انداز و طریقہ اور برتاؤ توبہ کا سبب ہے، اس کے ساتھ رواداری کا باعث اور اسے تحریک نہ کرنے ، اسے نہ بھڑکانے کا سبب ہے جس کے نتیجے میں اس کے کامیاب ہونے اور آگے بڑھنے میں معاون ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ: امام زین العابدین علیہ السلام کے نقطۂ نظر سے بچے کا حق یہ ہے کہ تعلیم کے سلسلہ میں دلچسپی ہو، اسے معاف کیا جائے، اس کے عیوب کو چھپایا جائے، اس کی رعایت کی جائے اور اس کی مدد کی جائے۔
اس میں شک نہیں ہے کہ حبِ ذات بچے کی تربیت کا بنیادی عنصر ہو، اس چیز کو اگر بچہ کے اندر عاقلانہ طور پر اور صحیح منصوبہ کے تحت سمت دی جائے تو یہ خوش بختی و سعادت کا باعث ہوتی ہے۔ حبِ ذات کو قوی کرنے کا ایک طریقہ بچوں کی تعظیم و تکریم ہے، جس بچہ کی اپنے خاندان ہی میں عزت نہ ہو وہ احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتا ہے، وہ خود کو حقیر دست سمجھنے لگتا ہے، حوصلہ ہار جاتا ہے اور نفسیاتی طور پر ٹوٹ جاتا ہے ایسا بچہ کوئی بھی غلط کام کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ اس کی خطاؤں سے چشم پوشی کرنے کی تاکید فرماتے ہیں، بچوں کے بارے میں رسول فرماتے ہیں:"اکرمو أولادکم واحسنوا آدابکم"، اپنے بچوں کا احترام کرو اور اپنا چال چلن صحیح رکھو۔
خطیب جمعہ تاراگڑھ مولانا نقی مھدی زیدی نے کہا کہ: بچے کی تربیت کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر تربیتی حصہ سات برس پر مشتمل ہے۔ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:"الْوَلَدُ سَيِّدٌ سَبْعَ سِنِينَ وَ عَبْدٌ سَبْعَ سِنِينَ وَ وَزِيرٌ سَبْعَ سِنِين"؛ بچہ پہلے سات سال سید و سردار ہے اور دوسرے سات سال (یعنی سات سے چودہ سال تک) غلام ہے اور بقیہ سات سال ( چودہ سے اکیس سال تک) وزیر ہے، پہلے سات سال بچے کے کھیل کود کے سال ہیں جس میں اس کا کام کھانا پینا اور کھیل کود میں مشغول رہنا ہے۔ جو بچہ ابتدائی سات سال میں خوب کھیل کود کرتا ہے اس کے اندر کھیل کود کا مادہ پورا ہو جاتا ہے اور اگلے سات سالوں میں رغبت کے ساتھ تعلیم و تربیت کے مراحل طے کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ: پہلے سات سال کھیل کود کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بچے کو اچھے برے کی تمیز نہ دی جائے کیونکہ بادشاہ جب غلطی کرتا ہے تو اس کا وزیر اس کی رہنمائی کرتا ہے۔ پس اگر ان سات سال میں بچہ کوئی غلطی کرے تو اس کو روکا جاۓ، سات سال سے چودہ سال تک بچے کی تربیت کے سال ہیں جس میں بچے کو بنیادی عقائد و نظریات کی تعلیم دی جاتی ہے، اس کو آداب و اخلاق سیکھائے جاتے ہیں، اس کو اطاعت اور فرمانبردای کے طریقے سیکھائے جاتے ہیں اور بُری صفات کے ترک کرنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ اس کے بعد بچہ جب پندرہویں سال میں داخل ہو جاۓ تو اسے وزیر بنا لینا چاہیے اور کاموں میں اس سے مشورہ لینا چاہیے اور اس پر اعتماد کرتے ہوئے اس کو مختلف امور سپرد کر دیں چاہیں۔
امام جمعہ تاراگڑھ نے کہا کہ: روایات میں ہے کہ جب بچہ سات سال کا ہو جائے تو اسے نماز پڑھنے کا حکم دو، اور جب وہ دس سال کا ہو جائے (اور نماز نہ پڑھے) تو اس پر سختی کرو، یہ سختی یا مارنا سزا دینے کے لیے نہیں، بلکہ تربیت اور اہمیت اجاگر کرنے کے لیے ہے، نماز صرف بالغ ہونے پر نہیں سکھائی جاتی،
بلکہ چھوٹی عمر سے محبت سے سکھائی جاتی ہے۔ سات سال کی عمر، محبت، نرمی اور رغبت سے نماز کی عادت ڈالنے کا وقت ہے، دس سال کی عمر، اگر اب بھی غفلت ہے، تو سختی کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ: والدین! اپنے بچوں کو موبائل، کھیل، اور دنیا کی تعلیم ضرور دیں، لیکن اگر بچہ نماز کا عادی نہیں، تو سب کچھ سکھانے کے بعد بھی آپ کچھ نہ سکھا سکے۔
مولانا نقی مھدی زیدی نے آخر بیان میں کہا کہ: جامع الاخبار میں رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت منقول ہے جس میں وارد ہوا ہے کہ آپ نے بعض بچوں کو دیکھا تو فرمایا:فَقَالَ: وَيْلٌ لِأَوْلَادِ آخِرِ الزَّمَانِ مِنْ آبَائِهِمْ؟ فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ آبَائِهِمُ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ: لَا مِنْ آبَائِهِمُ الْمُؤْمِنِينَ لَا يُعَلِّمُونَهُمْ شَيْئاً مِنَ الْفَرَائِضِ وَإِذَا تَعَلَّمُوا أَوْلَادُهُمْ مَنَعُوهُمْ وَرَضُوا عَنْهُمْ بِعَرَضٍ يَسِيرٍ مِنَ الدُّنْيَا فَأَنَا مِنْهُمْ بَرِيءٌ وَهُمْ مِنِّي بِرَاء؛ آخر الزمان کے بچوں کے والدین پر افسوس ہے، پوچھا گیا: یا رسول اللہ اس زمانے کے مشرک والدین پر افسوس ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں! ان مومن والدین پر افسوس ہے کہ جو اپنے بچوں کو فرائض و دینی واجبات نہیں سیکھاتے بلکہ دین پر عمل کرنے سے منع کرتے ہیں اور ان کے لیے دنیا کی تھوڑی سی مقدار کے لیے راضی ہو جاتے ہیں پس میں ان والدین سے بیزار ہوں اور وہ مجھ سے بیزار ہیں۔










آپ کا تبصرہ