منگل 20 اکتوبر 2026 - 13:23
امام عصرؑ سے قریب ہونے کا ایک راستہ، آنحضرت سے محبت اور تعلقات کا اظہار ہے: مولانا نقی مہدی زیدی

حوزہ/ مدرسۂ جعفریہ تاراگڑھ اجمیر ہندوستان میں مولانا سید نقی مہدی زیدی کے توسط سے ہفتہ وار درس بعنوانِ" آشنائی با مہدویت" کا سلسلہ جاری ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدرسہ جعفریہ تاراگڑھ اجمیر ہندوستان میں مولانا سید نقی مہدی زیدی کے توسط سے ہفتہ وار درس بعنوانِ" آشنائی با مہدویت" کا سلسلہ جاری ہے۔

ہفتہ وار درس مہدویت سے گفتگو کرتے ہوئے حجۃالاسلام مولانا نقی مہدی زیدی نے کہا کہ امام عصرؑ سے قریب ہونے کا ایک راستہ امام سے محبت اور تعلقات کا اظہار ہے۔ ہم سب جانتے ہے کہ انسان پر غیبت کے زمانے میں امامؑ کی اطاعت واجب ہے، ہمارے امام حضرت مہدیؑ ہیں اور امامت و ہدایت کی ذمہ داری امام ہی پر ہے امامؑ کائنات میں دخل و حق تصرف رکھتے ہیں امامؑ اللہ کی مرضی کے مطابق اور الٰہی قدرت کے مطابق جو کچھ کرنا چاہیں کر سکتے ہیں، امامؑ دین کے مالک و مختار ہیں اور اس زمانے میں ان سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے، لیکن اس مرتبہ اور مقام کے علاوہ امام اس شخصیت کا نام ہے جو شیعوں کے دلوں کی گہرائیوں میں موجود ہیں۔ ہم سے نزدیک ہیں، محبت، رحمت بے انتہا لطف فرماتے ہیں اور ہر انسان اپنی پاکیزہ فطرت میں موجود و جستجو کی بنیاد پر امامِ عصر علیہ السلام کو دوست رکھتا ہے، ان سے محبت کرتا ہے اور چونکہ محبت دو طرفہ ہوتی ہے اور امامؑ کی طرف سے محبت ہمیشہ زیادہ ہوتی ہے۔

امام عصرؑ سے قریب ہونے کا ایک راستہ، آنحضرت سے محبت اور تعلقات کا اظہار ہے: مولانا نقی مہدی زیدی

انہوں نے مزید کہا کہ"تا از جانبِ معشوق نہ باشد کششی، کوششِ عاشقِ بیچارہ بجائی نرسد" اگر معشوق کی طرف سے کوئی کشش نہ ہو، بیچارہ عاشق کی کوشش کہیں بھی نہیں پہنچے گی۔

حجۃالاسلام مولانا نقی مہدی زیدی نے مزید بیان کیا کہ امامؑ! وہ اپنے شیعوں کو دوست رکھتے ہیں اور ان سے محبت کرتے ہیں، ان کے لیے دعا و استغفار کرتے ہیں، ان کی فکر میں رہتے ہیں، ان سے غافل نہیں ہوتے۔ جب ہمارے پاس اس طرح کی محبوب شخصیت موجود ہے اور قابلِ احترام شخصیت کو جاننے اور پہچانتے ہیں تو کیوں دوسروں سے دل لگائیں؟ کیوں ہم اپنے دل کو دوسرے کے حوالے کریں؟ کیوں ہم فلاں فٹ بال کھلاڑی پر فریفتہ ہوں؟ کیوں کسی ہیرو، کسی خوبصورت شخص یا پھر فلاں خوبصورت آواز کے مالک اور پرکشش چہرے پر فریفتہ ہوں، جان دیں؟

انہوں نے مزید کہا کہ آپ حضرات دل کی گہرائیوں سے امام سے محبت کرنے میں اور اپنے دل کو ان کی یاد سے نورانی رکھنے میں، امام سے محبت کی بنیاد پر اس کلاس میں آئے ہیں۔ ورنہ آپ کی عمر کے لوگ آج کل کسی اور کام میں لگے ہوتے ہیں۔ آپ اس جگہ آئے ہیں، تاکہ اپنے امام علیہ السلام کو یاد کر سکیں۔ آپ امامِ عصر علیہ السلام سے قریب ہونے کے لیے آئے ہیں۔ آپ آئے ہیں، تاکہ امام کی خدمت کے طور طریقے سیکھ سکیں۔ آپ اس گوہرِ نایاب، اس تریاق اور اس کیمیائی وجود کو رکھتے ہیں کیوں پروانہ نہیں بن جاتے۔ اگر آپ کو سب سے قیمتی ہیرا دے دیں لیکن خاک آلودہ کندہ اور ناپسندیدہ ہو تو آپ اسے دیکھنا بھی پسند نہیں کریں گے فائدہ حاصل کرنا تو چھوڑ دیجیے۔

امام عصرؑ سے قریب ہونے کا ایک راستہ، آنحضرت سے محبت اور تعلقات کا اظہار ہے: مولانا نقی مہدی زیدی

مولانا نقی مہدی زیدی نے آخر کلاس میں کہا کہ اس سے زیادہ قیمتی کون سا گوہر ہو سکتا ہے جس میں آپ امامِ عصر علیہ السلام کی محبت، رابطہ، رشتہ اور اس کے راستے کو چنتے ہیں جو ان تک آپ کو پہنچاتا ہے۔ اس بلند و عظیم مرتبہ، محبوب رکھنے والی شخصیت، جس سے زیادہ کوئی بھی دنیا میں محبوب، محترم اور عزیز نہیں ہے، ہم اس فکر میں ہیں کہ یہ محبت کا نگینہ جو ممکن ہے گناہوں سے گرد آلود ہو گیا ہو اسے امام کی محبت سے پاک کریں اور اس کو سجائیں تاکہ بہترین صورت میں اس سے فائدہ حاصل کریں۔

انہوں نے جدید عملی کام کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس ہفتہ سوچیں کیسے ہم اپنی محبت کے گوہرِ نایاب کو گناہوں سے پاک صاف اور چمکدار بنا سکتے ہیں؟؟

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha