جمعہ 18 ستمبر 2026 - 18:11
امام کی معرفت صرف نام جاننے کا نہیں، زندگی کو امام کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کا نام ہے: مولانا نقی مہدی زیدی

حوزہ/ حجۃ الاسلام والمسلمین سید نقی مہدی زیدی نے نمازِ جمعہ کے خطبے میں امام حسن عسکری علیہ السلام کی سیرت و تعلیمات بیان کرتے ہوئے تقوائے الٰہی، حسنِ اخلاق، باہمی احترام اور دینی بصیرت کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ سخت حالات میں بھی حق کی حفاظت، دین کی پاسداری اور استقامت سے دستبردار نہیں ہونا چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تاراگڑھ، اجمیر/ حجۃ الاسلام والمسلمین سید نقی مہدی زیدی نے تاراگڑھ اجمیر، راجستھان میں نمازِ جمعہ کے خطبے میں تقوائے الٰہی کی تاکید کرتے ہوئے امام حسن عسکری علیہ السلام کے وصیت نامے کی شرح و تفسیر کا سلسلہ جاری رکھا۔ انہوں نے قرآن کریم کی آیت «وَ قُولُوا لِلنّاسِ حُسْناً» کی تشریح کرتے ہوئے امام حسن عسکری علیہ السلام کی روایت بیان کی اور کہا کہ انسان کو تمام لوگوں کے ساتھ حسنِ اخلاق، نرمی اور حکمت کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔

انہوں نے امام حسن عسکری علیہ السلام کی اس روایت کو بیان کیا: «قُولُوا لِلنّاسِ کُلِّهِمْ حُسْناً مُؤْمِنِهِمْ وَ مُخالِفِهِمْ، اَمَّا الْمُؤْمِنُونَ فَیَبْسُطُ لَهُمْ وَجْهَهُ، وَ اَمَّا الْمُخالِفُونَ فَیُکَلِّمُهُمْ بِالْمُداراةِ لِاجْتِذابِهِمْ إِلَی الْإِیمانِ…»

مولانا نقی مہدی زیدی نے کہا کہ اس روایت کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ انسان مؤمن ہو یا مخالف، سب کے ساتھ اچھے اخلاق اور نرم گفتاری سے پیش آئے۔ مؤمنین کے ساتھ خوش روی اور خندہ پیشانی سے ملاقات کی جائے، جبکہ مخالفین کے ساتھ بھی مدارا اور حکمت کا رویہ اختیار کیا جائے تاکہ انہیں حق اور ایمان کی طرف مائل کیا جا سکے۔ اگر وہ ایمان قبول نہ بھی کریں تو کم از کم حسنِ سلوک اور مدارا ان کی طرف سے پہنچنے والے شر اور نقصان کو روکنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

بے جا بحث اور نامناسب مذاق سے اجتناب ضروری

خطیبِ جمعہ تاراگڑھ نے امام حسن عسکری علیہ السلام کی ایک اور روایت بیان کرتے ہوئے کہا کہ آپؑ نے فرمایا: «لَا تُمارِ فَیَذْهَبُ بَهاؤُکَ، وَ لَا تُمازِحْ فَیُجْتَرَأُ عَلَیْکَ» انہوں نے وضاحت کی کہ امام علیہ السلام انسان کو بے جا بحث و تکرار سے منع فرماتے ہیں، کیونکہ اس سے انسان کی قدر و منزلت متاثر ہوتی ہے۔ اسی طرح ایسا مذاق بھی نہیں کرنا چاہیے جو انسان کی شخصیت اور وقار کو مجروح کرے، کیونکہ حد سے تجاوز کرنے والا مذاق دوسروں کو انسان کے ساتھ بے تکلفی کی حدود پار کرنے پر آمادہ کر سکتا ہے۔

امام حسن عسکریؑ کا دور شدید سیاسی دباؤ اور نگرانی کا زمانہ تھا

مولانا نقی مہدی زیدی نے اس ہفتے کی اہم مناسبت، حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی ولادت باسعادت، کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کی حیاتِ مبارکہ ایسے دور میں گزری جب عباسی حکمرانوں کی جانب سے اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پیروکاروں پر شدید سیاسی دباؤ، نگرانی اور پابندیاں عائد تھیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے نامساعد حالات میں امام حسن عسکری علیہ السلام نے صبر، تقویٰ، حکمت اور بصیرت کے ساتھ دینِ اسلام کی ترویج اور مکتبِ اہل بیت علیہم السلام کے تحفظ کی ذمہ داری ادا کی۔ آپؑ نے مشکل ترین حالات میں اپنے پیروکاروں کی دینی رہنمائی کا سلسلہ جاری رکھا اور انہیں آنے والے دور کے لیے تیار کیا۔

امام عسکریؑ نے شیعہ معاشرے کو غیبتِ امام عصرؑ کے لیے تیار کیا

خطیبِ جمعہ نے کہا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے شیعہ معاشرے کی دینی رہنمائی اور تنظیم کے لیے وکلا اور نمائندگان کے منظم نظام کو تقویت دی۔ آپؑ نے اپنے نمائندوں کے ذریعے شیعوں سے رابطہ برقرار رکھا اور انہیں اس دور کے لیے آمادہ کیا جس میں امام عصر حضرت حجت ابن الحسن عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف پردۂ غیبت میں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کی سیرت سے یہ درس ملتا ہے کہ کسی بھی دینی معاشرے کی مضبوطی کے لیے منظم رابطہ، ذمہ دار قیادت، باصلاحیت افراد کی تربیت اور اجتماعی نظم ضروری ہے۔ آج بھی اگر مسلمان اپنی دینی شناخت اور اجتماعی قوت کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں علم، نظم، باہمی تعاون اور احساسِ ذمہ داری کو فروغ دینا ہوگا۔

حجتِ الٰہی کی معرفت کردار اور عمل میں ظاہر ہونی چاہیے

حجۃ الاسلام مولانا نقی مہدی زیدی نے کہا کہ حجتِ الٰہی کی معرفت صرف نام، نسب یا نسبت سے واقف ہونے کا نام نہیں، بلکہ حقیقی معرفت یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کو امام کی تعلیمات اور الٰہی اقدار کے مطابق ڈھالے۔

انہوں نے کہا کہ اگر امام کی معرفت انسان کے کردار، فکر اور عمل میں تبدیلی پیدا نہ کرے تو اس معرفت کے حقیقی ثمرات ظاہر نہیں ہوتے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حفاظت، ان کی امامت کے تعارف اور لوگوں کو ان کی معرفت کے لیے غیر معمولی حکمت اور احتیاط سے کام لیا۔

غیر مسلم علماء کا اہل بیتؑ کے مقام کا اعتراف؛ انوش نصرانی کا واقعہ

خطیبِ جمعہ نے امام حسن عسکری علیہ السلام کی حیاتِ مبارکہ سے بعض تاریخی واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل بیت علیہم السلام کے روحانی مقام و مرتبے سے بعض غیر مسلم اہل علم بھی واقف تھے۔

انہوں نے انوش نصرانی کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ روایت میں آتا ہے کہ انوش نصرانی نے عباسی خلیفہ معتمد سے درخواست کی کہ وہ امام حسن عسکری علیہ السلام سے اس کے دو بیمار بیٹوں کے لیے دعا کرنے کو کہے۔ اس نے امام علیہ السلام کے بارے میں کہا: «نَحْنُ نَتَبَرَّکُ بِدُعَاءِ بَقَایَا النُّبُوَّةِ وَالرِّسَالَةِ» یعنی ہم نبوت و رسالت کے باقی ماندہ خاندان کی دعا سے تبرک حاصل کرتے ہیں۔

مولانا نقی مہدی زیدی نے کہا کہ جب امام حسن عسکری علیہ السلام کو انوش نصرانی کے اس قول کی اطلاع ہوئی تو آپؑ نے فرمایا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي جَعَلَ النَّصْرَانِيَّ أَعْرَفَ بِحَقِّنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ» یعنی خدا کا شکر ہے کہ اس نے ایک نصرانی کو ہمارے حق سے بعض مسلمانوں سے زیادہ آگاہ قرار دیا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اس روایت میں ان مسلمانوں سے مراد وہ لوگ تھے جو اہل بیت علیہم السلام کے مقام و حق سے واقف ہونے کے باوجود آپؑ کے حق کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔

انوش نصرانی کا امام عسکریؑ کے سامنے ادب و احترام

مولانا نقی مہدی زیدی نے مزید کہا کہ تاریخی روایت کے مطابق جب امام حسن عسکری علیہ السلام انوش نصرانی کے گھر تشریف لے گئے تو وہ آپؑ کے استقبال کے لیے انتہائی ادب و احترام کے ساتھ باہر آیا۔ روایت میں اس کے بارے میں ہے: «فَخَرَجَ إِلَیْهِ مَکْشُوفَ الرَّأْسِ حَافِيَ الْقَدَمَیْنِ» یعنی وہ سر ننگے اور ننگے پاؤں امام علیہ السلام کے استقبال کے لیے نکلا، جبکہ اس کے گرد قسیسین، شمامسہ اور راہب موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ روایت کے مطابق انوش کے سینے پر انجیل موجود تھی اور اس نے امام علیہ السلام سے عرض کیا کہ ہم اسی کتاب کے ذریعے آپ سے توسل کرتے ہیں، کیونکہ ہمیں اس کتاب میں خدا کے نزدیک آپ کا مقام و مرتبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مقام سے مشابہ معلوم ہوا ہے۔

خطیبِ جمعہ نے کہا کہ اس واقعے سے یہ نکتہ سامنے آتا ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے زمانے میں بعض اہل کتاب کے علماء بھی اہل بیت علیہم السلام کے مقام و مرتبے سے واقف تھے۔ البتہ اسلامی عقیدے کے مطابق ائمہ اہل بیت علیہم السلام کا مقام نہایت بلند ہے اور وہ خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ تمام انبیائے الٰہی سے افضل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ روایت کے مطابق امام حسن عسکری علیہ السلام نے انوش نصرانی کے دونوں بیٹوں کو دیکھا اور ان کے بارے میں خبر دی کہ ان میں سے ایک زندہ رہے گا اور اہل بیت علیہم السلام کا محب و پیروکار بنے گا، جبکہ دوسرا چند دن بعد دنیا سے رخصت ہو جائے گا۔ تاریخی روایت کے مطابق امام علیہ السلام کی بیان کردہ بات اسی طرح واقع ہوئی۔

امام عسکریؑ کے اخلاق نے دشمنوں کو بھی متاثر کیا

مولانا نقی مہدی زیدی نے امام حسن عسکری علیہ السلام کے زہد و عبادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عباسی حکمرانوں نے آپؑ کی نگرانی کے لیے ایسے افراد کو مقرر کیا جو سخت مزاج اور بدترین کردار کے حامل سمجھے جاتے تھے، لیکن کچھ عرصے بعد انہی افراد کے رویے میں نمایاں تبدیلی آگئی۔

انہوں نے کہا کہ جب ان سے پوچھا گیا کہ تمہیں نگرانی کے لیے بھیجا گیا تھا، لیکن تم خود ہی کیوں بدل گئے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا واسطہ ایسے شخص سے پڑا ہے جو راتوں کو عبادت کرتا ہے، دن میں روزہ رکھتا ہے، غیر ضروری گفتگو نہیں کرتا اور اپنا بیشتر وقت عبادت میں گزارتا ہے۔

امام حسن عسکریؑ کی سیرت استقامت اور دینی ذمہ داری کا درس ہے

حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا نقی مہدی زیدی نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کی زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں، انسان کو حق کی حفاظت، دین کی پاسداری اور ظلم و جبر کے مقابلے میں استقامت سے دستبردار نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کی سیرت میں تقویٰ، حسنِ اخلاق، حکمت، عبادت، بصیرت، اجتماعی نظم اور دین کی حفاظت جیسے اہم اسباق موجود ہیں۔ اگر مسلمان ان تعلیمات کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں عملی طور پر نافذ کریں تو وہ نہ صرف اپنی دینی شناخت کو مضبوط بنا سکتے ہیں بلکہ معاشرے میں اخلاق، امن، باہمی احترام اور دینی شعور کے فروغ میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha