جمعہ 18 ستمبر 2026 - 18:20
امام حسن عسکریؑ کی سیرت دین کی حفاظت اور غیبت کے دور کی تیاری کا درس ہے: مولانا سید مہدی عباس زیدی

حوزہ/ اتر پردیش کے ضلع بجنور کے چھجّوپورہ سادات میں نماز جمعہ کے خطبے میں مولانا سید مہدی عباس زیدی نے امام حسن عسکری علیہ السلام کی سیرت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امامؑ نے اپنے دور کے حساس حالات میں دین کی حفاظت، امت کی رہنمائی اور آنے والے دورِ غیبت کی تیاری کے لیے اہم اقدامات کیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، 18 ستمبر 2026 کو چھجّوپورہ سادات میں مولانا سید مہدی عباس زیدی کی امامت میں نماز جمعہ ادا کی گئی۔ اس موقع پر انہوں نے سورۂ انبیاء کی آیت 73 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء اور ائمہ علیہم السلام کو لوگوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے مقرر فرمایا اور انہیں نیک اعمال، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی ذمہ داری عطا کی۔

مولانا سید مہدی عباس زیدی نے امام حسن عسکری علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے کہا کہ امامؑ کی سیرت کا ایک اہم پہلو موجودہ دور کے لیے بھی رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ ہر الٰہی رہنما نے اپنے زمانے کے حالات کے مطابق دین کی حفاظت اور امت کی رہنمائی کی ذمہ داری انجام دی۔

انہوں نے کہا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کا زمانہ انتہائی حساس تھا۔ شیعہ معاشرہ ایسے نئے مرحلے میں داخل ہونے والا تھا جہاں اللہ کی حجت موجود تو ہوگی، لیکن لوگوں کے لیے امام تک براہِ راست رسائی ممکن نہیں ہوگی۔ اس لیے امامؑ نے اپنے دور کے مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ آنے والے دور کے لیے بھی امت کی فکری اور دینی آمادگی کی۔

مولانا نے کہا کہ آج نوجوانوں میں یہ سوالات پیدا کیے جاتے ہیں کہ جب امام موجود اور زندہ ہیں تو تقلید کی کیا ضرورت ہے اور نائب و نیابت کا کیا مفہوم ہے؟ ان سوالات کا جواب امام حسن عسکری علیہ السلام کی سیرت میں ملتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امامؑ نے خطوط اور اپنے وکلا کے ذریعے لوگوں کی رہنمائی کا سلسلہ جاری رکھا۔ اہل علم اور قابل اعتماد افراد کو ذمہ داریاں سونپ کر امت کی دینی رہنمائی اور اصلاح کا انتظام کیا گیا۔ جب ہر شخص سے براہ راست ملاقات ممکن نہیں ہوتی تھی تو امامؑ خطوط کے ذریعے رہنمائی فرماتے اور ضرورت کے مطابق بااعتماد افراد کو اپنا نمائندہ مقرر کرتے تھے۔

مولانا سید مہدی عباس زیدی نے کہا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے اسی نظام کے ذریعے لوگوں کو اس دور کے لیے تیار کیا جس میں امام سے براہ راست رابطہ ممکن نہیں ہونا تھا۔ اس طرح شریعت کے احکام اور دینی رہنمائی اہل علم اور نمائندوں کے ذریعے لوگوں تک پہنچانے کا راستہ واضح کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ آج ہمارے امام زمانہ علیہ السلام غیبت میں ہیں، اس لیے صرف انتظار کرنا ہماری ذمہ داری نہیں بلکہ ہمیں اپنی عملی ذمہ داریاں بھی ادا کرنی ہیں۔ انتظارِ امام کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کو امامؑ کی تعلیمات کے مطابق ڈھالے اور خود کو ان کی نصرت کے لیے اہل بنائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم حقیقی معنوں میں امام زمانہ علیہ السلام کے منتظر ہیں تو اس کا اثر ہمارے اخلاق، کردار، عبادت، طرزِ زندگی اور معاشرتی ذمہ داریوں میں نمایاں ہونا چاہیے۔ بالخصوص نئی نسل کی دینی اور اخلاقی تربیت پر توجہ دینا ہماری اہم ذمہ داری ہے۔

خطاب کے اختتام پر مولانا نے مؤمنین کے لیے دعا کرتے ہوئے پروردگار عالم سے ائمہ علیہم السلام کی سیرت پر عمل کرنے اور حقیقی منتظرِ امام بننے کی توفیق طلب کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha