حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت اور آغاز امامت امام عصر ارواحنا فداہ کے موقع پر ہندوستان کے فعال مبلغ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید ابوالحسن نقوی نے حوزہ نیوز کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے امام حسن عسکریؑ کی سیرت و تعلیمات، اصلاحِ معاشرہ، اخلاقی تربیت، خاندانی استحکام، نوجوانوں کی ذمہ داری اور ضرورت مندوں کی مدد سمیت مختلف اہم موضوعات پر اظہارِ خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کی تعلیمات آج بھی معاشرے کی اصلاح اور ایک بہتر اسلامی زندگی کی تشکیل کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ ان کے نزدیک حقیقی دینداری صرف عبادات تک محدود نہیں، بلکہ اس کا عملی اظہار انسان کے اخلاق، معاملات اور سماجی رویے میں بھی ہونا چاہیے۔
مکمل انٹرویو حسبِ ذیل ہے:
حوزہ نیوز: السلام علیکم و رحمۃ اللہ۔ سب سے پہلے اپنا مختصر تعارف کرائیں تاکہ قارئین آپ سے واقف ہو سکیں۔
مولانا سید ابوالحسن نقوی: وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ سب سے پہلے میں حوزہ نیوز ایجنسی کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے یہ موقع فراہم کیا۔ میں سید ابوالحسن نقوی، اعظم گڑھ سے ہوں اور اس وقت دینی خدمت اور تبلیغی سرگرمیوں میں مصروف ہوں۔
حوزہ نیوز: امام حسن عسکری علیہ السلام کی نظر میں اصلاحِ معاشرہ کی بنیاد کیا تھی؟
مولانا سید ابوالحسن نقوی: امام حسن عسکری علیہ السلام کی تعلیمات میں اصلاحِ معاشرہ کی بنیاد ایمان، تقویٰ اور حسنِ اخلاق پر استوار ہے۔ انسان جب سب سے پہلے اپنے کردار اور عمل کی اصلاح کرتا ہے، تب ہی معاشرے میں حقیقی اور پائیدار اصلاح پیدا ہوتی ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ
’’بے شک اللہ عدل، احسان اور رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برائی اور زیادتی سے روکتا ہے۔‘‘
(سورۂ نحل، آیت 90)
یہ آیت دراصل ایک صالح معاشرے کے بنیادی اصولوں کو بیان کرتی ہے؛ یعنی عدل، احسان، صلۂ رحمی اور برائی سے اجتناب۔ امام حسن عسکریؑ کی تعلیمات میں بھی ان اصولوں کو نمایاں مقام حاصل ہے۔
حوزہ نیوز: آج کے معاشرے میں حسنِ اخلاق کی کیا اہمیت ہے؟
مولانا سید ابوالحسن نقوی: اسلام میں اخلاق محض ایک ذاتی خوبی نہیں، بلکہ اصلاحِ معاشرہ کی بنیادی ضرورت ہے۔ انسان کا دوسروں کے ساتھ برتاؤ ہی اس کے کردار کی حقیقی پہچان بنتا ہے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کی تعلیمات میں تواضع، حسنِ سلوک، ضبطِ نفس اور دوسروں کے احترام کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے:
وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا
’’اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔‘‘
(سورۂ بقرہ، آیت 83)
امام حسن عسکری علیہ السلام سے منقول ہے:
مِنَ التَّوَاضُعِ السَّلَامُ عَلَى كُلِّ مَنْ تَمُرُّ بِهِ، وَالْجُلُوسُ دُونَ شَرَفِ الْمَجْلِسِ۔
’’تواضع میں یہ بھی ہے کہ جس شخص کے پاس سے گزرو اسے سلام کرو اور مجلس میں نمایاں مقام کے بجائے معمولی جگہ پر بیٹھو۔‘‘
یہ تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ اسلامی معاشرے میں عزت و احترام کا معیار ظاہری مقام نہیں، بلکہ انسان کا کردار اور تواضع ہے۔

حوزہ نیوز: امام حسن عسکری علیہ السلام کی تعلیمات میں سماجی اتحاد کا کیا مقام ہے؟
مولانا سید ابوالحسن نقوی: حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنے پیروکاروں کو ایسا کردار اپنانے کی تعلیم دی جس سے وہ معاشرے میں احترام، اعتماد، محبت اور بھائی چارے کا سبب بنیں۔ آج مسلم معاشرے کو جس اتحاد اور باہمی اعتماد کی ضرورت ہے، اس کے لیے امامؑ کی یہ تعلیمات انتہائی اہم ہیں۔
امام علیہ السلام نے اپنے پیروکاروں کو تقویٰ، پرہیزگاری، سچائی اور امانت داری کی وصیت فرمائی۔ آپؑ سے منقول ہے:
أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالْوَرَعِ فِي دِينِكُمْ، وَالاجْتِهَادِ لِلَّهِ، وَصِدْقِ الْحَدِيثِ، وَأَدَاءِ الْأَمَانَةِ...
’’میں تمہیں اللہ سے ڈرنے، اپنے دین میں پرہیزگاری اختیار کرنے، اللہ کے لیے کوشش کرنے، سچی بات کہنے اور امانت ادا کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔‘‘
اگر ہم ان اصولوں کو اپنی اجتماعی زندگی کا حصہ بنا لیں تو بہت سے اختلافات اور معاشرتی مسائل خود بخود کم ہو سکتے ہیں۔
حوزہ نیوز: جھوٹ، بدگمانی اور باہمی اختلاف جیسے معاشرتی مسائل کا علاج کیا ہے؟
مولانا سید ابوالحسن نقوی: ہمارے معاشرے کے بہت سے مسائل کی ابتدا زبان سے ہوتی ہے۔ جھوٹ، غیبت، بدگمانی، الزام تراشی اور لوگوں کے درمیان پھوٹ ڈالنا ایسے عوامل ہیں جو معاشرے کے اعتماد کو تباہ کر دیتے ہیں۔ اسی لیے اسلام نے ان امور سے سختی سے روکا ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُم بَعْضًا
’’اے ایمان والو! بہت سی بدگمانیوں سے بچو، بے شک بعض بدگمانیاں گناہ ہیں۔ جاسوسی نہ کرو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔‘‘
(سورۂ حجرات، آیت 12)
لہٰذا معاشرتی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی زبان اور رویے پر قابو رکھے اور کسی خبر یا بات کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی حقیقت جاننے کی کوشش کرے۔
حوزہ نیوز: نوجوانوں کی اصلاح و تربیت میں امام حسن عسکری علیہ السلام کی تعلیمات کس طرح رہنمائی کرتی ہیں؟
مولانا سید ابوالحسن نقوی: نوجوان کسی بھی معاشرے کا مستقبل ہوتے ہیں۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کی تعلیمات میں علم، ایمان، خود پر قابو، غور و فکر اور حسنِ کردار کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ آج ہمارے نوجوانوں کو صرف معلومات کی نہیں، بلکہ صحیح فکر، مقصدِ زندگی اور مضبوط کردار کی بھی ضرورت ہے۔
امام حسن عسکری علیہ السلام سے منقول ہے:
لَيْسَتِ الْعِبَادَةُ كَثْرَةَ الصِّيَامِ وَالصَّلَاةِ، وَإِنَّمَا الْعِبَادَةُ كَثْرَةُ التَّفَكُّرِ فِي أَمْرِ اللَّهِ۔
’’عبادت صرف کثرت سے روزہ رکھنے اور نماز پڑھنے کا نام نہیں، بلکہ اللہ کے معاملے میں کثرت سے غور و فکر کرنا بھی عبادت ہے۔‘‘
یہ تعلیم نوجوانوں کو بتاتی ہے کہ دین محض ظاہری اعمال کا نام نہیں، بلکہ شعور، معرفت اور فکر بھی دینی زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔
حوزہ نیوز: خاندان اور رشتوں کی مضبوطی کے لیے امام حسن عسکری علیہ السلام کی سیرت سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟
مولانا سید ابوالحسن نقوی: خاندان اسلامی معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔ اگر خاندان میں محبت، احترام، درگزر اور رشتوں کی پاسداری موجود ہو تو اس کے مثبت اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے:
وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَىٰ
’’اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نیز والدین اور رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔‘‘
(سورۂ نساء، آیت 36)
صلۂ رحمی اور رشتہ داروں کے حقوق کی ادائیگی اسلامی معاشرت کا اہم حصہ ہے۔ آج جب خاندانی نظام مختلف مسائل سے دوچار ہے، ہمیں اہل بیتؑ کی تعلیمات سے رہنمائی لیتے ہوئے خاندان میں محبت، احترام اور باہمی تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔
حوزہ نیوز: معاشرے کے کمزور اور ضرورت مند افراد کے تئیں ہماری کیا ذمہ داری ہے؟
مولانا سید ابوالحسن نقوی: اسلام میں اصلاح کا مطلب صرف اپنی ذاتی دینداری تک محدود رہنا نہیں، بلکہ معاشرے کے کمزور طبقات کا خیال رکھنا بھی ہماری دینی ذمہ داری ہے۔ غریب، یتیم، بیمار، ضرورت مند اور بے سہارا افراد کی مدد اسلامی تعلیمات کا اہم حصہ ہے۔
امام حسن عسکری علیہ السلام کی سیرت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ مومن صرف اپنے لیے نہیں جیتا، بلکہ اسے دوسروں کے حقوق اور ضروریات کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ حقیقی ایمان کا ایک مظہر یہ ہے کہ انسان اپنے اردگرد موجود ضرورت مندوں کی مشکلات کو محسوس کرے اور اپنی استطاعت کے مطابق ان کی مدد کرے۔
حوزہ نیوز: نو ربیع الاول کی تاریخ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی امامت کے آغاز سے بھی منسوب ہے۔ اس دن کی اہمیت کو آپ کس طرح بیان کریں گے؟
مولانا سید ابوالحسن نقوی: نو ربیع الاول ہمارے لیے اس اعتبار سے ایک اہم تاریخ ہے کہ یہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد حضرت ولی عصر امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے منصبِ امامت پر فائز ہونے کی یاد دلاتی ہے۔ امامیہ عقیدے کے مطابق امام حسن عسکریؑ کے بعد امامت کا سلسلہ حضرت حجت ابن الحسنؑ تک پہنچا اور یوں سلسلۂ امامت اپنی آخری کڑی تک پہنچا۔ اس موقع کو محض ایک تاریخی واقعے کے طور پر دیکھنا کافی نہیں، بلکہ اس کے اعتقادی اور تربیتی پہلو کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ غیبت کے زمانے میں امام کی معرفت، ان سے قلبی وابستگی، دینی احکام کی پابندی اور انتظارِ فرج دراصل ایک ذمہ دار مومن کی زندگی کا حصہ ہیں۔
امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا انتظار کسی غیرفعال کیفیت یا صرف مستقبل کے ایک واقعے کا انتظار نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی عملی ذمہ داری ہے جس میں انسان اپنے کردار کو عدل، تقویٰ، اخلاق اور حق پسندی کے مطابق ڈھالتا ہے۔ حقیقی منتظر وہ ہے جو اپنے معاشرے میں ظلم، ناانصافی، جھوٹ اور اخلاقی برائیوں کے مقابلے میں مثبت کردار ادا کرے اور اپنے عمل سے امامؑ کے عالمی مشنِ عدل و قسط کے لیے خود کو تیار کرے۔ اسی لیے 9 ربیع الاول ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ امامِ عصرؑ سے عقیدت کا تقاضا صرف زبان سے محبت کا اظہار نہیں، بلکہ اپنی ذات، خاندان اور معاشرے کی اصلاح کے ذریعے ایک صالح اور عادلانہ معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنا بھی ہے۔
حوزہ نیوز: آج کے معاشرے کے لیے امام حسن عسکری علیہ السلام کا سب سے اہم پیغام کیا ہے؟
مولانا سید ابوالحسن نقوی: میرے خیال میں آج امام حسن عسکری علیہ السلام کے پیغام کو تین بنیادی الفاظ میں سمجھا جا سکتا ہے: تقویٰ، اخلاق اور سماجی ذمہ داری۔
ہمیں اپنے ایمان کو اچھے کردار اور نیک عمل میں تبدیل کرنا ہوگا۔ صرف مذہبی دعوے کافی نہیں ہیں؛ ہمارے رویے، معاملات اور کردار سے بھی دین کی خوبصورتی ظاہر ہونی چاہیے۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے:
إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ
’’بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔‘‘
(سورۂ حجرات، آیت 13)
لہٰذا اگر ہم امام حسن عسکری علیہ السلام کی تعلیمات کو اپنی اجتماعی زندگی میں نافذ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کا آغاز اپنی ذات سے کرنا ہوگا۔ اپنی زبان کو سچائی کا عادی بنانا، اپنے رویے میں نرمی اور تواضع پیدا کرنا، معاملات میں امانت داری اختیار کرنا، رشتوں کا احترام کرنا اور دل میں انسانیت کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا۔
یہی ذاتی اصلاح آگے چل کر اصلاحِ معاشرہ کی بنیاد بنتی ہے اور یہی امام حسن عسکری علیہ السلام کی تعلیمات سے ہمارے لیے ایک اہم عملی پیغام ہے۔









آپ کا تبصرہ