اتوار 20 ستمبر 2026 - 23:00
اصلاحِ معاشرہ حسینی تبلیغی مشن کا بنیادی ہدف ہے: مولانا سید تقی حیدر نقوی

حوزہ/ مجمع علماء و واعظین پورواچل اور مدرسہ حسینیہ گھوسی کے اشتراک سے منعقدہ ایک روزہ تعلیمی، تربیتی و اصلاحی جلسے میں حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید تقی حیدر نقوی نے "اصلاحِ معاشرہ، حسینی تبلیغی مشن کا بنیادی ہدف" کے عنوان سے مقالہ پیش کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجمع علماء و واعظین پورواچل اور مدرسہ حسینیہ گھوسی کے اشتراک و تعاون سے گھوسی، ضلع مئو، ہندوستان میں "حسینی تبلیغی مشن" کے عنوان سے ایک روزہ عظیم الشان تعلیمی، تربیتی و اصلاحی جلسہ منعقد ہوا۔ اس موقع پر حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید تقی حیدر نقوی نے "اصلاحِ معاشرہ، حسینی تبلیغی مشن کا بنیادی ہدف" کے عنوان سے ایک مقالہ پیش کیا، جس کا مکمل متن درج ذیل ہے:

اصلاحِ معاشرہ حسینی تبلیغی مشن کا بنیادی ہدف ہے: مولانا سید تقی حیدر نقوی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اصلاحِ معاشرہ صرف ایک تقریری موضوع نہیں بلکہ امت کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ قرآن مجید انسان کو اپنی اصلاح، عدل، احسان، خیر کی دعوت اور برائی سے روکنے کا مکلف بناتا ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنی تحریک کا مقصد بھی امتِ جد کی اصلاح اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر بیان فرمایا۔

اس کتابچے کا مقصد یہ ہے کہ اصلاحِ معاشرہ کو محض وعظ و نصیحت کے دائرے سے نکال کر فرد، خاندان، نوجوان، تعلیم، معیشت، اخلاق، میڈیا، خدمتِ خلق اور دینی قیادت کے عملی میدانوں سے جوڑا جائے۔

1۔ اصلاحِ معاشرہ: مفہوم اور ضرورت

معاشرہ افراد کا محض ہجوم نہیں بلکہ افکار، اقدار، اخلاق، تعلقات، اداروں اور اجتماعی رویوں کا مربوط نظام ہے۔ اس لیے معاشرتی اصلاح صرف چند افراد کو نصیحت کرنے سے مکمل نہیں ہوتی؛ فکر، کردار، خاندان، تعلیم، معیشت اور اجتماعی ذمہ داری سب کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔

اصلاح کا مطلب خرابی کی نشاندہی کے ساتھ اس کا مثبت متبادل پیدا کرنا ہے: جہالت کے مقابل علم، ظلم کے مقابل عدل، نفرت کے مقابل محبت، خود غرضی کے مقابل ایثار، بے مقصدی کے مقابل مقصدِ حیات، اور بے حسی کے مقابل خدمت۔

قرآن فرماتا ہے: «إِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ»۔ (الرعد 13:11) یعنی اجتماعی تبدیلی کا بنیادی دروازہ انسانی باطن اور رویے کی تبدیلی ہے۔

2۔ قرآن کا تصورِ صالح معاشرہ

قرآن مجید صالح معاشرے کو عدل، احسان، رشتہ داری کے حقوق، پاکیزگی اور ظلم سے اجتناب کے اصولوں پر قائم کرتا ہے۔ ارشاد ہے: «إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ»۔ (النحل 16:90)

اسی طرح فرمایا: «وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ»۔ (آل عمران 3:104)

قرآنی تصور میں دین فرد کو معاشرے سے کاٹتا نہیں بلکہ اسے ذمہ دار شہری، عادل انسان اور خیر کا داعی بناتا ہے۔

3۔ اصلاح کا آغاز خود انسان سے

اصلاحِ معاشرہ کا سب سے مشکل مگر سب سے بنیادی مرحلہ خود اصلاح ہے۔ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں: «

مَنْ نَصَبَ نَفْسَهُ لِلنَّاسِ إِمَاماً فَلْيَبْدَأْ بِتَعْلِيمِ نَفْسِهِ قَبْلَ تَعْلِيمِ غَيْرِهِ، وَلْيَكُنْ تَأْدِيبُهُ بِسِيرَتِهِ قَبْلَ تَأْدِيبِهِ بِلِسَانِهِ»۔ نہج البلاغہ، حکمت 73

یعنی جو شخص لوگوں کی رہنمائی کرنا چاہتا ہے اسے پہلے اپنی تعلیم و تربیت کرنی چاہیے، اور زبان سے پہلے اپنے عمل سے تعلیم دینی چاہیے۔ مبلغ کی اصل طاقت اس کی آواز نہیں، اس کا کردار ہے۔

4۔ امام حسینؑ اور اصلاحِ امت

امام حسین علیہ السلام کی وصیتِ محمد بن حنفیہ اصلاحِ معاشرہ کے لیے ایک بنیادی منشور کی حیثیت رکھتی ہے: «إِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشِراً وَلَا بَطِراً وَلَا مُفْسِداً وَلَا ظَالِماً، وَإِنَّمَا خَرَجْتُ لِطَلَبِ الإِصْلَاحِ فِي أُمَّةِ جَدِّي، أُرِيدُ أَنْ آمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَأَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ...»۔

اس بیان میں اصلاح کا مقصد، طریقہ اور اخلاق تینوں جمع ہیں: ذاتی غرور اور فساد سے پاک مقصد، معروف کی ترویج، منکر کی روک تھام، اور رسول اکرمؐ و امیرالمؤمنینؑ کی سیرت سے وابستگی۔

کربلا ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اصلاح صرف تقریر نہیں؛ کبھی اصلاح کے لیے صبر، قربانی، استقامت، شعور اور مسلسل تربیت درکار ہوتی ہے۔ امام حسینؑ کے بعد امام سجادؑ اور اہل بیتؑ کی علمی و تربیتی جدوجہد نے اسی اصلاحی تسلسل کو آگے بڑھایا۔

5۔ امر بالمعروف: حکمت، اخلاق اور ذمہ داری

قرآن دعوت کا طریقہ بھی متعین کرتا ہے: «ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ»۔ (النحل 16:125) لہٰذا امر بالمعروف کا مقصد انسان کی تذلیل نہیں بلکہ خیر کی طرف رہنمائی ہے۔

ایک مؤثر مصلح علم، حکمت، خیرخواہی، نرم گفتاری، حالات شناسی اور عملی مثال کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ فقہی اعتبار سے بھی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے لیے شرائط اور مراحل بیان کیے گئے ہیں؛ اس لیے اصلاح کو جذباتی ردعمل کے بجائے ذمہ دارانہ عمل بنانا چاہیے۔

اصلاحِ معاشرہ حسینی تبلیغی مشن کا بنیادی ہدف ہے: مولانا سید تقی حیدر نقوی

6۔ خاندان: معاشرے کی پہلی درسگاہ

بچے کی پہلی درسگاہ گھر ہے۔ وہ والدین کے الفاظ سے زیادہ ان کے رویوں سے سیکھتا ہے۔ گھر میں احترام ہوگا تو احترام سیکھے گا، مطالعہ ہوگا تو علم سے محبت پیدا ہوگی، خدمت ہوگی تو انسانیت کا احساس بڑھے گا۔

لہٰذا اصلاحی تحریک کا ایک اہم مرکز خاندان ہونا چاہیے: والدین کی تربیت، بچوں کے ساتھ مکالمہ، بزرگوں کا احترام، ازدواجی ذمہ داری، گھریلو مطالعہ اور عبادت کا ماحول۔

7۔ نوجوان: اصلاح کے اصل مخاطب

نوجوانوں کو صرف سامع نہیں بلکہ شریکِ اصلاح بنانا ہوگا۔ انہیں سوال پوچھنے، تحقیق کرنے، دلیل سمجھنے، جدید علوم سیکھنے اور معاشرے کی خدمت کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

نوجوانوں کے لیے دینی تعلیم کے ساتھ سائنسی شعور، زبانیں، ٹیکنالوجی، پیشہ ورانہ مہارت، مطالعہ، گفتگو اور قیادت کی تربیت ضروری ہے۔ حسینی تبلیغی مشن کا نوجوان پروگرام 'سوال، مطالعہ، خدمت اور قیادت' کے چار ستونوں پر قائم کیا جا سکتا ہے۔

8۔ تعلیم اور فکری بیداری

اسلامی تہذیب کی پہلی وحی «اقْرَأْ» سے شروع ہوتی ہے۔ تعلیم صرف روزگار کا وسیلہ نہیں؛ یہ انسان کو سوال کرنے، دلیل سمجھنے، سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے اور ذمہ دار فیصلے کرنے کے قابل بناتی ہے۔

ہمیں ایسے تعلیمی مراکز، مطالعہ حلقے، لائبریریاں، اسکالرشپ، کیریئر گائیڈنس اور تربیتی پروگرام قائم کرنے چاہئیں جن میں دینی گہرائی اور عصری شعور ساتھ ساتھ پروان چڑھے۔

9۔ عدل، امانت اور معاشی اخلاق

قرآن عدل کو بنیادی اجتماعی قدر قرار دیتا ہے: «اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ»۔ (المائدہ 5:8) اصلاحِ معاشرہ میں جھوٹ، دھوکہ، ملاوٹ، حق تلفی، وعدہ خلافی اور ناجائز فائدہ اٹھانے جیسے رویوں کی اصلاح ضروری ہے۔

امام علیؑ کی اجتماعی تعلیمات میں عدل، امانت، کمزوروں کے حقوق اور بیت المال کی حفاظت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اصلاحی تحریک کو اخلاقی معیشت، شفافیت، حلال روزگار اور ضرورت مندوں کی باعزت مدد کو عملی ترجیحات بنانا چاہیے۔

10۔ خدمتِ خلق اور سماجی ذمہ داری

قرآن فرماتا ہے: «وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ»۔ (الذاریات 51:19) ضرورت مند کی مدد محض احسان نہیں بلکہ اسلامی سماجی ذمہ داری کا حصہ ہے۔

حسینی تبلیغی مشن کے تحت تعلیمی معاونت، طبی امداد، روزگار رہنمائی، یتیم و بیوہ کفالت، بزرگوں کی خدمت اور آفات میں امداد کے منظم پروگرام قائم کیے جا سکتے ہیں۔

11۔ اختلاف، وحدت اور اخلاقِ گفتگو

اختلاف علمی زندگی کا حصہ ہے، لیکن اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنا اصلاح کے خلاف ہے۔ قرآن فرماتا ہے: «وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ»۔ (الانفال 8:46)

اپنے عقائد پر مضبوط رہتے ہوئے گفتگو میں شائستگی، دلیل، انصاف اور دوسروں کے انسانی احترام کو قائم رکھنا ضروری ہے۔ اہل بیتؑ کی محبت کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ ہمارا اخلاق ہمارے موقف کی گواہی دے۔

12۔ سوشل میڈیا اور نئی تبلیغ

آج ایک موبائل فون ایک شخص کو ہزاروں افراد تک پہنچا سکتا ہے۔ اس لیے ہر مومن، خاص طور پر نوجوان، ڈیجیٹل اخلاق کا بھی ذمہ دار ہے۔ جھوٹی خبر، بے بنیاد الزام، غیبت، تحقیر اور نفرت پھیلانے کے بجائے مستند علم، مختصر دینی تعلیم، مثبت سماجی پیغام اور خدمت کے مواقع شیئر کیے جائیں۔

اصلاحی میڈیا کا اصول ہونا چاہیے: تصدیق، اختصار، شائستگی، دلیل اور خیر۔

13۔ علماء و واعظین کی ذمہ داریاں

مبلغ کو صرف روایتی موضوعات نہیں بلکہ اپنے معاشرے کے حقیقی مسائل بھی سمجھنے چاہئیں: تعلیم، روزگار، نشہ آور عادات، خاندانی تنازعات، نوجوانوں کی ذہنی الجھنیں، ڈیجیٹل ماحول، غربت اور سماجی تنہائی۔

مبلغ کی تیاری میں قرآن و حدیث کے ساتھ سماجیات، نفسیات، تاریخ، مواصلات اور عصری مسائل کی بنیادی واقفیت مفید ہے۔ ہر خطاب کا مقصد سامع کو صرف متاثر کرنا نہیں بلکہ اسے ایک بہتر عمل کی طرف لے جانا ہونا چاہیے۔

14۔ فلسفہ اور سماجیات کی روشنی میں اصلاح

ارسطو نے اخلاقی کردار کو عادت اور عملی تربیت سے جوڑا؛ جدید سماجی فکر نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ انسان کا رویہ صرف انفرادی ارادے سے نہیں بلکہ خاندان، اداروں، معاشی حالات، تعلیم اور سماجی ماحول سے تشکیل پاتا ہے۔

اس سے ایک اہم نتیجہ نکلتا ہے: اگر ہم معاشرتی اصلاح چاہتے ہیں تو صرف افراد کو ملامت کرنا کافی نہیں؛ ہمیں ایسے ماحول اور ادارے بھی بنانے ہوں گے جو اچھے کردار، علم، تعاون اور ذمہ داری کو آسان بنائیں۔

اسلامی زاویے سے یہ بات 'تزکیۂ نفس' اور 'اصلاحِ اجتماعی' دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کی دعوت دیتی ہے: انسان بھی بدلے اور وہ ماحول بھی بہتر ہو جس میں انسان زندگی گزارتا ہے۔

15۔ حسینی تبلیغی مشن: عملی منشور

• علم: ہر محلے میں مطالعہ اور تربیتی حلقہ۔

• تربیت: والدین، نوجوانوں اور بچوں کے لیے الگ الگ پروگرام۔

• خدمت: مستحقین کے لیے منظم سماجی خدمت۔

• تعلیم: اسکالرشپ، کتابیں، ٹیوشن اور کیریئر رہنمائی۔

• نوجوان: فکری فورم، سوال و جواب، مباحثہ اور قیادت کی تربیت۔

• ابلاغ: مستند اور اخلاقی سوشل میڈیا مواد۔

• اتحاد: باوقار مکالمہ اور مشترکہ انسانی مسائل پر تعاون۔

• شفافیت: ہر منصوبے کی سالانہ کارکردگی اور مالی رپورٹ۔

16۔ ایک سالہ عملی ایکشن پلان

پہلا سہ ماہی

محلہ وار سروے؛ تعلیمی و سماجی مسائل کی شناخت؛ نوجوانوں کی ٹیمیں؛ ہفتہ وار مطالعہ حلقے۔

دوسرا سہ ماہی

والدین تربیتی نشستیں؛ اسکالرشپ و تعلیمی مدد؛ کیریئر گائیڈنس؛ سوشل میڈیا تربیت۔

تیسرا سہ ماہی

خدمتِ خلق مہم؛ طبی و سماجی کیمپ؛ نوجوانوں کا تربیتی کیمپ؛ بین العلاقائی مبلغین ورکشاپ۔

چوتھا سہ ماہی

کارکردگی کا جائزہ؛ کامیاب منصوبوں کی توسیع؛ سالانہ اصلاحِ معاشرہ کانفرنس؛ اگلے سال کا منصوبہ۔

17۔ حسینی عہدنامہ

ہم عہد کرتے ہیں کہ ہم اصلاح کا آغاز اپنے آپ سے کریں گے؛ جھوٹ، غیبت، ظلم اور حق تلفی سے بچنے کی کوشش کریں گے؛ والدین اور خاندان کے حقوق ادا کریں گے؛ علم و مطالعہ کو فروغ دیں گے؛ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کریں گے؛ ضرورت مندوں کی باعزت مدد کریں گے؛ اختلاف میں اخلاق کا دامن نہیں چھوڑیں گے؛ سوشل میڈیا کو خیر، علم اور ذمہ دارانہ ابلاغ کے لیے استعمال کریں گے؛ اور جہاں تک ممکن ہو اپنے معاشرے میں خیر کو بڑھانے اور شر کو کم کرنے کی عملی کوشش کریں گے۔

اصلاحِ معاشرہ حسینی تبلیغی مشن کا بنیادی ہدف ہے: مولانا سید تقی حیدر نقوی

18۔ اختتامی پیغام

ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ کربلا میں کیا ہوا؛ ہمیں یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ کربلا ہمارے اندر کیا پیدا کر رہی ہے۔ اگر کربلا ہمیں حق، عدل، علم، خدمت، استقامت اور ذمہ داری کی طرف لے جا رہی ہے تو کربلا ہمارے لیے زندہ پیغام ہے۔

حسینی ہونے کا مطلب صرف حسینؑ کا نام لینا نہیں؛ حسینی ہونے کا مطلب حق کے ساتھ کھڑا ہونا، مظلوم کا ساتھ دینا، ظلم سے انکار کرنا، نفس کی اصلاح کرنا اور معاشرے میں خیر کی تعمیر کرنا ہے۔

آئیے حسینی تبلیغی مشن کو ایک روزہ پروگرام تک محدود نہ کریں؛ اسے ایک مسلسل تعلیمی، اخلاقی اور سماجی تحریک بنائیں۔

حقیقتِ ابدی ہے مقامِ شبیری

بدلتے رہتے ہیں اندازِ کوفی و شامی

کربلا کو صرف یاد نہ کریں؛ کربلا کے مقصد کو اپنی زندگی کا کردار بنائیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha