اتوار 1 نومبر 2026 - 16:26
رہبر معظم ؒ کے دست مبارک سے عمامہ گزاری کی کچھ یادیں

حوزہ/ دنیا کی تاریخ میں ایسی بھی شخصیات گزری ہیں جنہوں نے اقتدار کے اعلیٰ منصب پر فائز ہونےکے باوجود سادگی، تواضع  اور انکساری کو اپنی زندگی کا شعار بنایا؛ انہیں شخصیات میں شہید رہبر آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ 

تحریر: ڈاکٹر مولانا شہوار حسین نقوی

حوزہ نیوز ایجنسی| دنیا کی تاریخ میں ایسی بھی شخصیات گزری ہیں جنہوں نے اقتدار کے اعلیٰ منصب پر فائز ہونےکے باوجود سادگی، تواضع اور انکساری کو اپنی زندگی کا شعار بنایا۔ انہیں شخصیات میں شہید رہبر آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ کو نمایاں مقام حاصل ہے۔

آپ ایک عظیم مذہبی قائد اور سیاسی رہنما ہونے کے باوجود اپنی ذاتی زندگی میں سادگی، تواضع اور فروتنی میں بے مثل و بے نظیر تھے۔ آپ کی زندگی اس حقیقت کا عملی نمونہ تھی کہ عظمت کا تعلق ظاہری شان و شوکت سے نہیں بلکہ کردار، اخلاق اور خدمت خلق سے ہوتا ہے۔

اگر چہ آپ ایک بڑے ملک کے سربراہ تھے حکومت آپ کے اختیار میں تھی مگر اس کے باوجود طرز زندگی اتنی سادہ کہ دیکھنے والا محوِ حیرت رہ جاتا ۔ نہ شاہانہ طمطراق نہ حاکمانہ رعب و جلال نہ حکمرانہ تزک و احتشام ۔ آپ کی ذات عجز و انکساری تواضع و اخلاق کا ایسا حسین مرقع تھی کہ جس کے دامن میں صبر، شکیبائی، شکر، توکل، قناعت، استقامت ، شجاعت ، عزم و حوصلے کی ایسی جلوہ گری تھی کہ جس نے آپ کو تمام رہنماؤں سے ممتاز کردیا تھا۔

آپ نے یہ زاہدانہ زندگی اپنے جد حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام سے سیکھی اس لئے کہ آں حضرت، امیر المومنین خلیفۃ المسلمین ہونے کے باوجود بوریا نشین تھے جب آپ سے کہا گیا کہ آپ مسند پر تشریف فرما کیوں نہیں ہوتے تو فرمایا عزت مسند سے نہیں کردار سے حاصل ہوتی ہے۔

رہبر معظم علیہ الرحمہ سیرت امیر المومنین علیہ السلام کا جیتا جاگتا نمونہ تھے ۔ یہ سب مبالغہ آرائی نہیں بلکہ وہ مشاہدہ ہے جو میں نے متعدد بار کیا مجھے چند بار عمومی اور خصوصی ملاقات کا شرف حاصل ہوا اور میری یہ خوش بختی رہی کہ آپ ہی کے دست مبارک سے میری عمامہ گزاری ہوئی اور دست بوسی کا اعزاز حاصل ہوا۔

۱۸؍ ذی الحجہ ۱۴۱۴ھ؁ ۲۹؍ مئی ۱۹۹۴ء؁ بروز عید غدیر وہ مبارک تاریخ تھی کہ جب رہبر معظمؒ کے دست مبارک سے میرے سر پر عمامہ رکھا گیا۔

۲۵؍ ستمبر 1992ء؁ کو میں ایرانی اختبار میں کامیاب ہوکر بسلسلہ حصول علم حوزہ علمیہ قم ایران روانہ ہوا اور قم کی قدیم ترین درسگاہ مدرسہ مبارکہ حجتیہ میں داخلہ ہوا۔ جہاں تمام طلاب بیرونی ممالک ، بیلجیم ، برطانیہ، انڈونیشیا، ملیشیا، تھائی لینڈ، افریقہ وغیرہ کے زیر تعلیم تھے۔ حکومت کی جانب سے ۱۸؍ ذی الحجہ بروز عید غدیررہبر معظمؒ کے دست مبارک سے بیرونی ممالک کے طلاب کی عمامہ گزاری کا پروگرام بنایا گیا جس کے لئے مختلف ممالک کے ممتاز طلاب کو منتخب کیا گیا۔ ہندوستانی طلاب میں تین طلباء کا انتخاب ہوا جن میں راقم کے علاوہ برادر عزیز حجۃ لاسلام مولانا محمد عارف املوی، حجۃ الاسلام مولانا کرار حسین ترابی کے اسماء شامل تھے۔

جیسے ہی مدرسہ کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا خوشی کی انتہا نہ رہی بلکہ یقین نہیں آرہا تھا کہ اس عظیم ذات کے دست مبارک سے سر پر عمامہ رکھا جائے گا۔ شدت سے اس لمحہ کا انتظار تھا کہ کب وہ وقت آئے اور ہم اپنے محبوب رہبر کا دیدار کریں۔

۱۷؍ ذی الحجہ کی تاریخ آئی مدرسہ کی جانب سے پروگرام بتایا گیا کہ نماز صبح کے فوراً بعد تہران کے لئے روانہ ہونا ہے ۔ رات کیسے گزری اسے بیان نہیں کیا جاسکتا۔ رات آنکھوں میں گزری گئی ۔ طلوع صبح کا بے چینی سے انتظار تھا یہاں تک کہ حرم معصومہ سلام اللہ علیہا کے منارہ سے اللہ اکبر کی صدا گونجی اس صدا سے روح کو بالیدگی ملی نماز فجر ادا کرنے کے بعد تیار ی میں مشغول ہوئے اتنے میں مدرسہ کے لاؤڈ اسپیکر سے اعلان ہوا کہ مدرسہ کے باہر بس تیار ہے ۔ جلد از جلد طلاب بس پر سوار ہوں۔ اس اعلان کا سننا تھا کہ ہم لوگ جلدی جلدی مدرسہ سے باہر آئے اور بس پر سوار ہوئے ہمارے ساتھ مدرسہ کے مسئولین بھی تھے۔ راستے ہی میں ناشتہ وغیرہ کیا اور وقت مقرر پر معظم لہ کے دولت کدے پر حاضر ہوگئے۔ سخت حفاظتی انتظامات تھے۔ روز غدیر ہونے کی وجہ سے حکومت کے وزراء ، حکام رہبر معظمؒ کی خدمت میں مبارک باد پیش کرنے حاضر ہورہے تھے۔ ان معزز حضرات سے بھی ملاقات ہوئی ۔ جن میں حجۃ الاسلام آقای ناطق نوری سابق اسپیکر پارلیمنٹ آف ایران شامل تھے۔ پھر کچھ وقفہ کے بعدہمیں اس کمرہ میں لے جایا گیا جس میں آقای محترم تشریف فرما تھے ہمارے ذہن میں خیال تھا کہ ہم ایک سربراہ مملکت کے گھر جارہے ہیں تو عالیشان محل ہوگا جو جھاڑ فانوس و آلات آرائش سے آراستہ ہوگا قیمتی اور گراں قالین زیر پا ہوں گی حریر و دیبا کے پردے ہوں گے مگر جب کمرہ میں داخل ہوئے تو حیرت کی انتہا نہ رہی کہ ایک چھوٹا سا کمرہ تھا نہ قیمتی سوفے نہ اسباب آرائش مگر سادگی ہی اس کمرہ کی زینت تھی۔ یہی وہ کمرہ تھا جس میں دنیا کے بڑے بڑے سلاطین و حکمراں آپ سے ملاقات کرنے حاضر ہوتے تھے۔ اور آپ کی سادہ زندگی دیکھ کر حیران رہ جاتے تھے۔

غرض کہ جس وقت میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کے چہرہ کی تابانی دیکھ کر ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے کوئی فرشتہ زمین پر اتر آیا ہو۔ بلند قامت، نورانی مسکراتا چہرہ ، کشادہ پیشانی ، پیشانی پر چمکتا ہوا سجدہ کا نشان، بھرے ہوئے بازو، گھنی سفید ڈاڑھی، گلابی رنگ، لبوں پر تبسم دیکھ کر بے ساختہ زبان پر درود و سلام جاری ہوگیا۔ پھر وہ لمحہ آیا جس کا بے صبری سے انتظار تھا مجھے آگے بلایا گیا میں آگے بڑھا اور آپ نے کثیر تعداد میں علماء کی موجودگی میں میرے سر پر عمامہ رکھا میں نے آگے بڑھ کر مصافحہ اور دست بوسی کی۔ اس وقت کیفیت یہ تھی کہ آپ کے پر کشش چہرہ سے نگاہ ہٹ ہی نہیں رہی تھی۔ آپ نے انتہائی دل پذیر انداز میں تقویٰ و پرہیزگاری کی نصیحت کرتے ہوئے دستار کی عظمت اور شرعی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ فرمایا۔

یہ وہ زندگی کا یادگار لمحہ تھا جسے میں آج تک فراموش نہیں کرسکا ۔

دوسرا موقع تھا کہ جب رہبر معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای علیہ الرحمہ ایک ہفتے کے لئے قم تشریف لائے آپ کا قیام اپنے دفتر واقع صفائیہ پر تھا ایک دن مدرسہ کی جانب سے بیرونی ممالک کے چند طلباء کو آپ کی اقتداء میں نماز مغربین ادا کرنے کے لئے لے جایا گیا اس میں بھی راقم کا نام آیا اور ہم چند طلاب آپ کے آفس صفائیہ گئے نماز کے لئے جب صفیں مرتب ہوئیں تو مجھے دوسری صف میں آپ کے عقب میں جگہ ملی آپ کی اقتداء میں نماز ادا کی آپ کی قرأت اور لحن سے ایک روحانی سرور حاصل ہوا۔ نماز سے فراغت کے بعد مصافحہ کیا چونکہ نماز مین چنندہ افراد تھے اس لئے کافی دیر تک آپ ہم سب کے درمیان رہے میں کافی دیر تک دست بوسی کرتا رہا اور آپ مسکراتے رہے۔ یہ وہ یادگار مناظر تھے جو آج بھی میری نظروں میں گردش کررہے ہیں۔ افسوس آج ہمارا شفیق و محبوب رہبر ہم سے جدا ہوگیا مگر ان کی یادیں اور تعلیمات ہمارے لئے مشعل راہ بنی رہیں گی ۔ رب کریم سے دعا ہے کہ آپ پر اپنی مخصوص رحمتیں نازل کرے اور شہداء کربلا کے ساتھ محشور فرمائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha