حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی ولادت باسعادت کے موقع پر مسجد امامیہ امروہہ ہندوستان میں سیرت امام پر تقریر کرتے ہوئے مولانا شہوار حسین نقوی نے کہا کہ امام کی ایک امانت ہمارے پاس ہے جسے صحیفہ سجادیہ کہا جاتا ہے یہ امام زین العابدین حضرت امام علی بن الحسین علیہ السلام کی عظیم دعاؤں کا مجموعہ ہے۔ صحیفہ سجادیہ اسلامی تعلیمات، اخلاقی اقدار، روحانی تربیت اور معرفتِ الٰہی کا ایک گراں قدر سرمایہ ہے۔ اس کتاب کو اس کے بلند علمی و ادبی مقام کے باعث زبورِ آلِ محمد بھی کہا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صحیفۂ سجادیہ محض دعاؤں کی کتاب نہیں، بلکہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی اصلاح کا ایک جامع منشور ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا، توبہ و استغفار، والدین کے حقوق، اولاد کی تربیت، ہمسایوں سے حسنِ سلوک، معاشرتی ذمہ داریوں، رزق، صحت، مصائب اور انسانی تعلقات سے متعلق نہایت اہم تعلیمات موجود ہیں۔
مولانا سید شہوار حسین نقوی نے کہا کہ صحیفہ سجادیہ کی ایک نمایاں خصوصیت اس کی ادبی عظمت ہے۔ امام زین العابدین علیہ السلام نے نہایت فصیح، بلیغ اور مؤثر زبان میں ایسے مضامین بیان کیے ہیں جو انسان کے قلب و ذہن پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ ان دعاؤں میں توحید، بندگی، عاجزی، شکرگزاری اور امید و رجاء کے مضامین دل نشیں انداز میں پیش کیے گئے ہیں
انہوں نے مزید کہا کہ صحیفۂ سجادیہ کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں دعا کے ذریعے انسان کی روحانی تربیت کے ساتھ ساتھ معاشرتی اصلاح کابھی پیغام دیا گیا ہے۔ یہ کتاب انسان کا اپنے خالق سے تعلق مضبوط کرنے، اپنے فرائض پہچاننے اور دوسروں کے حقوق ادا کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ مختصر یہ کہ صحیفۂ سجادیہ اسلامی فکر، اخلاق، روحانیت اور ادب کا ایک عظیم شاہکار ہے۔ یہ ہر دور کے انسان کے لیے ہدایت، تربیت اور اصلاح کا سرچشمہ ہے اور امام زین العابدین علیہ السلام کی علمی و روحانی میراث کا ایک درخشاں نمونہ ہے۔










آپ کا تبصرہ