تحریر: فاطمہ نساء
حوزہ نیوز ایجنسی| سلام ہو اس پاک ہستی پر جو صرف ایک بہن ہی نہیں، بلکہ اپنے بھائی کے لیے دستِ بازو بھی تھیں۔ ان کے وجود کی برکت سے چھوٹے بڑے، اپنے اور غیر، سبھی نے ایک محافظ کی موجودگی محسوس کی۔ کریمۂ اہلِ بیتؑ، عقیلۂ بنی ہاشم حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کوئی اور نہیں، بلکہ وہ عظیم ہستی ہیں جو صفاتِ الٰہی کا ایسا مظہر ہیں کہ ان کی ذات میں توحید سے وابستہ صفات جلوہ گر نظر آتی ہیں۔ ایمان، شجاعت اور بہادری کی یہ صفات انہوں نے اپنے پاکیزہ خاندانِ نبوت سے ورثے میں پائیں، جیسے دیگر ائمۂ اہلِ بیتؑ نے پائی تھیں۔
حضرت زینب کبریٰؑ کا کردار اپنی والدہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی طرح زندگی کے ہر پہلو میں ایک کامل نمونہ پیش کرتا ہے۔ ایک طرف وہ ماں کے کردار میں اپنی اولاد کو امامِ وقت پر قربان ہونے کا درس دیتی ہیں، تو دوسری طرف بیٹی کی حیثیت سے والدین کے سامنے اطاعت اور تسلیم و رضا کا نمونہ بنتی ہیں۔ بہن کے کردار میں اپنے بھائی کی رازدار اور دستِ بازو دکھائی دیتی ہیں۔ الغرض، اگر ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کا باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے تو کوئی پہلو نامکمل نظر نہیں آتا۔ جو عورت بھی انہیں اپنے لیے نمونۂ عمل بنائے، وہ زندگی کے کسی بھی پہلو میں رہنمائی سے محروم نہیں رہے گی۔
اگرچہ اس عظیم خاتون کی فضیلت بیان کرنا شاید میرے بس میں نہ ہو، تاہم یہاں ان کے ایک ایسے لقب اور نسبت کا مختصر ذکر کرنا چاہوں گی جس سے انہیں اکثر یاد کیا جاتا ہے۔ یہ لقب ’’پرستار‘‘ ہے۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو اس لقب سے یاد کیا جاتا ہے، لیکن شاید بہت سے لوگ اس نسبت سے پوری طرح واقف نہ ہوں اور بعض کے ذہنوں میں یہ سوال بھی پیدا ہو کہ کیا انہیں واقعی اس لقب سے یاد کیا جاتا ہے؟
جی ہاں! ایران میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے یومِ ولادت کو یومِ پرستاری، یعنی یومِ نرسنگ، کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت زینبؑ نے اپنے زمانے کے امام، حضرت امام زین العابدین علیہ السلام، اور اہلِ بیت علیہم السلام کے دیگر بیماروں اور مصیبت زدہ افراد کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھالی۔ تحریکِ حسینی کو زندہ رکھنے اور اس کے پیغام کو عام کرنے کے عظیم مشن کو احسن طریقے سے آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ، انہوں نے تمام مصائب و مشکلات کے باوجود کربلا کے بیماروں کی دیکھ بھال سے غفلت نہیں برتی۔ انہوں نے اپنی آخری سانس تک خود کو اپنے مکتب اور قائد کے لیے وقف رکھا۔ اسلام کی اس عظیم خاتون پر اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں نازل ہوں۔
حضرت زینب کبریٰؑ کی ولادت اور تربیت
حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا خاندانِ پیغمبر اکرمؐ کی ایک عظیم خاتون ہیں، جو ہجری تقویم کے مطابق پانچ جمادی الاولیٰ کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئیں۔ ان کی ولادت سے حضرت علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر میں خوشی کی ایک نئی لہر دوڑ گئی۔ انہوں نے بچپن ہی سے محبت کرنے والے اور علم و حکمت سے آراستہ والدین کی آغوش میں پرورش پائی اور محبت و روحانیت سے بھرپور ماحول میں تربیت حاصل کی۔
حضرت زینبؑ کی زندگی ہمیشہ ایمان، مہربانی اور اللہ تعالیٰ کی محبت سے عبارت رہی۔ وہ اپنے بزرگ بھائیوں، امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام، کے ساتھ رہیں اور ایسے خاندان کی محبت و سرپرستی میں پروان چڑھیں جو اخلاق، محبت اور انسانیت کا سرچشمہ تھا۔ بچپن ہی سے وہ صبر، دانائی اور ہمت جیسی خوبیوں کی وجہ سے پہچانی جاتی تھیں، اور یہ خصوصیات ان کے کردار اور گفتگو سے نمایاں ہوتی تھیں۔
مضبوط روح، صبر اور اللہ پر بھروسہ
حضرت زینب سلام اللہ علیہا اپنی زندگی میں ہمیشہ صبر اور استقامت کی علامت رہیں۔ ان کا صبر مضبوط ایمان، قلبی سکون اور مثبت سوچ سے عبارت تھا۔ دنیا کے حالات کے بارے میں بلند نظر رکھتے ہوئے وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر بھروسا کرتیں اور مشکلات کا سامنا حوصلے کے ساتھ کرتیں۔
اس عظیم خاتون نے اپنے والد گرامی حضرت علی علیہ السلام اور والدہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے جو اسباق سیکھے، ان کی بدولت زندگی کے حقیقی معنی اور تقدیرِ الٰہی پر راضی رہنے کا مفہوم سمجھا۔ یہی وجہ تھی کہ زندگی کی مشکلات اور مصائب کا سامنا کرتے ہوئے بھی انہوں نے اپنے اندرونی سکون، صبر اور ثابت قدمی کو برقرار رکھا۔
سچائی، محبت اور حق کا پیغام
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ انہوں نے اپنے الفاظ اور مؤثر اندازِ بیان کے ذریعے لوگوں تک حق و سچائی کا پیغام پہنچایا۔ کوفہ اور شام میں ان کے خطبات نے لوگوں کے ضمیر کو جھنجھوڑا اور بہت سے دلوں کو بیدار کیا۔ اپنے پُراثر کلام، مضبوط ایمان اور بے مثال حوصلے کے ذریعے انہوں نے حق کو واضح کیا اور عدل و انصاف کا پیغام عام کیا۔
حضرت زینبؑ نے اپنے خاندان سے محبت، لوگوں کے ساتھ وابستگی اور حق و سچائی سے اپنی گہری وابستگی کا عملی مظاہرہ کیا۔ انہوں نے دنیا کے سامنے ایک ایسی زندگی کی مثال پیش کی جس میں محبت، بہادری، صبر اور حق پر ثابت قدمی نمایاں ہیں۔ ان کا یومِ ولادت ہمیں ایسی عظیم شخصیت کی سیرت پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی محبت اور حق کی راہ میں استقامت کا درس دیا۔ ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ ایمان، حوصلے اور اللہ پر توکل کے ساتھ زندگی کے بڑے سے بڑے چیلنج کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
ایران میں یومِ ولادتِ حضرت زینبؑ کو یومِ نرسنگ منانے کی وجہ
ایران میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے یومِ ولادت کو ’’یومِ نرسنگ‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس نسبت کی بنیاد ان کی بے لوث خدمت، قربانی، ذمہ داری اور اپنے اہلِ خانہ کی دیکھ بھال کا جذبہ ہے، جو بالخصوص واقعۂ کربلا کے بعد نمایاں ہوا۔
عاشوراء کے بعد کے مشکل ترین ایام میں حضرت زینبؑ نے قافلۂ اہلِ بیتؑ کے بیماروں اور بچوں کی دیکھ بھال کی اور شدید مصائب کے باوجود ان کی ضروریات کا خیال رکھا۔ انہوں نے کسی صلے یا بدلے کی توقع کے بغیر دوسروں کی خدمت کی اور اپنے کردار سے ہمدردی، ایثار اور محبت کی مثال قائم کی۔
ایران میں یومِ نرسنگ ان نرسوں کی خدمات اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع ہے جو حضرت زینبؑ کی سیرت سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے دوسروں کی صحت اور نگہداشت کے لیے کوشاں رہتی ہیں۔ یہ وہ افراد ہیں جو لگن، صبر اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ مشکل ترین حالات میں بھی بیماروں اور ضرورت مندوں کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی زندگی خدمتِ انسانیت، صبر اور ایثار کا ایسا روشن نمونہ ہے جو ہر دور میں انسانوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔










آپ کا تبصرہ