حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ سید احمد علم الہدیٰ نے مشہد مقدس میں خطبہ جمعہ کے دوران حرم امام رضا علیہ السلام کے رواق امام خمینیؒ میں ایران کی موجودہ صورت حال، امریکہ کی دھمکیوں اور جنگ سے متعلق سفارتی کوششوں پر اظہار خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ سفارتی کوششیں اور ثالثی کے اقدامات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں، تاہم رہبر شہید کے رہنما اصولوں کی برکت سے ملت ایران کی عزت، وقار اور انقلاب کی عظمت محفوظ رہی ہے۔ دشمن کی طرف سے فوجی کارروائیوں میں اضافے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، لیکن ان کے بقول، امریکہ کی اندرونی سیاسی صورت حال ایسی ہے کہ جنگ کو وسعت دینے سے اسے مزید سیاسی نقصان اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
آیت اللہ علم الہدیٰ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی مجاہدین نے دفاعی پوزیشن سے آگے بڑھ کر دشمن کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملت ایران کو دھمکیوں کے دباؤ میں آکر دشمن کی شرائط قبول نہیں کرنی چاہئیں، بلکہ استقامت اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنے راستے پر قائم رہنا چاہیے۔
انہوں نے رہبر شہید کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دشمن بعض اوقات پابندیاں ہٹانے یا دباؤ کم کرنے کے بدلے اپنی شرائط منوانا چاہتا ہے۔ ایسے حالات میں صرف قیادت یا ذمہ دار اداروں کی استقامت کافی نہیں، بلکہ عوام کو بھی ثابت قدم رہنا ہوگا۔
حضرت زینبؑ کی سیرت سے سبق
امام جمعہ مشہد نے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی سیرت کو موجودہ حالات کے لیے اہم نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اہل بیت علیہم السلام نے کربلا کے بعد سخت مصائب اور اسیری کے باوجود حق کا پیغام پہنچایا اور شام میں یزید کے سیاسی منصوبوں کو ناکام بنایا۔ حضرت زینبؑ اور امام زین العابدین علیہ السلام کے خطبات نے لوگوں کے سامنے بنی امیہ کے مظالم کو آشکار کیا اور عوامی رائے کو بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ حضرت زینبؑ نے ایمان، خدا پر توکل اور مضبوط عزم کے ذریعے مشکل حالات کا مقابلہ کیا۔ ملت ایران کو بھی چاہیے کہ اپنی جدوجہد کو دین اور اہل بیت علیہم السلام سے وابستہ رکھے۔
آیت اللہ علم الہدیٰ نے فتح خرمشہر کے موقع پر امام خمینیؒ کے قول ’’خرمشہر کو خدا نے آزاد کرایا‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کامیابی کے لیے خدا پر ایمان اور اس کی قدرت پر بھروسہ ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حضرت زینبؑ نے شدید مصائب کے باوجود نماز شب کو ترک نہیں کیا، اس لیے سیاسی جدوجہد اور دینی زندگی کے درمیان تعلق برقرار رکھنا چاہیے۔
انہوں نے خطبے کے اختتام پر امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل، اسلام و مسلمانوں کی عزت اور شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔










آپ کا تبصرہ