حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ سید احمد علم الہدیٰ نے مشہد مقدس میں نماز جمعہ کے خطبوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر اسلام کے واقعات اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مظلومیت کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت لوگوں نے بصیرت اور اخلاص کی اہمیت کو نہیں سمجھا، جس کے نتیجے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت علیہم السلام کو سخت مظالم کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اسلام کی حفاظت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو باقی رکھنے کے لیے استقامت کا مظاہرہ کیا۔ ان کی جدوجہد اقتدار حاصل کرنے کے لیے نہیں، بلکہ دین کی حفاظت کے لیے تھی۔ تاہم، لوگوں نے ان کی بصیرت کو نظر انداز کیا اور ان کے اخلاص کو سمجھنے میں ناکام رہے۔
آیت اللہ علم الہدیٰ نے کہا کہ آج بھی دشمن کے مقابلے میں بصیرت اور اخلاص کی ضرورت ہے۔ بصیرت کا تقاضا ہے کہ صرف دشمن کی دھمکیوں کو نہ دیکھا جائے، بلکہ اس کی حقیقی صورت حال اور ان دھمکیوں پر عمل کرنے کی صلاحیت کا بھی جائزہ لیا جائے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دشمن چاہتا تھا کہ امریکی انتخابات سے پہلے یہ آبی راستہ کھل جائے اور تیل کی فراہمی معمول پر آنے سے توانائی کی قیمتوں میں کمی ہو، تاکہ امریکہ میں انتخابی ماحول اس کے حق میں سازگار بن سکے۔ ان کے مطابق، ایرانی حکام اور عوام کی بصیرت اور رہبر کی قیادت کے باعث دشمن اپنے اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
مشہد کے امام جمعہ نے کہا کہ امریکہ وسیع جنگ میں براہ راست ملوث ہونے کے بجائے ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کر سکتا ہے جن میں صہیونی حکومت جنگ شروع کرے اور امریکہ اس کی حمایت کرے۔ ان کے مطابق، دشمن کی دھمکیوں کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ایران بغیر جنگ کے دباؤ قبول کر لے اور دشمن کو اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے زیادہ قیمت ادا نہ کرنا پڑے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے سامنے دو راستے ہیں: یا تو دھمکیوں کے سامنے تسلیم ہو جائے یا اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرتے ہوئے مقابلے کے لیے تیار رہے۔ ان کے بقول، تسلیم ہونے کی صورت میں دشمن مزید مطالبات کرے گا اور ملک کے وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ملک اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے ثابت قدم رہے۔
آیت اللہ علم الہدیٰ نے رہبر انقلاب کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دشمن کے لیے نئے محاذ کھولنے کے امکانات پر غور کیا گیا ہے، جہاں اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے جوہری ٹیکنالوجی اور دیگر قومی کامیابیوں سے دست بردار ہونے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ دفاعی تیاری اور مؤثر منصوبہ بندی کے ذریعے دشمن کی دھمکیوں کا مقابلہ کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے صہیونی حکومت کے خلاف ایران کی میزائل کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صہیونی حکومت کو ایرانی میزائل حملوں کے مقابلے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق، امریکہ کی جانب سے صہیونی حکومت کی حمایت بھی اس کی اپنی معاشی صورت حال اور عوامی ردعمل سے متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے امریکہ کی جانب سے تین سال کے دوران صہیونی حکومت کو 11 ارب ڈالر کی فوجی امداد دینے کا ذکر بھی کیا۔
آیت اللہ علم الہدیٰ نے مزید کہا کہ دشمن کے مقابلے میں اخلاص بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ انقلابی سرگرمیوں، نعروں اور جدوجہد کا مقصد ذاتی مفادات، عہدہ یا اقتدار نہیں، بلکہ خدا کی رضا ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے تاکید کی کہ جدوجہد کے دوران شرعی احکام کی پابندی کی جائے اور کسی بھی حرام عمل سے اجتناب کیا جائے، کیونکہ ایسے اعمال اخلاص کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو قومیں ایمان، شناخت اور خدا پر توکل کے ساتھ ثابت قدم رہتی ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوتی ہے۔ ان کے مطابق، یمن اور فلسطین کے عوام کی استقامت بالآخر نتیجہ خیز ثابت ہوگی اور مسلمانوں کے لیے دشمن کے مقابلے میں مزاحمت ہی اہم راستہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ رہبر شہید انقلاب نے بھی آخری وقت تک اسی راستے پر ثابت قدم رہنے کی تاکید کی تھی۔










آپ کا تبصرہ