حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یمنی قومی انسانی حقوق کمیشن نے صوبۂ تعز کے ضلع «الشمایتین» میں واقع زچہ و بچہ ہسپتال کو سعودی اتحاد کی جانب سے براہِ راست نشانہ بنائے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
اس کمیشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک نئی جنگی جارحیت میں، جو یمنی عوام کے خون سے رنگین سیاہ ریکارڈ میں ایک اور اضافہ ہے، سعودی دشمن کے جنگی طیاروں نے صوبۂ تعز کے ضلع الشمایتین میں واقع زچہ و بچہ ہسپتال کو براہِ راست اور جان بوجھ کر نشانہ بنایا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس جارحیت کے نتیجے میں اسپتال کے اہم شعبوں کے بڑے حصے تباہ ہوگئے، جن میں نوزائیدہ بچوں کا شعبہ، زچگی کا شعبہ اور ہنگامی طبی امداد کا شعبہ شامل ہیں اور اسپتال مکمل طور پر خدمات انجام دینے سے قاصر ہوگیا۔ یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب اسپتال حاملہ خواتین، دودھ پیتے بچوں اور نومولود بچوں سے بھرا ہوا تھا۔
یمنی انسانی حقوق کمیشن نے زور دے کر کہا ہے کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت محفوظ حیثیت رکھنے والے طبی مرکز، بالخصوص ماؤں اور بچوں کے لیے مخصوص اسپتال کو نشانہ بنانا کوئی فوجی غلطی یا غلط ہدف کا انتخاب نہیں تھا، بلکہ یہ پہلے سے طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ایک مجرمانہ فیصلہ اور مکمل جنگی جرم ہے۔ جنیوا کے چوتھے کنونشن کی دفعہ 18 اور پہلے اضافی پروٹوکول کی دفعہ 12 کے تحت اسپتالوں اور طبی مراکز پر بمباری کو جرم قرار دیا گیا ہے۔
کمیشن نے سوال اٹھایا کہ سعودی دشمن انکیوبیٹر میں موجود ایک نومولود بچے اور زچگی کے بستر پر لیٹی ایک ماں سے کیا چاہتا ہے؟
یہ کیسی گھناؤنی فوجی حکمتِ عملی ہے جس کے تحت ایف 16 اور ٹائفون جنگی طیاروں کو ایک خاتون اور اس کے بچے کے رونے کی آواز کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے؟!
بیان میں مزید کہا گیا کہ سعودی دشمن صعدہ، سرحدی علاقوں، الجوف، مغربی ساحل اور دیگر علاقوں میں عزت و بہادری کے محاذوں پر مردوں کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہونے کے بعد اپنی شکست کی تلخی اور کینہ ماؤں اور بچوں کے جسموں پر نکال رہا ہے۔
یمنی انسانی حقوق کمیشن نے سعودی حکومت اور اس کے ساتھ ساتھ اسے اسلحہ، گولہ بارود فراہم کرنے والے تمام ممالک اور اس کے سیاسی حامیوں، یعنی امریکہ اور برطانیہ کی حکومتوں کو اس جرم کا مکمل قانونی اور فوجداری طور پر ذمہ دار قرار دیا۔
اس کمیشن نے اقوامِ متحدہ، اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق، عالمی ادارۂ صحت اور یونیسف کی خاموشی پر بھی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ان سے کہا ہے کہ بس کرو، اب خاموشی اور ساز باز بہت ہوچکی! جب اسکولوں کو نشانہ بنایا گیا تو تم خاموش رہے، جب بازاروں، کارخانوں اور کھیتوں پر حملے کیے گئے تو تم خاموش رہے اور آج زچگی کے اسپتال کو نشانہ بنایا گیا ہے؛ کل کیا ہوگا؟
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تمہاری خاموشی اب غیر جانب داری نہیں رہی، بلکہ جرم میں شراکت داری ہے۔ تمہارے اظہارِ تشویش پر مبنی بیانات کی کوئی وقعت نہیں، وہ اس گیس اور روئی کی قیمت کے برابر بھی نہیں جن پر الشمایتین میں ماؤں کا خون لگا ہوا ہے۔
یمنی انسانی حقوق کمیشن نے زور دے کر کہا کہ یمن کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جارحیت میں ملوث رہنماؤں کو جنگی مجرموں کی حیثیت سے بین الاقوامی عدالتوں میں قانونی کارروائی اور مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے طلب کرے اور ان جرائم پر قانونی مدتِ میعاد لاگو نہیں ہوگی اور وقت گزرنے کے ساتھ ان پر مقدمہ چلانے کا حق ختم نہیں ہوگا۔










آپ کا تبصرہ