حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ کے بیت الصلوٰۃ میں بزمِ عقیدت ’’بہشتِ سخن‘‘ کے عنوان سے ایک نہایت پُروقار، روح پرور اور اپنی نوعیت کی منفرد ادبی و مذہبی محفل کا انعقاد عمل میں آیا۔ یہ بزم اپنی نوعیت کی پہلی کاوش تھی، جس نے علی گڑھ کی علمی و ادبی فضا میں محبتِ اہلِ بیتؑ، سلام خوانی کی روایت اور اردو و عربی ادب کے حسین امتزاج کو ایک نئے انداز میں پیش کیا۔محفل میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ممتاز علمی و ادبی شخصیات، اساتذۂ کرام، طلبہ اور مومنین کی کثیر تعداد نے شرکت کرکے اس تقریب کو غیر معمولی وقار اور کامیابی عطا کی۔

بزم کی صدارت پروفیسر سراج اجملی، چیئرمین شعبۂ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے فرمائی، جب کہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر مولانا اصغر اعجاز قائمی، چیئرمین شعبۂ دینیات (شیعہ)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے نہایت شائستگی، علمی متانت اور ادبی سلیقے کے ساتھ انجام دیے۔ اس منفرد بزم کے بانی ڈاکٹر علی رضا اسیر نوگانوی تھے، جن کی ادبی بصیرت، جذبۂ عقیدت اور ذوقِ سخن نے اس خوب صورت محفل کو حقیقت کا روپ عطا کیا۔
محفل کا آغاز مولانا احمد مجلسی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس نے ماحول کو روحانی نورانیت سے معمور کر دیا۔ بعد ازاں ڈاکٹر نذر عباس نے افتتاحی تقریر پیش کی اور اس بزم کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے سلام و عقیدت کی ادبی، فکری اور روحانی اہمیت کو اجاگر کیا۔
شعرائے کرام کے سلام: عقیدت، تخیل اور فن کا حسین امتزاج
محفل کا اصل حسن شعرائے کرام کے وہ پُراثر سلام تھے، جن میں محبتِ اہلِ بیتؑ، وفا، ایثار، عظمتِ کردار اور کربلا کے لازوال پیغام کی جھلک نمایاں تھی۔ ہر شاعر نے اپنے مخصوص اسلوب، طرزِ اظہار اور ادبی ذوق کے ساتھ بارگاہِ اہلِ بیتِ اطہارؑ میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔ کلام کی اثر آفرینی اور سامعین کی والہانہ توجہ نے محفل کو ایک ایسی کیفیت عطا کی جس میں شعر و سخن، عقیدت کے جذبات سے ہم آغوش نظر آئے۔
امیر امام نے اپنے کلام کے ذریعے محفل میں عقیدت و محبت کی فضا کو مزید گہرا کیا۔ ان کے اندازِ پیش کش اور اظہارِ جذبات نے سامعین کو متاثر کیا اور سلام کی روح کو نمایاں کیا۔ ان کی شرکت نے اس ادبی نشست کے حسن میں اضافہ کیا۔

ڈاکٹر علی رضا اسیر نوگانوی کی شخصیت اس بزم میں دوہری اہمیت کی حامل رہی۔ وہ نہ صرف اس محفل کے بانی تھے، بلکہ بحیثیت شاعر انہوں نے بھی اپنے سلام کے ذریعے اپنے قلبی جذبات اور وابستگی کا اظہار کیا۔ ان کی یہ کاوش اس بات کی عکاس تھی کہ جب ادبی ذوق کے ساتھ جذبۂ عقیدت بھی شامل ہو تو ایک تقریب محض نشست نہیں رہتی، بلکہ ایک فکری و روحانی روایت کی بنیاد بن جاتی ہے۔
ہاشم عباس نے بھی اپنے کلام کے ذریعے محفل میں عقیدت کے رنگ بکھیرے۔ ان کے اندازِ اظہار نے سامعین کی توجہ حاصل کی اور اہلِ بیتؑ سے محبت کے جذبات کو شعری پیکر میں پیش کیا۔ ان کی شرکت نے بزم کے ادبی تنوع اور مجموعی حسن میں قابلِ قدر اضافہ کیا۔
باقر رضا شایان نے اپنے شعری اظہار کے ذریعے سلامیہ ادب کی روایت سے وابستگی کا مظاہرہ کیا۔ ان کے کلام نے محفل میں عقیدت کے جذبات کو نمایاں کیا اور سامعین کو فکر و احساس کی ایک دل نشیں فضا سے آشنا کیا۔
کاظم جارچوی نے اپنے حسین لب و لہجہ میں بلند معانی و افکار کے وہ پھول نثار کئے کہ مجمع ان کے کلام کی خوشبوؤں میں جنت کا کیف محسوس کررہا تھا۔
ڈاکٹر شباب اکبر قائمی نے اپنے مخصوص ادبی ذوق کے ساتھ بارگاہِ اہلِ بیتؑ میں نذرانۂ سلام پیش کیا۔ ان کی شرکت نے اس نشست کے علمی و ادبی وقار کو مزید مستحکم کیا۔

سفر نقوی اور فراز عرشی نے بھی اپنے سلام کے ذریعے محفل کی رونق بڑھائی۔ ان شعرا کی پیش کشوں نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ سلامیہ شاعری آج بھی اہلِ بیتؑ سے وابستہ محبت، وفاداری اور روحانی تعلق کے اظہار کا ایک مؤثر وسیلہ ہے۔
پروفیسر مہتاب حیدر نقوی کی شرکت نے بزم کو علمی و ادبی اعتبار سے مزید وقار بخشا۔ ان کی موجودگی اس محفل کے اس پہلو کو نمایاں کرتی ہے کہ جامعات کی علمی فضا میں مذہبی و ادبی روایتوں کے فروغ کے لیے ایسی نشستیں کس قدر اہمیت رکھتی ہیں۔
محفل کی صدارت کرنے والے پروفیسر سراج اجملی نے بحیثیت صدر اپنی علمی و ادبی شخصیت سے تقریب کو وقار عطا کیا۔ ان کی شرکت نے اردو ادب اور عقیدت کے اس اجتماع کو ایک معتبر علمی تناظر فراہم کیا۔
ڈاکٹر مولانا اصغر اعجاز قائمی کا عربی کلام: محفل کا منفرد رنگ

بزم کا ایک نہایت دل چسپ اور یادگار پہلو ڈاکٹر مولانا اصغر اعجاز قائمی کی پیش کش تھی۔ انہوں نے سلامِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ اپنا عربی زبان میں تحریر کردہ کلام بھی سنایا۔ عربی زبان میں اظہارِ عقیدت کی اس پیش کش نے محفل کو ایک منفرد ادبی جہت عطا کی۔ سامعین نے ان کے کلام سے بے حد لطف اٹھایا اور اس پیش کش کو خوب سراہا۔
ان کی نظامت بھی قابلِ توجہ رہی۔ انہوں نے شعرائے کرام کو مناسب انداز میں دعوتِ سخن دی اور محفل کے تسلسل، وقار اور ادبی فضا کو برقرار رکھا۔ اردو و عربی کلام کی یہ آمیزش ’’بہشتِ سخن‘‘ کے امتیازی پہلوؤں میں شامل رہی۔
ڈاکٹر علی رضا اسیر نوگانوی کی ادبی کاوش
اس بزم کی کامیابی کا ذکر ڈاکٹر علی رضا اسیر نوگانوی کی کاوش کے بغیر نامکمل رہے گا۔ انہوں نے ایک ایسی ادبی و عقیدتی نشست کا تصور پیش کیا جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی علمی فضا میں سلامیہ ادب کو ایک نئی شناخت دے سکے۔ اس تصور کو عملی جامہ پہنانا اور مختلف علمی، ادبی و مذہبی حلقوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا یقیناً قابلِ تحسین اقدام ہے۔
’’بہشتِ سخن‘‘ کا انعقاد اس بات کی علامت ہے کہ ادبی ذوق، مذہبی وابستگی اور اجتماعی تعاون کے ذریعے ایسی مثبت روایات قائم کی جا سکتی ہیں جو مستقبل میں بھی اہلِ علم، شعرائے کرام اور نئی نسل کے لیے باعثِ استفادہ ہوں۔

شکریہ اور عشائیہ
محفل کے اختتام پر منتظمین کی جانب سے تمام صدرِ محفل، مہمانانِ گرامی، شعرائے کرام، اساتذۂ کرام، طلبہ اور شریکِ بزم مومنین کا تہِ دل سے شکریہ ادا کیا گیا۔ بالخصوص ان تمام احباب کی شرکت اور تعاون کو سراہا گیا جنہوں نے اپنی موجودگی سے اس ادبی و روحانی اجتماع کو کامیابی سے ہم کنار کیا۔
اس موقع پر بزم کے بانی ڈاکٹر علی رضا اسیر نوگانوی کی ادبی و تنظیمی کاوشوں کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ منتظمین نے امید ظاہر کی کہ اہلِ بیتِ اطہارؑ سے محبت اور سلامیہ ادب کے فروغ کے لیے شروع کیا گیا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری و ساری رہے گا اور ’’بہشتِ سخن‘‘ مستقبل میں مزید علمی و ادبی وسعتوں کے ساتھ منعقد ہوتی رہے گی۔
تقریب کے اختتام پر شرکائے محفل کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام کیا گیا، جس میں اساتذۂ کرام، شعرائے کرام، طلبہ اور دیگر شرکائے بزم نے شرکت کی۔ عشائیے کے دوران باہمی ملاقاتوں، علمی و ادبی گفتگو اور خوش گوار تبادلۂ خیال نے محفل کی خوش گوار یادوں کو مزید تازہ کر دیا۔
ایک نئی ادبی روایت کا آغاز
بلاشبہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بیت الصلوٰۃ میں منعقد ہونے والی بزمِ عقیدت ’’بہشتِ سخن‘‘ اپنی نوعیت کی پہلی محفل کے طور پر ایک اہم اور قابلِ ذکر ادبی کاوش ثابت ہوئی۔ اس نے ثابت کیا کہ سلامیہ شاعری محض شعری اظہار نہیں، بلکہ محبت، عقیدت، تاریخ، تہذیب اور روحانی وابستگی کا ایسا سرمایہ ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا ہے۔
اس کامیاب محفل نے علی گڑھ کی علمی و ادبی فضا میں ایک نئی روایت کی بنیاد رکھی۔ امید ہے کہ ڈاکٹر علی رضا اسیر نوگانوی کی یہ کاوش مستقبل میں مزید وسعت اختیار کرے گی اور ’’بہشتِ سخن‘‘ سلام و عقیدت کے ادب کو فروغ دینے کے ساتھ شعرائے کرام اور اہلِ علم کے درمیان رابطے کا ایک مؤثر وسیلہ بنی رہے گی۔
واقعی، جب سخن عقیدت سے ہم آغوش ہوتا ہے تو الفاظ صرف اشعار نہیں رہتے، بلکہ محبت کے چراغ بن کر دلوں کو روشن کرتے ہیں۔ یہی ’’بہشتِ سخن‘‘ کی اصل کامیابی اور اس محفل کا سب سے خوب صورت پیغام ہے۔










آپ کا تبصرہ