حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان کی ریاست کرناٹک میں واقع علی پور اپنی مذہبی، ثقافتی اور سماجی خصوصیات کی وجہ سے نمایاں مقام رکھتا ہے۔ بنگلورو سے تقریباً 70 کلومیٹر دور واقع اس گاؤں کی آبادی کے بارے میں فراہم کردہ معلومات کے مطابق تقریباً 25 ہزار افراد یہاں آباد ہیں، جن میں 90 فیصد سے زیادہ شیعہ ہیں۔ شیعہ مذہبی شناخت اور مقامی کنڑ زبان و ہندوستانی ثقافت سے گہری وابستگی نے اس گاؤں کو ایک منفرد پہچان دی ہے۔ اسی وجہ سے اسے بعض اوقات ’’mini Iran‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

تاریخی پس منظر
علی پور کی تاریخ تقریباً تین سو سال پرانی بتائی جاتی ہے۔ تاریخی شواہد کے مطابق، 1686ء میں مغل بادشاہ اورنگزیب کے دور میں بیجاپور کی عادل شاہی سلطنت کے خاتمے کے بعد بعض شیعہ خاندانوں نے نقل مکانی کی۔ بتایا جاتا ہے کہ مولانا سید مصطفیٰ حسین کی قیادت میں ان خاندانوں کا ایک گروہ اس علاقے میں آباد ہوا اور امام علی علیہ السلام سے عقیدت کی نسبت سے اس بستی کا نام علی پور رکھا گیا۔
یہ تاریخی پس منظر علی پور کی مذہبی شناخت اور وہاں کے شیعہ معاشرے کی تشکیل کو سمجھنے میں اہمیت رکھتا ہے۔

ایران سے مذہبی اور تعلیمی تعلقات
علی پور کے ایران سے مذہبی، تعلیمی اور ثقافتی روابط کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ مارچ 1981ء میں ایران کے سابق صدر اور بعد میں رہبر انقلاب اسلامی بننے والے شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اس گاؤں کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے ایران کے تعاون سے تعمیر ہونے والے امام خمینی اسپتال کا افتتاح کیا۔ اس دورے کی یاد آج بھی مقامی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہے۔
ایران سے قریبی تعلقات کی وجہ سے علی پور کو چھوٹا ایران ’’mini Iran‘‘ اور ’’بیبی ایران‘‘ جیسے ناموں سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ گاؤں کے متعدد نوجوان دینی تعلیم کے لیے ایران کے حوزات علمیہ، خصوصاً قم، جاتے ہیں، جبکہ بعض طلبہ تہران کی یونیورسٹیوں میں طبی اور دیگر اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کرتے ہیں۔
مارچ 2026ء میں آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر کے بعد گاؤں میں تین روزہ سوگ منایا گیا۔ اس دوران دکانیں بند رہیں، سیاہ پرچم لگائے گئے اور لوگوں نے تعزیتی اجتماعات اور جلوسوں میں شرکت کی۔
انجمن جعفریہ کا سماجی کردار
علی پور کی ایک نمایاں خصوصیت اس کا مقامی سماجی نظام ہے۔ یہاں انجمن جعفریہ نامی ادارہ فلاحی کاموں، سماجی ترقی، بنیادی سہولتوں اور لوگوں کے درمیان تنازعات حل کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
یہ ادارہ مقامی لوگوں کے مسائل کے حل اور باہمی مشاورت کے ذریعے سماجی نظم برقرار رکھنے میں تعاون کرتا ہے۔ تاہم، مقامی باشندے ضرورت پڑنے پر پولیس یا عدالت سے بھی رجوع کر سکتے ہیں۔ اس طرح انجمن جعفریہ گاؤں کی سماجی زندگی میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔
جواہرات کی تجارت کا اہم مرکز
علی پور کی معیشت میں جواہرات کی تجارت کو بھی خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہاں کے متعدد خاندان اس کاروبار سے وابستہ ہیں اور ان کے تجارتی روابط ہندوستان سے باہر بھی پھیلے ہوئے ہیں۔ اس تجارت کے ذریعے گاؤں نے علاقائی سطح پر اپنی الگ شناخت قائم کی ہے۔
جواہرات کی تجارت کے ساتھ زراعت اور دوسرے کاروبار بھی مقامی معیشت کا حصہ ہیں۔
اشاروں کی منفرد زبان
علی پور کی ایک اور خاص بات یہاں رائج مقامی اشاروں کی زبان ہے، جسے انگریزی میں Alipur Sign Language (APSL) کہا جاتا ہے۔ گاؤں میں پیدائشی طور پر سماعت سے محروم افراد کی قابلِ ذکر تعداد کی وجہ سے یہ زبان کئی نسلوں کے دوران پروان چڑھی۔
اس زبان کی خاص بات یہ ہے کہ اسے صرف سماعت سے محروم افراد ہی استعمال نہیں کرتے، بلکہ عام سماعت رکھنے والے بہت سے مقامی باشندے بھی اس کے ذریعے گفتگو کرتے ہیں۔ اس طرح یہ زبان گاؤں کی روزمرہ زندگی، خاندانی تعلقات اور سماجی میل جول کا حصہ بن چکی ہے۔ محققین نے بھی علی پور کی اس منفرد لسانی روایت کا مطالعہ کیا ہے۔
علی پور اس بات کی ایک نمایاں مثال ہے کہ کسی علاقے کی مذہبی شناخت، مقامی زبان، روایات اور معاشرتی زندگی ایک ساتھ آگے بڑھ سکتی ہیں۔ شیعہ مذہبی ورثے، ہندوستانی ثقافت، ایران سے تعلیمی روابط، جواہرات کی تجارت اور منفرد اشاروں کی زبان نے اس گاؤں کو جنوبی ہندوستان کے دیگر علاقوں سے ممتاز مقام دیا ہے۔










آپ کا تبصرہ