حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، گاؤں مری آباد، ضلع نوشہرو فیروز، سندھ، پاکستان میں ایک ایسے دینی و سماجی مرکز کا قیام عمل میں آیا ہے، جس نے علاقے کے باشندوں کے لیے عبادت اور قرآنی تعلیم کی ایک دیرینہ ضرورت کو پورا کر دیا ہے۔ مسجدِ خیر النساء (س) کی تعمیر کے بعد اس گاؤں میں پہلی مرتبہ اہلِ علاقہ کو باجماعت نماز اور بچوں کو قرآنِ کریم کی تعلیم کے لیے ایک مستقل اور مناسب جگہ میسر آگئی ہے۔

مری آباد میں اس سے قبل کوئی مستقل مسجد موجود نہیں تھی، جس کے باعث مقامی افراد کو نماز اور دیگر دینی سرگرمیوں کے لیے مناسب سہولت میسر نہیں تھی، جبکہ بچوں کے لیے قرآنِ کریم کی تعلیم کا بھی کوئی مستقل مرکز موجود نہ تھا اور انہیں مختلف اسکولوں یا کمیونٹی کی جگہوں پر تعلیم حاصل کرنا پڑتی تھی۔
اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے تقریباً چار ماہ قبل مسجدِ خیر النساء (س) کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد علاقے کے لوگوں کو ایک باوقار عبادت گاہ اور بچوں کے لیے قرآنی تعلیم کا مستقل مرکز فراہم کرنا تھا۔

الحمدللہ، مختصر مدت میں یہ منصوبہ مکمل ہو چکا ہے اور مسجد اب باقاعدہ طور پر اہلِ علاقہ کے لیے عبادت اور دینی تعلیم کے مرکز کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہی ہے۔
القائم سپورٹ نیٹ ورک (AQM پاکستان) کی ٹیم کی نگرانی اور کوششوں سے تعمیر ہونے والی یہ مسجد تقریباً 150 سے زائد نمازیوں کی گنجائش رکھتی ہے۔ مسجد میں وسیع صحن، باغیچہ، بڑا وضو خانہ، واش رومز، ماربل اور ٹائل ورک سمیت دیگر ضروری سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ مسجد میں زیرِ زمین بجلی کے انتظام کے ساتھ مکمل سولر سسٹم بھی نصب کیا گیا ہے، تاکہ بجلی کی ممکنہ مشکلات کے باوجود دینی اور عبادتی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رہ سکے۔

مسجد کے قیام کے بعد علاقے میں دینی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے اور روزانہ بڑی تعداد میں مقامی افراد نماز کی ادائیگی کے لیے یہاں جمع ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں کو بھی اب قرآنِ کریم کی تعلیم کے لیے ایک پُرامن، مناسب اور مستقل جگہ میسر آگئی ہے۔
مسجدِ خیر النساء (س) کا قیام ڈاکٹر منور حسن، بانی AQM پاکستان کے تعاون سے عمل میں آیا، جنہوں نے اسے اپنی مرحومہ والدہ خیر النساء کے نام سے صدقۂ جاریہ کے طور پر وقف کیا ہے۔

مری آباد میں قائم ہونے والی یہ مسجد محض ایک تعمیراتی منصوبہ نہیں، بلکہ ایک ایسی دینی ضرورت کی تکمیل ہے جس کا اثر آنے والے برسوں تک علاقے کی مذہبی اور سماجی زندگی پر مرتب ہوگا۔ یہاں سجدوں کی رونق بھی آباد ہوگی، قرآنِ کریم کی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رہے گا اور اہلِ علاقہ کو ایک ایسا مرکز میسر ہوگا جہاں وہ عبادت، دینی تعلیم اور اجتماعی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے وابستہ رہ سکیں گے۔
مسجدِ خیر النساء (س) کا قیام اس حقیقت کی عملی مثال ہے کہ جن علاقوں میں دینی مراکز اور عبادت گاہوں کی کمی ہو، وہاں ایک مسجد کا قیام صرف ایک عمارت کی تعمیر نہیں بلکہ پوری کمیونٹی کی دینی اور روحانی زندگی میں ایک نئے باب کے آغاز کے مترادف ہوتا ہے۔









آپ کا تبصرہ