تحریر و ترتیب: آغا زمانی سکردو
حوزہ نیوز ایجنسی|
بلتستان کی سرزمین ہمیشہ ایسے باکردار علماء، مصلحین اور داعیانِ دین کو جنم دیتی رہی ہے جنہوں نے اپنی علمی بصیرت، اخلاقی عظمت اور دینی خدمات سے معاشرے کی فکری و روحانی آبیاری کی۔ انہی درخشاں شخصیات میں حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ شیخ موسیٰ علی نجفی رحمتہ اللہ علیہ کا نام نہایت احترام اور عقیدت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ آپ کی پوری زندگی علم، عمل، تبلیغ، تدریس اور خدمتِ دین سے عبارت تھی، جبکہ سادگی، اخلاص اور تقویٰ آپ کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا۔
علامہ شیخ موسیٰ علی نجفی(رح) کی ولادت 14 فروری 1966ء کو بلتستان کے علاقے چنداہ کے محلہ کاظم آباد (براہ) میں ایک متدین اور دینی ماحول رکھنے والے گھرانے میں ہوئی۔ بچپن ہی سے آپ کی طبیعت میں علم دوستی، سنجیدگی اور دینی رجحان نمایاں تھا۔ یہی رجحان آگے چل کر آپ کی پوری زندگی کا سرمایہ بن گیا۔
آپ نے اپنی ابتدائی دینی تعلیم اپنے آبائی گاؤں میں اس وقت کے جید عالمِ دین علامہ شیخ احمد فصیحی صاحب کے زیرِ سایۂ تربیت حاصل کی۔ آپ کے اساتذہ نے ابتدا ہی سے آپ کی ذہانت، محنت اور شوقِ علم کو محسوس کر لیا تھا۔ قرآنِ کریم، ابتدائی دینی علوم اور اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ آپ کے اندر خدمتِ دین کا جذبہ بھی پروان چڑھتا رہا۔
جب ابتدائی تعلیم مکمل ہوئی تو آپ نے اعلیٰ دینی تعلیم کے حصول کے لیے لاہور کا رخ کیا، جہاں برصغیر کے معروف علمی مرکز جامعہ المنتظر میں داخلہ لیا۔ جامعہ المنتظر اس دور میں اہلِ بیت علیہم السلام کے علوم کے فروغ کا ایک اہم مرکز شمار ہوتا تھا، جہاں ملک بھر سے باصلاحیت طلبہ علم حاصل کرنے آتے تھے۔ علامہ شیخ موسیٰ علی نجفی رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اس علمی ماحول سے بھرپور استفادہ کیا اور اپنی علمی استعداد کو مزید نکھارا۔
دورانِ تعلیم ہی آپ کی صلاحیتوں، علمی پختگی اور تبلیغی ذوق کو دیکھتے ہوئے 1988ء میں آپ کو ضلع نارووال کے شہر شکر گڑھ میں مبلغ اور مدرس کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کی دعوت دی گئی۔ یہ ایک نوجوان طالبِ علم کے لیے بڑی ذمہ داری تھی، لیکن آپ نے اپنے اساتذہ کے حکم کو سعادت سمجھتے ہوئے فوراً قبول کیا۔
شکر گڑھ میں آپ نے نہایت اخلاص، محنت اور ذمہ داری کے ساتھ تدریس، تبلیغ اور تربیت کے فرائض انجام دیے۔ آپ کی گفتگو میں علم کی گہرائی، اخلاق کی شیرینی اور کردار کی سچائی نمایاں تھی، جس کے باعث عوام میں آپ کی عزت و محبت روز بروز بڑھتی گئی۔
1991ء میں آپ اپنے آبائی علاقے چُنداہ واپس تشریف لائے تاکہ اپنی سرزمین کے نوجوانوں کی دینی و اخلاقی تربیت میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔ واپسی کے بعد آپ نے بطور مبلغ، مدرس اور خطیبِ مسجد اپنی خدمات کا ایک نیا باب شروع کیا۔ آپ نے جامع مسجد جواد سمیت مختلف دینی مراکز میں خطابت کے ذریعے لوگوں کے دلوں کو معارفِ اہلِ بیت علیہم السلام سے روشناس کرایا اور معاشرے میں دینی شعور کو فروغ دیا۔
اسی عرصے میں آپ نے مدرسہ ائمہ میں بطور معلم تدریسی خدمات انجام دیں، جہاں بے شمار طلبہ نے آپ سے علومِ دینیہ حاصل کیے۔ بعد ازاں 1998ء سے 2002ء تک مدرسہ جواد میں تدریس کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے آپ نے علمی روایت کو مزید مضبوط کیا۔ آپ کا اندازِ تدریس نہایت شفیق، مدلل اور تربیتی نوعیت کا تھا، جس کی وجہ سے طلبہ نہ صرف علمی اعتبار سے مستفید ہوتے بلکہ اخلاقی تربیت بھی حاصل کرتے تھے۔
علم کی پیاس ابھی بجھی نہ تھی۔ چنانچہ 2004ء میں آپ نے دوبارہ اعلیٰ تعلیم کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کا سفر اختیار کیا۔ وہاں حوزۂ علمیہ کے ممتاز اساتذہ سے کسبِ فیض کیا اور غیر معمولی محنت کے ذریعے صرف تین برس کے مختصر عرصے میں اعلیٰ دینی تعلیم مکمل کی۔
ایران سے فراغت کے بعد آپ نے عالمِ تشیع کے عظیم علمی مرکز نجف اشرف (عراق) کا رخ کیا، جہاں بارگاہِ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے جوار میں اعلیٰ فقہی و حوزوی تعلیم حاصل کی۔ نجف اشرف کے علمی ماحول نے آپ کی فکری و اجتہادی صلاحیتوں کو مزید جلا بخشی اور آپ فاضلِ نجف کی حیثیت سے اپنی علمی منزل مکمل کرکے وطن واپس لوٹے۔
پاکستان واپسی کے بعد آپ نے ایک مرتبہ پھر اپنی پوری توانائی تبلیغِ دین، تدریس اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے وقف کر دی۔ آپ منگر گمبہ، سکردو کے مدرسے میں بطور مدرس خدمات انجام دیتے رہے، جبکہ جامع مسجد جواد چنداہ میں خطیب کی حیثیت سے ہزاروں افراد کو قرآن و اہلِ بیت کی تعلیمات سے روشناس کراتے رہے۔
یوں علامہ شیخ موسیٰ علی نجفی کی زندگی کا یہ ابتدائی دور اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ اخلاص، علم سے محبت، اساتذہ کی اطاعت اور خدمتِ دین کا جذبہ کسی بھی انسان کو معاشرے کے لیے ایک مؤثر رہنما اور کامیاب مربی بنا دیتا ہے۔ یہ سفر آگے چل کر ان کی عظیم علمی، تبلیغی اور سماجی خدمات کی مضبوط بنیاد ثابت ہوا۔
اعلیٰ دینی تعلیم سے فراغت کے بعد علامہ شیخ موسیٰ علی نجفی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی پوری زندگی علم و عمل کی اشاعت، تبلیغِ دین اور تربیتِ نسلِ نو کے لیے وقف کر دی۔ آپ کا یقین تھا کہ ایک عالمِ دین کی اصل پہچان اس کے علم سے زیادہ اس کی خدمت، اخلاص اور کردار میں ہوتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جہاں بھی آپ نے قیام کیا، وہاں دینی شعور، علمی بیداری اور اخلاقی تربیت کی ایک نئی فضا قائم ہوگئی۔
سنہ 2009ء میں آپ پنجاب کے ضلع ننکانہ صاحب تشریف لے گئے۔ وہاں آپ نے جامع مسجد جعفریہ (رجسٹرڈ) اور جامع مسجد دربارِ حسین میں بطور خطیب، مدرس اور مربی اپنی خدمات کا آغاز کیا۔ آپ کے خطابات قرآن و سنت اور مکتبِ اہلِ بیت کی تعلیمات کا حسین امتزاج ہوتے تھے۔ آپ نہ صرف مسائلِ دین بیان کرتے بلکہ سامعین کے دلوں میں تقویٰ، اخلاص، اتحاد اور حسنِ اخلاق کی شمع بھی روشن کرتے تھے۔ آپ کی مجلسِ درس میں بزرگ، نوجوان اور طلبہ یکساں شوق سے شریک ہوتے اور علمی و روحانی فیض حاصل کرتے۔
آپ کی خدمات صرف تدریس اور خطابت تک محدود نہ رہیں بلکہ آپ نے دینی مراکز کی تعمیر و ترقی کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھا۔ اپنے آبائی علاقے چنداہ میں جامع مسجد جواد کی ازسرِنو تعمیر میں آپ نے مرکزی اور قائدانہ کردار ادا کیا۔ یہ مسجد آج بھی آپ کی دینی بصیرت، محنت اور اخلاص کی ایک روشن یادگار ہے۔ اسی طرح محلہ کاظم آباد (براہ) میں امام بارگاہ باب الحوائجؑ کی تعمیر بھی آپ کی قیادت، رہنمائی اور انتھک کوششوں کا نتیجہ تھی، جو آج اہلِ ایمان کے لیے عبادت، عزاداری اور دینی اجتماعات کا اہم مرکز ہے۔
علامہ شیخ موسیٰ علی نجفی رحمتہ اللہ علیہ تعلیم کو معاشرے کی حقیقی تعمیر کا بنیادی ذریعہ سمجھتے تھے۔ آپ نے اپنے آبائی گاؤں میں تقریباً پچیس برس اور ننکانہ صاحب میں طویل عرصے تک مسلسل تدریس اور تبلیغ کے ذریعے ہزاروں بچوں، نوجوانوں اور طلبہ کو قرآنِ مجید، دینیات اور اسلامی اخلاق کی تعلیم دی۔ آپ کی خواہش تھی کہ کوئی بچہ دینی تعلیم سے محروم نہ رہے، اسی مقصد کے تحت آپ نے محلہ کاظم آباد اور گرد و نواح کے علاقوں میں متعدد دینیات سینٹرز قائم کیے، جہاں بچوں کو قرآنِ کریم، عقائد، فقہ، اخلاق اور سیرتِ اہلِ بیتؑ کی تعلیم دی جاتی تھی۔ ان مراکز نے ایک ایسی نسل کی تربیت میں اہم کردار ادا کیا جو دین سے وابستہ اور اخلاقی اقدار سے آراستہ تھی۔
آپ نے صرف تعلیمی میدان میں ہی نہیں بلکہ تنظیمی سطح پر بھی بھرپور خدمات انجام دیں۔ اس دور میں جب چنداہ جیسے پسماندہ علاقے میں دینی اور سماجی تنظیموں کا وجود محدود تھا، آپ ان شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے امامیہ آرگنائزیشن (IO) کی بنیاد رکھنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ بعد ازاں آپ نے اس تنظیم کے جنرل سیکریٹری کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں ادا کیں اور نوجوانوں میں دینی شعور، تنظیمی نظم اور اجتماعی خدمت کے جذبے کو فروغ دینے کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔
علامہ شیخ موسیٰ علی نجفی کی شخصیت کا سب سے حسین پہلو ان کا اخلاقِ کریمانہ تھا۔ آپ نہایت شفیق، مہربان، رحم دل، منکسرالمزاج، مخلص اور تقویٰ و پرہیزگاری کے پیکر تھے۔ لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہونا، اختلافات کو محبت سے ختم کرنا، چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کا احترام کرنا آپ کی زندگی کا معمول تھا۔ آپ کے دروازے پر آنے والا ہر شخص خندہ پیشانی، محبت بھرے لہجے اور خیرخواہی کے جذبے کے ساتھ واپس لوٹتا تھا۔
محرم الحرام کا مہینہ آتے ہی آپ اپنے آبائی علاقے کا رخ کرتے تاکہ اپنے لوگوں کو پیغامِ امام حسین علیہ السلام سے روشناس کرا سکیں۔ یہ سفر آپ کے لیے روایت کے ساتھ ساتھ ایک مقدس ذمہ داری تھا۔ ہر سال کی طرح سنہ 2026ء میں بھی آپ اسی خلوص اور جذبۂ خدمت کے ساتھ لاہور سے سکردو روانہ ہوئے۔ اہلِ علاقہ آپ کی آمد کے منتظر تھے، لیکن قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔
27 مئی 2026ء، شام تقریباً سات بجے، علم و تقویٰ کا یہ درخشاں چراغ اپنے رب کے حضور حاضر ہوگیا۔ آپ کی رحلت کی خبر نے نہ صرف آپ کے خاندان، شاگردوں اور دوستوں کو بلکہ بلتستان، ننکانہ صاحب اور دیگر علاقوں میں آپ سے عقیدت رکھنے والے ہزاروں افراد کو غم و اندوہ میں مبتلا کر دیا۔ یوں ایک خاموش، مخلص اور بے لوث خادمِ دین اپنے رب سے جا ملا، لیکن اپنے پیچھے علم، تربیت، تعمیر اور خدمت کی ایسی روشن میراث چھوڑ گیا جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔
حضرت امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کا یہ ارشاد آپ جیسی شخصیات پر صادق آتا ہے:«العُلَمَاءُ بَاقُونَ مَا بَقِيَ الدَّهْرُ»"علماء اس وقت تک زندہ رہتے ہیں جب تک زمانہ باقی رہتا ہے۔"
بلاشبہ علامہ شیخ موسیٰ علی نجفی رحمتہ اللہ علیہ اگرچہ جسمانی طور پر ہم میں موجود نہیں، مگر ان کے علمی نقوش، دینی خدمات، تربیت یافتہ شاگرد، تعمیر کردہ مراکز، اور اخلاص و تقویٰ سے مزین کردار ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ ان کی حیاتِ طیبہ آنے والے علماء، مبلغین اور نوجوانوں کے لیے ایک روشن نمونہ اور بہترین سرمایۂ افتخار ہے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، انہیں محمد و آلِ محمد علیہم السلام کی رفاقت نصیب فرمائے اور ان کی علمی و دینی میراث کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔ آمین









آپ کا تبصرہ