حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انگلینڈ، روس، لبنان، پاکستان، ہندوستان، انڈونیشیا اور تنزانیہ سے تعلق رکھنے والے ممالک کے مدارس کے منتظمین، ممتازین اور ثقافتی میدانوں میں سرگرم کارکنوں کے ایک وفد نے مدیر جامعۃالزہرا (س) محترمہ ڈاکٹر سیدہ زہرہ برقعی سے ملاقات اور تبادلۂ خیال کیا۔
انہوں نے اس نشست میں مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے جامعۃ الزہرا (س) کو مسلمان خواتین کے لیے آبائی گھر کی طرح قرار دیا اور کہا: اس مرکز میں آپ لوگوں کی موجودگی باعثِ مسرت اور خدمت کے لیے باعثِ تشویق ہے۔
مدیر جامعۃ الزہرا (س) نے عالم اسلام کے موجودہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: تمام مومنین کی آرزو حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور کا جشن منانا ہے لیکن آج ہم سب رہبر شہید (رہ) کے سوگ میں جمع ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا: شہادت برسوں کی مجاہدت اور مخلصانہ خدمت کا اجر ہے۔ انقلاب اسلامی کے رہبر شہید (رہ) نے اپنی برسوں کی محنت کا اجر شہادت کی صورت میں حاصل کیا۔
محترمہ خانم برقعی نے اپنی گفتگو کے دوران تحریک عاشورا کے اسباق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: امام حسین علیہ السلام نے روزِ عاشورا انسان کا موت کے بارے میں نظریہ بدل دیا اور موت کو دنیا کی سختیوں اور رنجوں سے اللہ کی رحمت اور سکون تک پہنچنے کا پل قرار دیا۔ یہ الٰہی نظریہ مادی نظریے سے بنیادی طور پر مختلف ہے جو موت کو زندگی کا خاتمہ سمجھتا ہے۔
مدیر جامعۃ الزہرا (س) نے کہا: دشمن کو گمان تھا کہ رہبر کی شہادت سے ایرانی قوم کمزور ہو جائے گی لیکن جیسا کہ خود رہبر شہید (رہ) نے شہید سلیمانی کے بارے میں فرمایا تھا کہ "شہادت کے بعد ان کی تاثیر اور بھی زیادہ ہوئی"، اسی طرح رہبر شہید (رہ) بھی شہادت کے بعد پہلے سے زیادہ پائیدار اور مؤثر ثابت ہوں گے۔
انہوں نے مظلوم عوام کے خلاف دشمن کے جرائم کا ذکر کرتے ہوئے کہا: بچوں، خاندانوں اور مظلوم عوام کی شہادت نہ صرف حق کے محاذ کو کمزور نہ کر سکی بلکہ اس نے ایرانی قوم کی مظلومیت اور دشمن کے اصلی چہرے کو مزید آشکار کر دیا۔
محترمہ برقعی نے رہبر شہید (رہ) کی تشییع میں عوام کی بے پناہ شرکت کو دشمن کے محاسبات کی ناکامی قرار دیا اور مزید کہا: کروڑوں افراد نے اپنی موجودگی کے ذریعے اعلان کیا کہ وہ آخری قطرہ خون تک اسلامی نظام، ولایت اور رہبری کے ساتھ کھڑے ہیں۔









آپ کا تبصرہ