موجودہ "ہائبرڈ جنگ" میں خواتین کا میدانِ اجتماع میں حاضر ہونا ایک دینی ذمہ داری ہے

حوزہ / امور فرهنگی و تبلیغی جامعۃ الزہرا (س) کی سرپرست نے موجودہ حساس صورت حال میں معلمین کے فرائض کی وضاحت کرتے ہوئے شہید مطہری (رہ)کی افکار پر ازسرِنو غور کرنے، پیشہ ورانہ اخلاقیات کی پابندی اور آج کے سماجی و ثقافتی تبدیلیوں میں خواتین کے مؤثر کردار پر زور دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امور فرهنگی و تبلیغی جامعۃ الزہرا (س) کی سرپرست ڈاکٹر معصومہ شریفی نے گزشتہ شب قم میں "امت مبعوث" میڈیا موکب میں گفتگو کرتے ہوئے شہید استاد مرتضیٰ مطہری کی شہادت کے دن کو روزِ معلم قرار دیے جانے پر اس انتخاب کو ملک کے تعلیمی طبقے کے لیے باعثِ فخر قرار دیا اور کہا: شہید مطہری (رہ)کا امام خمینی (رہ) کے ہاں ایک ممتاز مقام تھا، یہاں تک کہ امام (رہ)نے انہیں "اپنی عمر کا ثمرہ" قرار دیا۔ یہ تعبیر اس عظیم استاد کی علمی خلوص اور گہرے اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا: امام خمینی (رہ) شہید مطہری (رہ)کی تمام تصنیفات کو مفید سمجھتے تھے اور ان کی "فکر کے مطہر ہونے" پر زور دیتے تھے۔ ایک فکر جو ہر قسم کی آلائش سے پاک تھی اور خالص دینی علم معاشرے تک پہنچاتی تھی۔ شہید امام خامنہ ای (رہ)نے بھی ہمیشہ ایک "عصرِ حاضر کے بڑے معلم" کے طور پر شہید مطہری (رہ)کی تصانیف سے انس و توجہ کی سفارش کی ہے۔

امور فرهنگی و تبلیغی جامعۃ الزہرا (س) کی سرپرست نے کہا: معلمین اور اساتذہ کو چاہیے کہ شہید مطہری کے افکار کو گہرائی سے پڑھیں اور ان افکار کو نمونہ بنا کر معلمین کے درمیان ایک مربوط انقلابی و اسلامی فکری نظام تشکیل دے سکتے ہیں۔ شہید مطہری محض ایک پیشہ ور استاد نہیں تھے بلکہ ایک "دینی استاد" تھے جو تربیتی مشن کے ساتھ میدانِ تعلیم میں داخل ہوئے۔

انہوں نے کہا: استاد کو اپنے پیشے کو محض ایک شغل کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے، استاد کے کام کو معنی دینے والی چیز اخلاقی اور تربیتی ذمہ داری ہے جو شہید مطہری کی سیرت میں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا: موجودہ حالات میں جسے "ہائبرڈ جنگ" کہا جاتا ہے، اس کے اہم پہلوؤں میں سے ایک عوام خاص طور پر خواتین کا میدانِ اجتماع میں حاضر ہونا ہے۔ گزشتہ مہینوں میں لوگوں کا مسلسل اور منظم حضور، خواتین کی ذمہ داری کے احساس اور ماؤں کے خاندان میں مرکزی کردار کی بدولت ہے۔

محترمہ شریفی نے کہا: اس باشعور اور ذمہ دارانہ حضور کا تسلسل آج کے معاشرے میں دینی تربیت، پیشہ ورانہ اخلاقیات اور معلمین و خواتین کے سماجی کردار کے درمیان گہرے تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے اپنی گفتگو کے دوران خواتین کے معاشرتی تبدیلیوں میں کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مکتبِ امام خمینی (رہ) اور اسی کے تسلسل میں رہبر معظم کی افکار میں عورت کا مقام عزت اور رتبے کے ساتھ متعین کیا گیا۔ خواتین کا معاشرتی طور پر موجود رہنا نہ صرف ایک حق تھا بلکہ ایک معاشرتی ذمہ داری تصور کی گئی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha