حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعۃ الکوثر اسلام آباد پاکستان میں بمناسبت چہلم رہبرِ معظم و فتح مندی مملکت ایران ایک مجلسِ ترحیم و تقریب تکریم کا انعقاد کیا گیا، جس میں جامعۃ الکوثر اور جامعہ اہلبیت کے اساتذہ کرام و طلاب کے علاوہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے نامور علمائے کرام اور مؤمنین کرام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

جامعۃ الکوثر کے المصطفی آڈیٹوریم میں بمناسبت چہلم شہید رہبر معظم آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای قدس سرہ اور چالیس روز کے بعد خدا کی تائید اور لطف سے عطا شدہ نوید فتح و کامرانی، ایک عظیم الشان تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کا آغاز نامور قاری جناب اکبر رجائی نے تلاوت کلام پاک سے کیا جس کے بعد شاعر اہلبیت غیور زیدی نے اپنا کلام پیش کیا جبکہ استاد محترم علامہ اشرف حسین آخوندزادہ نے رہبر معظم اور غازیاں دوراں کے حضور منظوم نذرانہ عقیدت پیش کیا جبکہ نامور محقق اور بین الاقوامی امور کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر نذیر حسین صاحب نے اپنے لیکچر میں موجودہ عالمی حالات کا تجزیہ پیش کیا۔


جامعہ الکوثر کے مہتمم علامہ انور علی نجفی نے اپنے خطاب میں رہبر معظم کی شہادت کو ملت اسلامیہ کی حیات سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی عظیم شہادت نے نافقط ملت ایران کو متحد کر دکھایا بلکہ دنیا بھر میں چہار سو مذہب اہلبیت کا ڈنکا بھی بجا دیا۔

انہوں نے رہبر معظم و شہدائے عصر حاضر کے بلندی درجات اور ملت ایران کی فتح و کامرانی کے لئے دعا بھی کی۔

علامہ شیخ محمد شفا نجفی نے کہا کہ رہبر معظم شہید آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای قدس سرہ نے امام خمینی رضوان اللہ تعالٰی کی ذات گرامی اور ان کے انداز کار کو اپنا ملجا و ماوی بنا رکھا تھا اسی لیے ان کی شہادت آج اک نئے انقلاب کی صورت اختیار کر چکی ہے۔









آپ کا تبصرہ