پیر 13 اپریل 2026 - 13:24
امام جعفر صادق علیہ السلام (پانچ روایات)

حوزہ/ اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کے لئے ایک مکمل نظام قائم کیا جس میں انبیاء اور ان کے اوصیاء شامل ہیں، اور اس سلسلہ کی معراج حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے بعد امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کی ولایت و امامت میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہی نظام انسان کو سچی ہدایت، اخلاقی کمال اور نجات کی راہ دکھاتا ہے۔

تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی I

1. مرحوم قطب الدّین راوندیؒ نے روایت نقل کی ہے کہ ایک دن امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ آپ اپنی زندگی کس طرح گزارتے ہیں؟ آپؑ نے فرمایا: میں اپنی زندگی چار بنیادی اصولوں پر گزار رہا ہوں:

الف۔ مجھے یقین ہے کہ جو رزق میرے لئے مقرر ہے وہ مجھے ضرور ملے گا اور کسی دوسرے کو نہیں مل سکتا۔

ب۔ میں جانتا ہوں کہ کچھ ذمہ داریاں میری اپنی ہیں، جنہیں میرے علاوہ کوئی اور انجام نہیں دے سکتا۔

ج۔ مجھے معلوم ہے کہ موت اچانک آ جائے گی اور بغیر اطلاع کے مجھے لے جائے گی، اس لئے میں ہر وقت اس کے لئے تیار رہتا ہوں۔

د۔ اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے ہر حال اور ہر عمل کو دیکھ رہا ہے، اس لئے مجھے اپنے اعمال اور حرکات پر ہمیشہ نظر رکھنی چاہیے۔

(مستدرک الوسائل : جلد 12، صفحہ 172، ح 15)

امام جعفر صادق علیہ السلام کی یہ تعلیم دراصل ایک مکمل اسلامی طرزِ زندگی کا نقشہ پیش کرتی ہے، جس میں انسان کے دل، دماغ اور عمل تینوں کی اصلاح شامل ہے۔

یہ ارشاد ہمیں سکھاتا ہے کہ:

الف۔ اللہ پر مکمل یقین (توکل) :انسان کو چاہیے کہ وہ رزق کے معاملے میں بے جا فکر، حسد اور لالچ سے بچے۔ جب یہ یقین ہو جائے کہ جو اللہ نے لکھ دیا ہے وہی ملے گا، تو دل مطمئن رہتا ہے اور انسان حرام راستوں کی طرف نہیں جاتا۔

ب۔ ذمہ داری کا شعور: زندگی میں ہر شخص کے کچھ فرائض ہوتے ہیں۔ دینی، معاشرتی اور ذاتی۔ یہ ارشاد گرامی ہمیں سکھاتا ہے کہ دوسروں پر انحصار کرنے کے بجائے خود اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے ادا کریں، کیونکہ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔

ج۔ موت کی یاد اور آخرت کی فکر: موت کا اچانک آ جانا انسان کو غفلت سے جگاتا ہے۔ جب انسان یہ سوچتا ہے کہ کسی بھی وقت اللہ کے حضور پیش ہونا ہے، تو وہ اپنے اعمال کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے اور وقت کو ضائع نہیں کرتا۔

د۔ تقوی: یہ یقین کہ اللہ ہر لمحہ ہمیں دیکھ رہا ہے، انسان کے اندر ایک باطنی کنٹرول پیدا کرتا ہے۔ وہ تنہائی میں بھی گناہ سے بچتا ہے اور ہر عمل میں اخلاص پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

المختصر یہ چار اصول مل کر انسان کو ایک ایسا متوازن انسان بناتے ہیں جو دل سے مطمئن، عمل سے ذمہ دار، فکر سے بیدار اور کردار سے پاکیزہ ہوتا ہے۔

گویا یہ تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ حقیقی کامیابی صرف دنیوی آسائش نہیں بلکہ ایک باخبر، ذمہ دار اور خدا ترس زندگی گزارنے میں ہے۔

2۔ متعدد روایات میں ہے کہ جب بھی امام جعفر صادق علیہ السلام باغ یا کھیت میں ہَل یا بیلچہ ہاتھ میں لئے کھیتی باڑی اور محنت و مزدوری میں مشغول ہوتے اور آپ کے اصحاب اور چاہنے والے آپ کو اس حالت میں دیکھتے تو عرض کرتے: "اے فرزندِ رسولِ خدا! آپ خود کیوں زحمت و مشقت کر رہے ہیں؟ ہمیں اجازت دیجیے کہ ہم آپ کی مدد کریں اور آپ آرام فرمائیں۔" تو آپ جواب میں فرماتے: "مجھے میرے حال پر چھوڑ دو، مجھے یہ بات پسند ہے کہ خداوند مجھے اس حالت میں دیکھے کہ میں اپنے ہاتھوں سے محنت کر رہا ہوں اور حلال روزی حاصل کرنے کے لئے اپنے جسم کو مشقت میں ڈال رہا ہوں۔" (کافى : جلد 5، صفحہ 76، بحارالا نوار: جلد 47، صفحہ 57، وافى : جلد 17، صفحہ 30 و 36)

امام جعفر صادق علیہ السلام کی اس مبارک روایت میں ایک نہایت گہرا اور عملی درس پوشیدہ ہے کہ اسلام میں عزت، عبادت اور روحانیت صرف ظاہری عبادات تک محدود نہیں ہے بلکہ حلال روزی کے لئے محنت کرنا بھی ایک عظیم عبادت ہے۔

یہ روایت واضح کرتی ہے کہ

الف۔ اپنے ہاتھ سے کام کرنا کوئی معمولی بات نہیں بلکہ باعثِ فخر ہے۔ انسان جتنا خود محنت کرے گا، اتنا ہی اس میں خودداری اور عزتِ نفس پیدا ہوگی۔

ب۔ امامؑ کا خود مشقت اٹھانا اس بات کی تعلیم ہے کہ حلال رزق کے لئے کوشش کرنا نہ صرف ضروری بلکہ ایسا عمل ہے جو خدا کو محبوب ہے، چاہے انسان کا مقام و مرتبہ کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو۔

ج۔ آپؑ نے صرف نصیحت نہیں کی بلکہ عملی نمونہ پیش کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بہترین تبلیغ وہ ہے جو انسان اپنے عمل سے کرے۔

د۔ عبادت صرف نماز، روزہ تک محدود نہیں بلکہ اگر نیت درست ہو تو کھیتی باڑی، محنت مزدوری اور روزگار بھی عبادت بن جاتا ہے۔

ہ۔ اتنے عظیم مقام کے باوجود خود کام کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ حقیقی بزرگی عاجزی اور سادہ زندگی میں ہے، نہ کہ آرام طلبی میں۔

المختصر یہ روایت ہمیں سکھاتی ہے کہ "حلال روزی کے لئے محنت کرنا، خودداری کے ساتھ جینا اور عمل کے ذریعہ دین کو ظاہر کرنا ہی بندگی اور کامیاب زندگی ہے۔"

3۔ بعض بزرگان جیسے مرحوم اربلی نے، ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک دن ایک مکھی منصور دوانیقی کے چہرے پر آ بیٹھی۔ منصور نے اپنے ہاتھ سے اسے ہٹا دیا، لیکن وہ دوبارہ آ کر وہیں بیٹھ گئی۔ اس نے پھر اسے ہٹایا، مگر مکھی بار بار واپس آتی رہی۔ یہ عمل کئی مرتبہ دہرایا گیا، یہاں تک کہ منصور کو غصہ آ گیا۔

اسی دوران امام جعفر صادق علیہ السلام تشریف لائے۔ منصور نے کہا: "اے فرزندِ رسولِ خدا! اللہ تعالیٰ نے مکھی کو کیوں پیدا کیا ہے؟" آپ نے جواب دیا: "تاکہ اس کے ذریعہ سرکش اور متکبر لوگوں کو ذلیل اور عاجز بنایا جائے۔" (کشف الغمّه : جلد 2، صفحہ 373)

یہ روایت انسان کو تکبر کے انجام اور عاجزی کی حقیقت سے آگاہ کرتی ہے۔

1. تکبر کی حقیقت اور اس کا زوال: منصور دوانیقی ایک طاقتور بادشاہ تھا، مگر ایک معمولی سی مکھی اسے بے بس کر رہی تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی اللہ کے سامنے ہیچ ہے۔ جو شخص اپنے اقتدار، دولت یا علم پر گھمنڈ کرتا ہے، اللہ اسے ایک نہایت معمولی چیز کے ذریعہ بھی عاجز کر سکتا ہے۔

2. اللہ کی حکمتِ تخلیق: بظاہر مکھی ایک حقیر مخلوق ہے، مگر امام جعفر صادق علیہ السلام نے واضح فرمایا کہ اس کا بھی ایک مقصد ہے گھمنڈیوں کو ذلیل کرنا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز، چاہے کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو، اللہ کی حکمت کے تحت پیدا ہوئی ہے۔

3. عاجزی اور بندگی کا درس: یہ واقعہ انسان کو سکھاتا ہے کہ وہ اپنی حیثیت کو پہچانے۔ اگر ایک مکھی انسان کو پریشان کر سکتی ہے تو اسے اللہ کے سامنے جھکنا چاہیے، نہ کہ غرور میں مبتلا ہونا چاہیے۔

4. اہلِ بیت علیہم السلام کی بصیرت: امام جعفر صادق علیہ السلام کا مختصر مگر بامعنی جواب اس بات کی دلیل ہے کہ اہلِ بیت علیہم السلام نہ صرف دینی بلکہ اخلاقی اور فکری رہنمائی میں بھی کامل بصیرت کا اظہار فرماتے تھے۔

المختصر یہ روایت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ انسان جتنا بھی بڑا کیوں نہ بن جائے، اسے اپنی حقیقت نہیں بھولنی چاہیے۔ اللہ چاہے تو ایک چھوٹی سی مخلوق کے ذریعہ بھی بڑے سے بڑے متکبر اور مغرور کو اس کی اوقات یاد دلا دیتا ہے۔

4۔ مرحوم ملا احمد نراقی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے کہ ایک شخص امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: "اے فرزندِ رسولِ خدا! میرے والد بوڑھے اور کمزور ہو چکے ہیں، یہاں تک کہ مجھے ان کی خدمت اس طرح کرنی پڑتی ہے جیسے ایک چھوٹے بچے کی کی جاتی ہے؛ اور میں انہیں قضائے حاجت کے لئے بھی اٹھا کر لے جاتا ہوں۔"

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: "اگر تم میں طاقت ہے تو یہ خدمت جاری رکھو، اور نہایت محبت و نرمی کے ساتھ انہیں لقمہ بنا کر ان کے منہ میں ڈالو۔"

اور مزید فرمایا: "ان کاموں کی انجام دہی قیامت کے دن تمہارے لئے جنت میں داخلے کا راستہ آسان کر دے گی۔" (جامع السّعادات : جلد 2، صفحہ 265)

یہ مبارک روایت ہمیں باپ کی خدمت اور عظمت و اہمیت کا گہرا شعور عطا کرتی ہے۔

1. باپ؛ سایۂ رحمت اور ستونِ زندگی: باپ وہ ہستی ہے جو اپنی پوری زندگی اولاد کے لئے محنت، قربانی اور ذمہ داری اٹھاتا ہے۔ وہ اپنی جوانی، طاقت اور سکون اولاد کے مستقبل پر قربان کر دیتا ہے۔ جب یہی باپ بڑھاپے میں کمزور ہو جائے تو اس کی خدمت دراصل اس کی ساری قربانیوں کا اعتراف ہے۔

2. باپ کی خدمت عظیم عبادت ہے: امام جعفر صادق علیہ السلام نے تاکید فرمائی کہ باپ کی اس حالت میں بھی نہایت محبت سے خدمت کی جائے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ باپ کی خدمت ایک عظیم عبادت ہے جو انسان کو جنت کے قریب کرتی ہے۔

3. محبت، ادب اور نرمی کا تقاضہ: باپ صرف خدمت کا نہیں بلکہ ادب و احترام کا بھی زیادہ حق دار ہے۔ لقمہ بنا کر کھلانا اس بات کی علامت ہے کہ خدمت میں عاجزی، شفقت اور دل کی نرمی ہونی چاہیے، جیسے باپ نے بچپن میں اولاد کے ساتھ کیا تھا۔

4. بدلے کا فطری اصول : جس باپ نے اولاد کو انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا، آج اگر وہی سہارا مانگے تو یہ اولاد کا فرض ہے کہ اسے سہارا دے۔ یہ نہ صرف اخلاقی ذمہ داری ہے بلکہ انسانیت کا بنیادی تقاضہ بھی ہے۔

5. آخرت میں کامیابی کا ذریعہ: امام جعفر صادق علیہ السلام کا یہ فرمان کہ یہ خدمت جنت کا راستہ آسان کر دے گی، اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ باپ کی خدمت دنیا میں مشکل سہی، مگر آخرت میں نجات اور کامیابی کا ذریعہ ہے۔

المختصر باپ کی خدمت، محبت، ادب اور صبر کے ساتھ کرنا ایک عظیم عبادت ہے۔ جو شخص اپنے بوڑھے باپ کی دل سے خدمت کرتا ہے، وہ درحقیقت اپنی آخرت سنوار رہا ہوتا ہے اور جنت کے دروازے اپنے لئے کھول رہا ہوتا ہے۔

5۔ جناب صفوان جمّال روایت کرتے ہیں کہ ایک دن میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپ نے فرمایا: "اے صفوان! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے کتنے سفیر اور پیغمبر مبعوث فرمائے ہیں؟" میں نے عرض کیا: "نہیں، میں نہیں جانتا۔"

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار (124,000) انبیاء علیہم السلام مبعوث فرمائے، اور اتنی ہی تعداد میں اوصیاء اور جانشین بھی مقرر اور متعارف کرائے، جو سب کے سب سچ بولنے والے، امانت ادا کرنے والے اور دنیوی امور میں زاہد تھے۔"

پھر آپ نے مزید فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہتر اور افضل کوئی نبی نہیں بھیجا اور ان کے جانشین، یعنی امیر المومنین امام علی بن ابی طالب علیہ السلام سے بڑھ کر کوئی افضل اور برتر جانشین متعارف نہیں کرایا گیا۔" (بحارالا نوار: جلد 16، صفحہ 352)

اس عظیم روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی نورانی تعلیمات جلوہ گر ہیں۔ یہ روایت اپنے اندر عقیدہ، اخلاق اور امامت کے بنیادی اصولوں کو سمیٹے ہوئے ہے۔

1. ہدایتِ الٰہی کا وسیع نظام: امام جعفر صادق علیہ السلام نے 124,000 انبیاء علیہم السلام کا ذکر کر کے یہ واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا، بلکہ ہر دور میں اس کی ہدایت کے لئے پیغمبر اور ان کے جانشین بھیجے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہدایت ایک مسلسل اور منظم سلسلہ ہے۔

2. انبیاء و اوصیاء علیہم السلام کی مشترکہ صفات: تمام انبیاء اور اوصیاء علیہم السلام کی خصوصیات (سچائی، امانت داری اور زہد) یہ بتاتی ہیں کہ حقیقی رہبر وہی ہے جو اخلاقی پاکیزگی اور عملی کردار میں کامل ہو۔ یعنی دین صرف نظریہ نہیں بلکہ کردار کا نام ہے۔

3. ختمِ نبوت اور کمالِ رسالت: حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے افضل قرار دینا اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ آپؐ کی ذات میں نبوت اپنے کمال کو پہنچی۔ آپؐ کی تعلیمات جامع، کامل اور قیامت تک کے لئے ہدایت کا سرچشمہ ہیں۔

4. امامت کی برتری اور تسلسلِ ہدایت: امیر المومنین امام علی بن ابی طالب علیہ السلام کو تمام اوصیاء میں افضل قرار دینا اس بات کو واضح کرتا ہے کہ نبوت کے بعد ہدایت کا سلسلہ امامت کے ذریعہ جاری رہتا ہے، اور اس کا آغاز سب سے کامل ہستی یعنی امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام سے ہوتا ہے۔

5. معیارِ فضیلت کا تعین: یہ روایت ہمیں سکھاتی ہے کہ حقیقی فضیلت نہ نسب، نہ طاقت اور نہ دولت میں ہے، بلکہ اللہ کے انتخاب، تقویٰ، علم اور کردار میں ہے۔

المختصر اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کے لئے ایک مکمل نظام قائم کیا جس میں انبیاء اور ان کے اوصیاء شامل ہیں، اور اس سلسلہ کی معراج حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے بعد امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کی ولایت و امامت میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہی نظام انسان کو سچی ہدایت، اخلاقی کمال اور نجات کی راہ دکھاتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha