حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان اہم مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، جسے خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال میں ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والی مسلسل مشاورت کے بعد دونوں فریق اس نتیجے پر پہنچے کہ اہم معاملات کو حتمی شکل دینے کے لیے باقاعدہ مذاکرات شروع کیے جائیں۔
رپورٹس کے مطابق لبنان میں صہیونی ریاست کے حملوں کو بیروت سے محدود کر کے جنوبی علاقوں تک محدود کرنا جنگ بندی کی جانب عملی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ اسی طرح امریکہ کی جانب سے ایران کے اثاثوں کی آزادی پر آمادگی بھی ایک اہم پیش رفت ہے، جس کے بعد تکنیکی اور ماہرین کی سطح پر مزید تفصیلی گفتگو کی ضرورت محسوس کی گئی۔ ان عوامل کے پیش نظر دونوں ممالک نے مذاکرات کا آغاز کرنے پر اتفاق کیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران کی پیش کردہ شرائط بتدریج تسلیم کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات سے قبل سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر الزام عائد کیا کہ وہ ان مذاکرات کو ناکام بنانے کی سازش کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نیتن یاہو کی پالیسیوں کے زیر اثر آ کر سفارتی عمل کو نقصان پہنچاتا ہے تو اس کے نتائج کی ذمہ داری خود واشنگٹن پر عائد ہوگی۔
بین الاقوامی سطح پر بھی ایران کے مؤقف کو تقویت ملی ہے۔ برطانوی سیاستدان جرج گیلووے نے کہا کہ اسرائیلی اقدامات کے خلاف جس تسلسل کے ساتھ ایران نے ردعمل دیا، اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔
ادھر امریکی میڈیا ادارہ The Intercept نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ چالیس روزہ جنگ میں امریکی فوج کے جانی نقصانات کو دانستہ طور پر کم ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
علاوہ ازیں آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی سطح پر توانائی بحران کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بایرول نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو دنیا کو تیل، گیس اور دیگر توانائی وسائل کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔









آپ کا تبصرہ