حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران عالمی منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں ایک طرف امریکہ کو عسکری اور سفارتی چیلنجز کا سامنا ہے، وہیں ایران کی پوزیشن مزید مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ تازہ صورتحال کے مطابق امریکی بحریہ کا طیارہ بردار جہاز USS George H. W. Bush آبنائے باب المندب سے گزرنے کے بجائے افریقہ کے طویل راستے سے نمیبیا کی جانب چلا گیا، جسے ماہرین نے یمن کی انصار اللہ قوت سے خوف کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکہ یمن جیسے محدود وسائل رکھنے والے فریق سے گریز کر رہا ہے تو ایران جیسے طاقتور ملک کے مقابلے میں اس کی حکمت عملی مزید سوالیہ بن جاتی ہے۔
ایرانی قیادت نے بھی امریکہ پر سخت تنقید جاری رکھی ہے۔ نائب صدر محمد رضا عارف نے انکشاف کیا کہ نیتن یاہو کے مطابق امریکی حکام ایران سے مذاکرات کے بعد روزانہ اسرائیل کو رپورٹ دیتے ہیں، جس پر انہوں نے کہا کہ وائٹ ہاؤس عملاً صہیونی ریاست کا “رپورٹنگ دفتر” بن چکا ہے۔
دوسری جانب عالمی سطح پر آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک نئی حقیقت کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔ توانائی کمپنی ٹوٹل انرجیز (TotalEnergies) کے سربراہ نے اعتراف کیا کہ ایران کو راستہ فیس ادا کرنا، آبنائے ہرمز بند ہونے سے بہتر حل ہے۔
سعودی عرب نے بھی امریکہ پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ محاصرہ ختم کرے، جبکہ جنوبی کوریا نے اپنے جہازوں کے مسئلے کے حل کے لیے ایران سے براہ راست مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔ اٹلی کے وزیر اعظم نے تو یہاں تک اعلان کیا کہ وہ خود ایران کا دورہ کر کے اپنے ملک کے جہازوں کے لیے راستہ کھلوائیں گے اور ایران کے مؤقف کی حمایت کریں گے۔
لبنان کے محاذ پر حزب اللہ صہیونی افواج کے خلاف بھرپور مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ انسانی ہمدردی کے تحت مرجعِ تقلید آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی نے تقریباً 70 ہزار لبنانی مہاجر خاندانوں کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔
ادھر صہیونی میڈیا نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ نے صہیونی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق اربوں ڈالر کے اخراجات اور ہزاروں عمارتوں کی تباہی کے بعد یہ جنگ اسرائیل کی تاریخ کی بڑی شکستوں میں شمار کی جا رہی ہے۔ اسی طرح برطانوی اخبار ٹیلیگراف کے مطابق اس جنگ نے خلیجی عرب ممالک کو بھی شدید مالی نقصان پہنچایا اور سرمایہ کاری کے مراکز کی ساکھ کو متاثر کیا۔
مزید برآں رافائل گروسی نے اعتراف کیا کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار بنانے کا کوئی منظم پروگرام موجود نہیں اور نہ ہی اس کے جوہری پروگرام کو فوجی طاقت سے روکا جا سکتا ہے۔
مجموعی طور پر عالمی حالات اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ ایران نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی میدان میں بھی برتری حاصل کر رہا ہے، جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی بڑھتے ہوئے دباؤ، تنقید اور ناکامیوں سے دوچار ہیں۔









آپ کا تبصرہ