جمعرات 19 مارچ 2026 - 17:18
آبنائے ہرمز کی بندش عادلانہ عالمی نظام کے قیام کے لیے ضروری ہے، ایرانی ماہر

حوزہ/ قم یونیورسٹی کے استاد نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں آبنائے ہرمز کی بندش عالمی سطح پر منصفانہ نظام کے قیام کی راہ ہموار کر سکتی ہے، جبکہ ایران کی عسکری طاقت اور عوامی مزاحمت بین الاقوامی قانونی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بن رہی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم یونیورسٹی کے شعبۂ بین الاقوامی قانون کے رکنِ علمی بورڈ ڈاکٹر سید یاسر ضیائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش موجودہ عالمی حالات میں ایک عادلانہ عالمی نظام کے قیام کے لیے ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران کی فوجی طاقت اور عوام کی مزاحمت آج ایسے حالات پیدا کر رہی ہے جو بین الاقوامی قانونی نظام میں تبدیلی کا سبب بن سکتے ہیں۔

انہوں نے حوزہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ایران کی خارجہ پالیسی میں دو بنیادی اصول سامنے آئے، جن میں استقلال پسندی اور استکبار کی مخالفت شامل ہیں۔ ان کے مطابق استقلال پسندی کا مقصد ملک کو بیرونی طاقتوں کے زیر اثر حکومتوں سے آزاد کرانا اور وسائل کی لوٹ مار کو روکنا تھا، جبکہ استکبار مخالفت کا مطلب عالمی استکباری طاقتوں، خصوصاً سابق سوویت یونین اور امریکہ کے خلاف جدوجہد تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سوویت یونین کے انہدام کے بعد امریکہ اور اس کا علاقائی حلیف صہیونی رژیم، ایران کے مقابلے کا محور بن گئے، اور یہی وجہ ہے کہ ایران کو برسوں سے دھمکیوں، پابندیوں، دہشت گردی اور جنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ڈاکٹر ضیائی نے کہا کہ امریکہ کی ایران کے خلاف دشمنی صرف اس کی سامراجی ذہنیت تک محدود نہیں بلکہ اس نے انسانی، معاشی اور اخلاقی میدانوں میں بھی سنگین جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ ان کے بقول اب دنیا کے ایک بڑے حصے پر واضح ہو چکا ہے کہ ایران بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری کر رہا ہے جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی بارہا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل کی ترسیل کی اہم گزرگاہ ہے، اس پر پابندی دراصل ایران کے خلاف برسوں سے جاری تیل کی پابندیوں کا ردعمل ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی عسکری طاقت، عوامی حمایت اور قانونی دفاع کے ساتھ ساتھ عالمی رائے عامہ میں بیداری، خصوصاً غزہ میں صہیونی جرائم کے بعد، ایک نئے عالمی نظام کے قیام کی امید کو تقویت دے رہی ہے۔

انہوں نے عادلانہ عالمی نظام کے قیام کے لیے چند اہم نکات پیش کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی جمہوریت کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ چند ممالک اور عالمی اداروں کی آمریت کو روکا جا سکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ امریکہ اور صہیونی حکومت کو بین الاقوامی قوانین سے مستثنیٰ قرار دینے کا سلسلہ ختم کیا جائے اور انہیں عالمی معاہدوں کا پابند بنایا جائے، مثلاً امریکہ کو عالمی فوجداری عدالت کی رکنیت اختیار کرنی چاہیے اور صہیونی حکومت کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی میں لایا جائے۔

ڈاکٹر ضیائی نے زور دیا کہ عالمی امن کے قیام کے لیے ایٹمی ہتھیاروں سمیت تمام غیر روایتی اسلحے کا خاتمہ، مقبوضہ علاقوں کی آزادی، اور فلسطین کی سرزمین کا اختیار اس کے اصل باشندوں کے حوالے کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک میں غیر ملکی فوجی اڈوں کا خاتمہ بھی پائیدار عالمی امن کے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے انسانی حقوق کے موجودہ تصور پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسے ازسر نو مرتب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انسان کے روحانی پہلو کو بھی شامل کیا جا سکے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ ایران کی فوجی طاقت اور مؤثر بین الاقوامی حکمت عملی نے حالیہ خطرات کو مواقع میں تبدیل کر دیا ہے اور اب قانونی و سفارتی اقدامات کے ذریعے ایک نئے عادلانہ عالمی نظام کے قیام کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے، جس میں علاقائی اتحادوں اور عالمی تنظیموں کا مؤثر کردار ہوگا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha