حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ ایران کے بین الاقوامی امور کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین سید مفید حسینی کوہساری نے بنیاد شیخ انصاری کے زیر اہتمام قم میں منعقدہ دوسری تبیینی نشست "ایران اور تیسری تحمیلی جنگ؛ علما اور مذاہب کے رہنماؤں کی نظر سے" میں "منشور حوزہ پیشرو و سرآمد" کے ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر اس کے بین الاقوامی پہلوؤں کی وضاحت کی اور اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ منشور ایک قومی دستاویز سے بالاتر ہے، کہا: "منشور حوزہ پیشرو و سرآمد" ایک مکمل عالمی، بین الاقوامی اور تہذیبی منشور ہے۔ اس منشور میں بین الاقوامی پہلو ہزاروں دیگر نکات کے ساتھ ایک نکتہ نہیں ہے بلکہ اس کے تمام پہلوؤں پر حاکم روح ہے۔
حوزہ علمیہ ایران کے بین الاقوامی امور کے سربراہ نے شہید رہبر انقلاب کی نظر میں حوزات علمیہ کی شناخت بنانے والے پانچ عناصر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان پانچ عناصر میں سے دو عناصر مکمل طور پر عالمی ہیں۔ پہلا یہ کہ حوزہ علمیہ نظام استکبار اور نظام استعمار کے مقابلے کی صف اول ہے۔ دوسرا یہ کہ حوزہ پیشرو و سرآمد (پیشرفتہ اور مفید) ایک عالمی اور تہذیب ساز حوزہ ہے۔

انہوں نے کہا: حوزات علمیہ محض تعلیمی ادارے نہیں ہیں بلکہ حوزہ، نظام استعمار کے مقابلے میں صف اول پر ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین حسینی کوہساری نے کہا: شہید رہبر کی نظر میں نظام استعمار ایک فکری نظام ہے جس کے زوال کے چار شرطیں ہیں یعنی امریکہ کا خطے سے خروج، صیہونی حکومت کا خاتمہ، بین الاقوامی سطح پر نظام استعمار کا خاتمہ اور مغربی تہذیب کا زوال۔ جنگ تحمیلی رمضان نے ان چاروں محوروں میں اسٹریٹجک تبدیلی پیدا کر دی ہے۔
انہوں نے "جنگ رمضان" کے بعد کی تبدیلیوں اور ان کے نتائج کا اسٹریٹجک تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا: اس جنگ سے پہلے کی دنیا اس کے بعد کی دنیا سے مکمل طور پر مختلف ہے اور ہم نئے بین الاقوامی نظام، نئی خلیج فارس، نئے مقاومتی محور اور یہاں تک کہ نئے یورپ اور امریکہ کے پیدا ہونے کے شاہد ہیں۔
حوزہ علمیہ ایران کے بین الاقوامی امور کے سربراہ نے کہا: جنگ رمضان سے پہلے اور بعد کے درمیان فاصلہ دو ماہ سے کہیں زیادہ ہے۔ آج ہم اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل جیسی تنظیموں کی ناکامی کے شاہد ہیں۔

انہوں نے کہا: ہم ایک تاریخی موڑ پر کھڑے ہیں جس میں امریکہ اپنی براہ راست موجودگی اور استکباری تسلط سے ہٹ کر منظم طریقے سے پیچھے ہٹنے اور قانونی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔
حوزہ علمیہ قم کے استاد نے بین الاقوامی ڈھانچوں کی ناکامی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: صیہونی حکومت "مطلق برتری" کے افسانے اور "نیل تا فرات" کے نعرے سے وجودی بحران اور ناقابل واپسی اسٹریٹجک ناکامی تک پہنچ گئی ہے اور امریکہ کی فوجی ناقابل شکست ہونے کا طلسم بھی اس جنگ میں ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گیا۔









آپ کا تبصرہ