جمعرات 21 مئی 2026 - 20:26
رہبر شہید (ره) کا حوزہ کے متعلق پیغام درحقیقت عالم اسلام میں ایک نئی تہذیبی بیداری کا آغاز تھا

حوزہ / حجت الاسلام والمسلمین محمدرضا برتہ نے "پیشرفتہ و برتر حوزہ" کے منشور کو "زندگی بخشنے والا پیغام" قرار دیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے نامہ نگار کے مطابق، حوزہ علمیہ کے بین الاقوامی امور کے نائب سرپرست حجت الاسلام والمسلمین محمد رضا برتہ نے "پیشرفتہ و برتر حوزہ" کے منشور کو "زندگی بخشنے والا پیغام" قرار دیا اور کہا: مذاہب بنیادی طور پر اپنے منشور اور پیغام ہی سے پہچانے جاتے ہیں اور رہبر شہید (ره) کا یہ پیغام بھی حوزہ کو ایک نئی حقیقت سے روشناس کراتا ہے۔ ایک ایسی حقیقت جسے اگر صحیح طور پر سمجھ لیا جائے تو حوزے میں ذمہ داری کا احساس اور ایک نئی تحریک پیدا کرے گا۔

انہوں نے الہی اور تاریخی پیغامات کی نوعیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: حقیقت یہ ہے کہ دین پیغام اور منشور کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس کا ایک لانے والا ہوتا ہے، ایک مخاطب، ایک متن اور ایک مواد۔ رہبر شہید (ره) انقلاب کا پیغام "پیشرفتہ و برتر حوزہ" بھی اسی نوعیت کا ہے۔ ایک زندگی بخشنے والا پیغام جس نے حوزہ کو ایک نئی حقیقت سے دوچار کیا۔

حوزہ علمیہ کے بین الاقوامی امور کے نائب سرپرست نے کہا: اس منشور کو ایک "اسٹریٹجک نسخہ" سمجھا جانا چاہیے۔ اگر کوئی دانا انسان کو خزانے تک پہنچنے کا نسخہ دے دے تو پھر انسان کے لیے دوسرے نسخے ڈھونڈنے کا کوئی معنی نہیں رہتا۔ یہ پیغام بھی حوزہ کے مستقبل کے لیے ایک انتہائی قیمتی نسخہ ہے اور خوش قسمتی سے حوزہ علمیہ نے اسے سنجیدگی سے لیا ہے۔

انہوں نے اس منشور کی بنیاد پر حوزہ میں پالیسی سازی کے عمل کے آغاز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس پیغام کے پڑھے جانے کے اگلے ہی دن حوزہ کی پہلی پالیسی سازی نشست اسی منشور کی بنیاد پر منعقد ہوئی اور کئی اچھے واقعات رونما ہوئے ہیں، البتہ مطلوبہ مقام تک پہنچنے میں ابھی بہت فاصلہ ہے۔

حجت الاسلام والمسلمین برتہ نے کہا: مستقبل کا حوزہ ایک عالمی، تہذیبی، مکالمہ پر مبنی، امید پیدا کرنے والا اور پیشرو حوزہ ہوگا۔ ایک ایسا حوزہ جو نہ کسی علم سے ڈرتا ہے، نہ نئی سوچ سے اور نہ دنیا سے مکالمہ کرنے سے۔

انہوں نے آخر میں کہا: اگر حوزہ اس تہذیبی افق کو سمجھنے اور اسے حقیقت میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو گیا تو پھر "پیشرفتہ و برتر حوزہ" کا منشور محض ایک تاریخی متن نہیں رہے گا بلکہ عالم اسلام میں ایک نئی تہذیبی بیداری کے آغاز کا نقطہ بن جائے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha