جمعہ 15 مئی 2026 - 17:19
میڈیا دور اور بیانات کی جنگ میں علماء و روحانیت کا تہذیبی کردار / رہبر شہید (رہ) کو حوزوی میڈیا سے کیا توقع تھی؟

حوزہ / جب مقابلے کا اصل میدان جغرافیائی سرحدوں سے ہٹ کر ادراکی سرحدوں کی طرف منتقل ہو گیا اور جنگیں بیانیوں کے میدان میں لڑی جانے لگیں تو ہمارے رہبر شہید (رہ) نے "اقناع اور قائل کرنے کی طاقت" اور "گفتگو کی ٹیکنیک" پر زور دیتے ہوئے حوزات علمیہ کے لیے ایک نیا ہدف متعین کیا۔ ایک ایسا ہدف جو علماء و روحانیت کو محض روایت کا راوی نہیں بلکہ مستقبل کا معمار قرار دیتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی | آج کے دور میں جنگیں صرف فوجی میدانوں میں طے نہیں ہوتیں بلکہ مقابلے کا ایک بڑا حصہ بیانیوں، تصویر سازی اور عوامی رائے عامہ کے میدان میں چل رہا ہے۔ ایسے حالات میں رہبر شہید (رہ) کا "قدرتِ اقناع" اور "گفتگو کی ٹیکنیک" پر زور دینا محض ایک تبلیغی مشورہ نہیں تھا بلکہ حوزات علمیہ کے لیے ایک تہذیبی حکمت عملی کی ترسیم تھی۔

اس موضوع پر مزید گفتگو کے لیے ہم نے استادِ حوزہ اور میڈیا ریسرچر کے ساتھ گفتگو حجت الاسلام والمسلمین عبداللہ جلالی کے ساتھ گفتگو کی جس کا خلاصہ آپ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے:

اس استادِ حوزہ اور میڈیا ریسرچر کے مطابق موجودہ دور میں میڈیا محض ایک مائیکروفون نہیں ہے جو کسی پلیٹ فارم کی تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے بلکہ یہ ایک کارآمد لیبارٹری ہے۔ ہمیں ایسے تشریحی روابط کی ضرورت ہے جن کے ذریعے ہم سماجی نظاموں کے بارے میں اسلام کے فکر کو عام لوگوں اور دنیا بھر کے ممتازین کی زبان میں ترجمہ کر سکیں۔

الحمدللہ اس سلسلے میں حوزہ علمیہ کے میڈیا اور سائبر سپیس سنٹر کی طرف سے انتہائی اچھے فکری پروگرامز تیار اور شائع کیے گئے ہیں۔

اگر ہم اس بات کا میڈیا ترجمہ پیش کریں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ حوزات علمیہ کو آج کے دور میں جدید ترین مواصلاتی سسٹم اور ماہرانہ ٹیکنالوجی کو اس مقدس ہدف کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ یہ وہ ہدف ہے جو حوزات علمیہ کے بنیادی فریضے یعنی اسلام کی تبلیغ اور دینی معارف و حقائق کے میدان میں جدید ترین علمی اور تحقیقی دستاویزات پیش کرنے کے طور پر جانا جاتا ہے۔

آج "بلاغ مبین" کا مطلب ہے اسلام کی آواز کو سائبر اسپیس تک پہنچانا، اس زبان میں جسے آج کا نوجوان اپنی زبان سمجھے۔ ہمارے ملک کے نوجوان حوزات علمیہ کی تبلیغ کے اہم ترین مخاطبین میں سے ہیں۔ حوزات علمیہ کو نئی نسل کے ساتھ یہ رابطہ قائم کرنے کے لیے صرف خطابت پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔

آج ہم بیانیوں کی جنگ میں اور میڈیا جنگ کے میدان میں ایک ادراکی اور ٹیکنیکل جنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس جنگ میں ہر قسم کی نفسیاتی جنگی ٹیکنیکس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں اور دشمن کے میڈیا پر جھوٹ کے سیلاب کے باوجود، میڈیا کا کام جہاد کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہونا ہے اور وہ ہے مؤثر تبیین کا جہاد اور بیانیہ محور جہاد۔

ہم آج حوزہ علمیہ کی زندگی کے ایک نئے باب کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔ رہبر شہید (رہ) کی طرف سے گزشتہ سال حوزہ علمیہ کی ایک صدی مکمل ہونے پر منعقدہ کانفرنس کو بھیجا گیا پیغام محض ایک رسمی متن نہیں تھا بلکہ دوسری صدی میں حوزے کے لیے ایک تہذیبی راہنما نقشہ ہے۔ رہبر شہید (رہ) کے پیغام نے ہمارے لیے ایک واضح ذمہ داری مقرر کی اور وہ یہ تھی کہ حوزہ کو پیشرو اور سرآمد (پیشرفتہ اور مفید) ہونا چاہیے۔

ہمارے رہبر شہید (رہ) نے اس بیانیہ میں بھی "اقناع اور قائل کرنے کی طاقت" اور "گفتگو کی ٹیکنیک" پر زور دیتے ہوئے حوزات علمیہ کے لیے ایک نیا ہدف متعین کیا۔ ایک ایسا ہدف جو علماء و روحانیت کو محض روایت کا راوی نہیں بلکہ مستقبل کا معمار قرار دیتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha