حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ کے میڈیا اور سائبر سپیس سنٹر میں مرکز "پیشرفتہ و برتر حوزہ" کے زیر اہتمام منعقدہ نشست میں گفتگو کے دوران حوزہ علمیہ قم کے استاد حجت الاسلام والمسلمین محمد رضا فلاح شیروانی نے اس منشور کی تاریخی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا: اگر حوزہ اور معاشرہ اس پیغام کو سنجیدگی سے لیں تو یہ پیغام انسانوں اور اداروں کو برجستہ کرنے اور ان کے سامنے نئے افق کھولنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا: جب بھی حوزہ پھلا پھولا، اسلامی تہذیب بھی پھلی پھولی اور جب بھی حوزہ کمزور ہوا، اسلامی معاشرہ بھی جمود اور پسماندگی کا شکار ہوا۔
حجت الاسلام والمسلمین فلاح شیروانی نے خطے کے ممالک خاص طور پر عراق اور یمن کے ساتھ حوزہ کے فعال تعاون کی ضرورت پر زور دیا اور کہا: عالم اسلام میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں جو ابھی تک صحیح طور پر فعال نہیں ہوئی ہیں۔ حوزہ کو چاہیے کہ وہ تہذیبی رہبری کی سطح پر عالم اسلام کے ساتھ اپنے علمی اور فکری تعاملات کو بڑھائے۔
انہوں نے رہبر شہید (ره) انقلاب اسلامی کے حوزات علمیہ سے متعلق پیغام کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اگر حوزہ اور حوزہ سے باہر اس پیغام کو سنجیدگی سے لیا جائے تو واقعی ایک بڑا واقعہ رونما ہوگا کیونکہ اس پیغام میں انسانوں اور اداروں کو "پیشرفتہ کرنے" کی صلاحیت موجود ہے اور یہ اپنے مخاطبین کے وجودی اور حیاتیاتی افق کو بلند کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا: حوزات علمیہ پوری تاریخ میں تہذیب و تمدن کی رشد کا باعث رہے ہیں اور اگر حوزہ رہبر شہید (ره) انقلاب اسلامی کے مطلوبہ تہذیبی افق میں حرکت کر سکے تو نہ صرف ایران اسلامی بلکہ عالم اسلام اور حتیٰ کہ انسانی معاشرہ بھی اس کی برکتوں سے مستفید ہو گا۔









آپ کا تبصرہ