حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم المقدسہ کے امام جمعہ آیت الله سید محمد سعیدی نے نمازِ جمعہ کے خطبوں میں کہا کہ جہاں دنیا داخلی بحرانوں اور بین الاقوامی تنہائی کا شکار ہے، وہیں اسلامی جمہوریہ ایران اپنے رہبرِ انقلاب کی حکیمانہ ہدایات اور خطے میں اپنی تزویراتی (Strategic) پوزیشن کی بدولت پہلے سے کہیں زیادہ با اختیار ہے۔
انہوں نے مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ضرورت کے تحت نہیں، بلکہ حق پسندی اور اقتدار کے ساتھ بات کر رہے ہیں۔
امام جمعہ قم نے دشمن کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ دشمن جان لے کہ مار کر بھاگنے والا اور یک طرفہ معاہدے تھوپنے کا دور اب ختم ہو چکا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہماری آج کی عزت کسی کا احسان نہیں، بلکہ یہ امت کے امام، شہید کی مظلومیت، اقتدار اور ان کے پاک خون کا نتیجہ ہے۔ آج کی ہماری تمام کامیابیاں آیت الله سید مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت کی مرہونِ منت ہیں۔ ہماری عزت اور طاقت شہداء کے خون، مقاومت اور وفادار و بہادر عوام کی موجودگی کا ثمر ہے۔
آیت الله سعیدی نے یومِ مقاومت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہر دزفول استقامت اور پائیداری کی علامت ہے۔ دزفول نے ثابت کر دیا کہ میزائل اور بمباری گھروں کو تو تباہ کر سکتی ہے مگر انسان کے ارادوں کو نہیں توڑ سکتی۔ دزفول اسلامی ایران کے سینے پر استقامت کا تمغہ ہے اور آج کے سخت ترین دباؤ کے خلاف مزاحمت کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔
آستانہ مقدس حضرت معصومہ (س) کے متولی نے مزید کہا کہ ہمارے شہدائے خدمت نے ثابت کیا ہے کہ ایک انسان ایک ہی وقت میں میدان کا سپاہی، ماہر سفارت کار، مثالی امام جمعہ اور شایستہ گورنر ہو سکتا ہے۔
آیت الله سعیدی نے کہا کہ دوسروں (مغرب یا دشمن) کے ہاتھ کی طرف دیکھنے کے بجائے، اپنی داخلی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنا چاہیے اور بابصیرت طریقے سے دشمن کو مشکل میں ڈالنا چاہیے۔ آج ہم میدانِ جنگ، سڑکوں اور بین الاقوامی سطح پر جو وقار رکھتے ہیں، وہ درست سمت میں قدم اٹھانے اور مستقل مزاجی کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے یومِ بهرهوری (استعمال کی بہتری کے دن) کے حوالے سے کہا کہ معاشی میدان میں تقویٰ کا مطلب وسائل کا درست اور بہتر استعمال ہے۔ اسراف اور فضول خرچی ملک کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔
امام جمعہ قم نے تاکید کی کہ توانائی اور وسائل کا صحیح انتظام صرف ایک اخلاقی نصیحت نہیں، بلکہ پابندیوں (Sanctions) کو بے اثر کرنے کے لیے ایک قومی جہاد ہے۔
انہوں نے حضرت امام باقر (ع) کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آنحضرت (ع) کی وصیت تھی کہ 10 سال تک سرزمینِ منا میں آپ کے لیے عزاداری کی جائے۔ یہ ایک دانشمندانہ وصیت تھی، تاکہ اہل بیت (ع) کی مظلومیت کو میڈیا کے ذریعے پھیلایا جا سکے۔
امام جمعہ قم نے مزید کہا کہ امام باقر (ع) چاہتے تھے کہ مسلمانوں کے سب سے بڑے اجتماع میں حق کے چہرے کو نمایاں کیا جائے۔ یہ ہمارے لیے سبق ہے کہ ہمیں ہر موقع اور اجتماع کو جہادِ تبیین کے لیے استعمال کرنا چاہیے، تاکہ دنیا کو حق، امام اور رہبر کا پیغام پہنچایا جا سکے۔
انہوں نے یومِ عرفہ اور حضرت مسلم بن عقیل اور ہانی بن عروہ کی شہادت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عرفہ بندہ اور خالق کے درمیان تعلق کا دن اور استجابت اور استغفار کا خاص وقت ہے؛ اس دن دعا مؤمن کا ہتھیار ہے۔
امام جمعہ قم نے عیدِ قربان کے حوالے سے کہا کہ عیدِ قربان دراصل اللہ کے ولی کے حکم کے سامنے اپنی انا کو ذبح کرنے کا نام ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ غدیر تک پہنچنے اور امامت کو سمجھنے کا راستہ سخت آزمائشوں، ایثار اور قربانی سے ہو کر گزرتا ہے۔









آپ کا تبصرہ