حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی ادارہ الباقر کے شعبۂ تبلیغات مجلسِ علمائے امامیہ پاکستان کے زیرِ اہتمام 21 مئی 2026 بروز جمعرات، “تکریم شہداء و تجدیدِ عہد کانفرنس” کوٹ ادو میں منعقد ہوئی؛ جس میں جنوبی پنجاب کے اضلاع بہاولپور، ملتان، راجن پور، ڈیرہ غازی خان، لیہ، بھکر، وہاڑی، خانیوال، کوٹ ادو اور مظفر گڑھ سے آئمہ جمعہ والجماعت، مبلغین امامیہ اور علمائے کرام نے بھرپور شرکت کی۔

کانفرنس میں شہدائے مقاومت خصوصاً شہید امت حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای، شہید سید حسن نصراللہ اور دیگر شہداء کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ان کی دینی، فکری اور مزاحمتی خدمات کو سراہا گیا۔
مقررین نے ایران اور لبنان پر ہونے والی جارحیت کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ملت اسلامیہ کے خلاف جارحیت قرار دیا اور اتحادِ امت، بیداری اور مزاحمت کے تسلسل کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان جنوبی پنجاب کے صدر حجت الاسلام و المسلمین قاضی نادر حسین علوی نے اپنے خطاب میں شہید امت امام سید علی خامنہ ای کی علمی، فکری اور انقلابی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ امام خامنہ ای نے امت مسلمہ میں وحدت، بیداری اور استقامت کی نئی روح پیدا کی اور عالمی استکبار کے مقابلے میں مزاحمتی محاذ کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔
انہوں نے رہبرِ انقلابِ اسلامی آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ تجدید عہد کرتے ہوئے کہا کہ تمام تر فکری و نظری اختلافات کے باوجود رہبر انقلاب کی قیادت میں اتحاد، وحدت اور یکجہتی کا پیغام پوری قوت کے ساتھ آگے بڑھایا جاتا رہے گا۔ انہوں نے 13 جون کو مینار پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی “شہید امت کانفرنس” کو ایک عظیم قومی و ملی اجتماع قرار دیتے ہوئے جنوبی پنجاب کے تمام اضلاع سے بھرپور شرکت کے عزم کا اظہار کیا۔

استاد العلماء بزرگ عالم دین دارلعلوم محمدیہ سرگودھا کے پرنسپل اور مجلس علماء امامیہ کے مرکزی رہنما علامہ ملک نصیر حسین نے خطاب کرتے ہوئے شہید سید حسن نصراللہ کی قیادت، مزاحمتی جدوجہد اور لبنان میں بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ شہید سید حسن نصراللہ نے مختلف طبقات کو قریب لانے اور داخلی وحدت قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ لبنان نے ان کی قیادت میں نہ صرف دفاعی و سیاسی میدان میں استحکام حاصل کیا بلکہ خطے میں استعماری قوتوں کے مقابلے میں مزاحمتی محاذ کو نئی توانائی بھی فراہم کی۔
بعد ازاں ممتاز عالم دین اور بین الاقوامی ادارہ الباقر کے ڈائیریکٹر تعلقات عامہ و تربیت علامہ ڈاکٹر سید جاوید حسین شیرازی نے خطاب کرتے ہوئے شہید امت امام سید علی خامنہ ای کی فکری، روحانی اور اسٹریٹجک خدمات پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ امام خامنہ ای نے عالمی سطح پر امت مسلمہ کے اتحاد، بین المسالک ہم آہنگی اور فکری یگانگت کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کیے۔

انہوں نے کہا کہ دفاعی میدان میں ان کی حکمت عملی کے باعث ایران نے غیر معمولی پیش رفت کی اور جدید دفاعی صلاحیتوں کی بدولت عالمی دباؤ کے باوجود مضبوطی کے ساتھ کھڑا ہے۔
علامہ ڈاکٹر سید جاوید حسین شیرازی نے کہا کہ امام خامنہ ای کی روحانی وابستگی اہل بیت خصوصاً حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور حضرت عباس سے ان کی معنوی شخصیت کا نمایاں پہلو تھا، جس نے ان کی شخصیت کو روحانی قوت عطا کی۔

انہوں نے کہا کہ ان کی شہادت نے انقلاب اسلامی کو نئی توانائی دی اور دنیا بھر میں مزاحمتی تحریکوں کو تازہ حوصلہ ملا۔
کانفرنس سے مجلس علماء امامیہ پاکستان کے مدیر مسئول حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ ضیغم عباس نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں علما کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی شعور کو صحیح سمت دیں اور بیداری و تبیین کے عمل کو مؤثر بنائیں۔
کانفرنس کے اختتام پر شہدائے اسلام و مقاومت کے لیے خصوصی دعا کی گئی جبکہ ایران، لبنان، فلسطین اور دیگر مظلوم خطوں پر امریکہ و اسرائیل کی جارحیت کی شدید مذمت کی گئی۔ شرکاء نے امت مسلمہ کے اتحاد، مظلوم اقوام کی حمایت اور مزاحمتی محاذ کی بھرپور تائید و حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔ شرکاء نے ایران پر جارحیت کے بعد پاکستان کی جانب سے خطے میں امن کی بحالی کی کوششوں کا خیر مقدم کیا اور 13 جون مینار پاکستان پر منعقدہ شہید امت کانفرنس میں بھرپور شرکت کے عزم کا اعادہ کیا۔









آپ کا تبصرہ