حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بلتستان پاکستان کے مبلغین کا ایک عظیم الشان اجتماع قم میں "شہید امت اور مبلغین کے فرائض" کے عنوان سے منعقد ہوا؛ جس میں پاکستان کے علمائے کرام اور طلباء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

اس عظیم الشان اجتماع میں، رہبرِ شہید کے راستے کو جاری رکھنے، جہادِ تبیین کو تقویت دینے اور ثقافتی اور سماجی میدان میں فعال کردار ادا کرنے کے اہم مشن پر زور دیا گیا۔
جامعہ روحانیت بلتستان کے شعبۂ تبلیغ کی کوششوں سے مبلغین کا یہ عظیم الشان، زمزم کمپلیکس کے ساتھ موکب ثانی زہراء میں منعقد ہوا۔
پروگرام کی نظامت کے فرائض جامعہ روحانیت بلتستان کے ترجمان مولانا سجاد ساجدی نے انجام دئیے۔

پروگرام میں مہمانِ خصوصی کے طور پر جامعہ المصطفیٰ العالمیہ کے شعبۂ فارغ التحصیلان کے سربراہ حجت الاسلام برزو اور پاکستان میں جامعہ المصطفیٰ کے نمائندے حجت الاسلام سید علی شمسی پور نے شرکت کی۔

اس موقع پر جامعہ روحانیت بلتستان کے رکن مولانا سجاد زکزاکی نے ایران کے مختلف شہروں میں عوامی اجتماعات میں اپنی اور اپنی ٹیم کی تبلیغی سرگرمیوں کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔
پاکستان میں المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے نمائندے حجت الاسلام سید علی شمسی پور نے اپنے خطاب میں رہبرِ انقلابِ اسلامی حضرت آیت الله العظمٰی شہید سید علی خامنہ ای کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں اور نمایاں خصوصیات کو بیان کیا۔

انہوں نے امت مسلمہ کی رہنمائی میں رہبرِ شہید کے مقام کا ذکر کرتے ہوئے انقلابِ اسلامی کے نظریات کو سمجھنے اور رہبر شہید کی تعلیمات کی حفاظت میں علماء اور دینی مبلغین کے اہم فرائض کی وضاحت کی اور ثقافتی اور سماجی میدانوں میں مبلغین کی فعال موجودگی کی ضرورت پر زور دیا۔
جامعہ المصطفیٰ العالمیہ کے شعبۂ فارغ التحصیلان کے سربراہ حجت الاسلام برزو نے ایک نئی اسلامی تہذیب کے ادراک میں طلباء اور مبلغین کے کردار کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے اسلامی معاشروں میں مزاحمتی پہلوؤں کے فروغ پر زور دیتے ہوئے "جہادِ تبیین" کو مبلغین کے اہم ترین اور سنجیدہ فرائض میں شمار کیا اور حقائق کی وضاحت، شکوک و شبہات کا جواب دینے اور لوگوں میں دینی بصیرت کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اس اجتماع کے آخر میں جامعہ روحانیت بلتستان سے وابستہ "ثانی زہراء" موکب کے خادمین اور رمضان المبارک میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں دین ناب محمدی کی تبلیغ کرنے والے مبلغین کی قدردانی کرتے ہوئے انہیں لوح تقدیر، نقد اور نفیس انعامات سے نوازا گیا۔









آپ کا تبصرہ