حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شہید آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی حیات، جدوجہد، فکر، قیادت اور عالمی اثرات پر مشتمل، پاکستان کے معروف مصنف توقیر کھرل کی تصنیف “شہید رہبر” بالآخر منصۂ شہود پر جلوہ افروز ہوگئی۔
یہ کتاب رہبرِ انقلاب کی سیاسی و دینی زندگی کے اہم گوشوں کو اجاگر کرتی ہے اور اس میں شہید کی علمی، انقلابی، روحانی اور مزاحمتی فکر کو بھی جامع انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
کتاب میں بچپن سے لے کر قیادتِ امت تک کا سفر، انقلابی جدوجہد، قید و بند کی صعوبتیں، جنگی حالات، عالمی شخصیات سے ملاقاتیں، خطابات، خطوط اور امتِ مسلمہ کے لیے ان کے تاریخی کردار کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
مصنف توقیر کھرل نے کتاب کو ادبی، تحقیقی اور صحافتی اسلوب میں تحریر کیا ہے، جس میں نادر معلومات، تاریخی حوالہ جات اور جذباتی وابستگی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ “شہید رہبر” کو علمی و فکری حلقوں میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ کتاب اردو دنیا میں رہبرِ انقلاب پر لکھی جانے والی نمایاں تصانیف میں شمار ہوگی۔
کتاب میں مختلف ملکی و غیر ملکی صحافیوں، تجزیہ کاروں اور ممتاز مبصرین کے کالمز شامل کئے گئے ہیں؛ جبکہ آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای شہیدؒ کے حوالے سے پاکستانی اخبارات میں شائع ہونے والے اداریے بھی کتاب کا حصہ بنائے گئے ہیں۔ “شہید رہبر” کتاب میں شہیدؒ کی پوری زندگی، انقلاب اسلامی کیلیے خدمات سمیت وحدت امت کے لیے شہید کی کوششوں پر مفصل روشنی ڈالی گئی ہے۔
جناب توقیر کھرل نے نہایت جانفشانی سے شہیدؒ کی پوری زندگی کو بہترین انداز میں ایک کتاب میں جمع کر دیا ہے۔ شہید رہبر پر تہران میں ہونے والے حملے کے عینی شاہدین کے خصوصی انٹرویوز بھی کتاب میں شامل کے گئے ہیں۔
رہبر معظم کے 1986ء میں دورۂ پاکستان کی بھی مکمل روداد شامل ہے۔
شہید سید علی خامنہ ای کے اہم خطبات، افکار، خطوط اور فتاویٰ کو بھی کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔ 320 صفحات پر مشتمل کتاب اچھی تخلیقات میں ایک بہترین اضافہ سمجھا جا رہا ہے۔
ادبی و علم دوست حلقوں کی جانب سے جناب توقیر کھرل کی اس کاوش کو سراہا جا رہا ہے۔
جناب توقیر کھرل نے اس سے قبل شہید سردار اور نجف سے کربلا سفرنامہ بھی تحریر کیا ہے۔









آپ کا تبصرہ