تحریر: مولانا سید ذہین نجفی
حوزہ نیوز ایجنسی|
بہت سے احباب، خصوصاً کشمیر کے علماء و طلباء کی جانب سے مسلسل یہ سوال سامنے آ رہا ہے کہ:
“ھنر مند علماء کرام پروجیکٹ آخر اب تک کیا ہوا؟”
اور یہ سوال بجا بھی ہے، کیونکہ اس فکر و منصوبے کے آغاز کو ایک سال ہو چکا ہے۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ “ھنر مند علماء کرام پروجیکٹ” سے مراد ہرگز یہ نہیں کہ علماءِ کرام کو ان کے اصل مقدس فریضے یعنی دینِ خدا ص کی خدمت، تبلیغِ دین اور علمی ذمہ داریوں سے ہٹا کر کسی دوسرے میدان میں لگا دیا جائے۔
بلکہ مقصد یہ ہے کہ علماءِ کرام اپنے مقدس و معتبر پیشے کے ساتھ ایسا باعزت اور حلال ذریعۂ معاش بھی حاصل کریں جس سے وہ معاشی طور پر مضبوط اور خود کفیل ہو سکیں۔
کیونکہ آج ایک اہم سوال یہ ہے کہ عالمِ دین اپنی علمی و دینی خدمات کے ساتھ معاشی استحکام کیسے حاصل کرے؟
کیا وہ ہمیشہ دوسروں پر انحصار کرے؟
یا اپنی محنت، قابلیت اور مہارت کے ذریعے اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کے لیے ایک باوقار اور پُرسکون زندگی بنا سکے؟
اسی سوچ کے تحت قربتہ الی اللہ خدمت علماء کے عنوان سے اس منصوبے کی بنیاد رکھی گئی۔
اس منصوبے کا مقصد *صرف مالی امداد نہیں، بلکہ ایک مکمل فکری، تربیتی اور عملی تحریک ہے، جس کا ہدف علماءِ کرام کو باصلاحیت، خود کفیل اور زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہے۔
اسی لیے ابتدا ذہن سازی اور فکری تیاری سے کی گئی، یعنی یہ سمجھنا اور سمجھانا کہ:
علماء کے لیے ہنرمندی کی ضرورت کیوں ہے؟
اس کے فوائد کیا ہیں؟
ایک عالم کن حدود کے اندر رہتے ہوئے معاشی مضبوطی حاصل کر سکتا ہے؟
اور جدید دنیا کے تقاضوں کے مطابق اپنی عزتِ نفس اور وقار کے ساتھ کیسے آگے بڑھ سکتا ہے؟
الحمد للّٰہ رب العالمین، طویل مشاورت اور اہلِ علم سے گفتگو کے بعد یہ فکری مرحلہ تقریباً آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے، اور اب عملی سلسلے شروع کیے جا رہے ہیں۔
اس کی ایک مثال آسان اقساط پر قرضِ حسنہ کی فراہمی ہے، تاکہ ضرورت مند علماء سودی یا ذلت آمیز نظام میں پھنسے بغیر اپنے قدموں پر کھڑے ہو سکیں۔
لیکن اصل توجہ صرف مالی معاونت پر نہیں، بلکہ “اپنی مدد آپ” کے اصول پر ہے۔
یعنی علماء اپنی صلاحیتوں، مہارتوں اور استعداد میں اضافہ کریں، جدید تقاضوں کو سمجھیں، نئی مہارتیں سیکھیں اور حلال و باوقار ذرائع سے اپنی آمدنی بہتر بنائیں۔
اسی ہنرمندی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ علماءِ کرام اسلام کے معاشی نظام، بالخصوص “حقوقِ شرعیہ” اور “نظامِ خمس” کو خود گہرائی سے پڑھیں، سمجھیں اور پھر عوام تک صحیح انداز میں پہنچائیں۔
کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا دینی و معاشی نظام صرف چند رسمی مسائل کا نام نہیں، بلکہ ایک مکمل اجتماعی، تعلیمی اور فلاحی نظام ہے۔
قرآنِ مجید متقین کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ﴾
یعنی جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے، اُس میں سے راہِ خدا میں خرچ کرتے ہیں۔
یعنی قرآن صرف “مدد لینے” کی نہیں بلکہ “دینے” کی فکر پیدا کرتا ہے۔ ایک عالم تب ہی دینے کے قابل ہوگا جب وہ معاشی طور پر خود کفیل ہوگا دوسروں پر انحصاری کرنے والا عالم کھبی دینے والا نہیں ہو سکتا ۔۔۔
ایک ایمانی معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں لوگ اپنے مال، وقت، وسائل اور صلاحیتوں میں سے دین، علم اور دینی نظام کی مضبوطی کے لیے حصہ نکالتے ہیں۔
لہٰذا اس منصوبے کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ علماء پہلے خود خمس، حقوقِ شرعیہ اور اسلامی معاشی نظام کو سمجھیں، پھر عوام الناس میں اس حوالے سے شعور پیدا کریں۔
کیونکہ جب معاشرے میں صحیح بنیادوں پر حقوقِ شرعیہ کا شعور بیدار ہوگا، تو انہی اموال کے ذریعے دین، طلابِ علومِ دینیہ، علمی مراکز اور خود علماء و طلباء کی فلاح و خود کفالت کا مضبوط نظام قائم ہو سکے گا۔
یعنی اسلام کا معاشی نظام صرف مدد لینے کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسا بابرکت نظام ہے جو صحیح طور پر نافذ ہو تو علماء و طلباء کو باوقار اور خود کفیل بنانے میں بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے۔
اسی کے ساتھ یہ معاشرے کے ہر فرد سے ایک اہم اپیل بھی ہے۔
کیونکہ یہ فکر صرف علماء کی ذمہ داری نہیں، عوام الناس کی بھی دینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔
جو عالمِ دین اپنی زندگی دین، مسجد، محراب، منبر اور لوگوں کی رہنمائی کے لیے وقف کر دیتا ہے، تو معاشرے کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسے خدمت گزار عالم کو معاشی پریشانیوں میں تنہا نہ چھوڑے۔
لہٰذا ہر بستی، محلے، گاؤں اور علاقے کے لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ وہ اپنے مسجد کے عالم، پیش نماز، خطیب یا دینی خدمت گزار کی معاشی مضبوطی کے لیے کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یہ تعاون مختلف صورتوں میں ہو سکتا ہے:
باعزت مالی معاونت
مستقل تعاون کا نظام
چھوٹے کاروبار یا ہنر کے مواقع
رہائش، تعلیم اور ضروریات میں مدد حقوقِ شرعیہ کی درست ادائیگی
یا اجتماعی منصوبے جن سے علماء خود کفیل ہو سکیں
کیونکہ ایک معاشی طور پر مضبوط عالم، زیادہ سکون، وقار اور یکسوئی کے ساتھ دین کی خدمت انجام دے سکتا ہے۔
اسی مقصد کے تحت “ھنر مند علماء کرام پروجیکٹ فورم” تربیتی ورکشاپس، رہنمائی، آگاہی، فکری معاونت، مشاورت، مہارت سازی اور جہاں ممکن ہو مالی تعاون کے ذریعے علماءِ کرام کے ساتھ کھڑا ہے۔
لیکن اس فکر کی کامیابی صرف چند افراد سے ممکن نہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر عالمِ دین اس سوچ کو سمجھے، اسے اپنی عزت و وقار کے خلاف نہیں بلکہ اپنی خودداری، استقلال اور بہتر خدمتِ دین کے حق میں جانے، اور پھر اسے معاشرے میں عام کرے۔
کیونکہ ایک خود کفیل اور باوقار عالم، زیادہ آزاد، مضبوط اور مؤثر انداز میں دین کی خدمت انجام دے سکتا ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں دین کی خدمت کے ساتھ عزتِ نفس، خودداری، اخلاص، صحیح فہمِ دین اور خدمتِ خلق کی توفیق عطا فرمائے، بحقِ محمد و آلِ محمد علیہم السلام۔ آمین۔









آپ کا تبصرہ