حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ قم کے ذیلی ادارے “حوزہ پیشرو و سرآمد” کے سیکریٹری حجت الاسلام والمسلمین ابوالقاسم مقیمی حاجی نے کہا ہے کہ حوزہ علمیہ، رہبرِ شہید انقلاب کے اسٹریٹجک پیغام کو عملی شکل دینے کے لیے تیز رفتاری کے ساتھ مختلف علمی، تعلیمی اور تحقیقی منصوبوں پر کام کر رہا ہے، جبکہ نظامِ تعلیم میں ہمہ جہت اصلاحات کے لیے نئی حکمتِ عملی بھی تیار کر لی گئی ہے۔
انہوں نے حوزہ علمیہ کی مختلف کمیٹیوں کے سربراہان کے ساتھ منعقدہ فکری نشست میں شہید قائدِ امت، عسکری کمانڈروں، دانشوروں اور جنگ میں شہید ہونے والے عوام کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حوزہ علمیہ قم کی تاسیسِ نو کے سو سال مکمل ہونے کے موقع پر مختلف علمی و تحقیقی موضوعات پر درجنوں کتابیں اور تحقیقی آثار تیار کیے گئے ہیں، جن میں گزشتہ ایک صدی کے دوران حوزہ علمیہ کی کارکردگی کا جامع جائزہ لیا گیا ہے۔
معاونِ تعلیمِ حوزہ نے بتایا کہ ان علمی آثار میں علمِ کلام، تفسیر، حدیث، فقہ، انسانی علوم، تبلیغ، تحقیق، ادب، خوشنویسی، شاعری اور دیگر علمی و ثقافتی میدانوں کا تفصیلی جائزہ شامل ہے تاکہ حوزہ علمیہ کی علمی خدمات کی مکمل تصویر سامنے آسکے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک 26 جلدیں شائع ہو چکی ہیں جبکہ مزید 30 جلدیں اشاعت کے مرحلے میں ہیں اور توقع ہے کہ آئندہ ایک ماہ کے اندر منظرِ عام پر آ جائیں گی۔ اس کے علاوہ اقتصاد، مینجمنٹ، سماجی انصاف، تربیتی نفسیات، اسنادِ اسٹریٹجک، حوزہ اور اسلامی نظام کے تعلقات، خوشنویسی اور شاعری جیسے موضوعات پر مزید 10 جلدیں بھی تیار کی جا رہی ہیں۔

حجت الاسلام والمسلمین مقیمی حاجی نے بتایا کہ رہبرِ معظم انقلاب اسلامی کے پیغام کے بعد مختلف اداروں کے ساتھ متعدد اجلاس منعقد کیے گئے تاکہ ہر شعبہ اپنے اہداف اور عملی منصوبے واضح کرے۔ اسی بنیاد پر سنہ 1404 اور 1405 ہجری شمسی کے لیے حوزہ علمیہ کے جامع پروگرام مرتب کیے گئے اور ان کی نگرانی کے لیے “حوزہ پیشرو و سرآمد” قرارگاہ قائم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ 12 روزہ جنگ، محرم و صفر کے ایام اور بعض سماجی حالات کی وجہ سے کچھ فکری نشستوں میں تاخیر ہوئی، تاہم نئے تعلیمی سال کے آغاز پر ان پروگراموں کو دوبارہ فعال کیا جائے گا۔
دبیر قرارگاہ نے انکشاف کیا کہ معاونتِ پژوهش نے رہبرِ معظم انقلاب کے پیغام سے 200 سے زائد تحقیقی موضوعات استخراج کیے ہیں اور ہر موضوع پر ابتدائی تحقیقی منصوبہ بھی تیار کیا جا چکا ہے تاکہ مقالات، کتابوں اور تحقیقی مقالوں کی تدوین ممکن ہو سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حوزہ علمیہ میں تخصصی شعبوں کی اصلاح اور جدید تقاضوں کے مطابق نئے مضامین متعارف کرانے کا عمل بھی جاری ہے۔ “دین اور سوشل میڈیا” کے نام سے نئی تخصصی رشته کی منظوری دی جا چکی ہے جبکہ فلسفہ، کلام، تفسیر اور مختلف تخصصی فقہی شعبوں میں بھی اصلاحات جاری ہیں۔

حجت الاسلام والمسلمین مقیمی حاجی کے مطابق فقہِ پزشکی، فقہِ ثقافت اور دیگر جدید فقہی شعبوں کے نصاب تیار کیے جا رہے ہیں تاکہ حوزہ علمیہ عصری مسائل کا مؤثر جواب دے سکے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیمی ڈھانچے کی اصلاح کے لیے جاپان، ہندوستان، پاکستان، ترکی، عراق، مصر، کینیڈا، برطانیہ، امریکہ اور بعض افریقی ممالک کے تعلیمی نظام کا تقابلی مطالعہ بھی کیا گیا ہے تاکہ کامیاب عالمی تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے آخر میں زور دیا کہ ان تمام منصوبوں کا بنیادی مقصد حوزہ علمیہ کو اسلامی تمدن سازی، سماجی نظام سازی اور عصری تقاضوں کے مطابق فعال و مؤثر ادارہ بنانا ہے، اور یہ ہدف تمام علمی و دینی اداروں کے تعاون اور مشترکہ جدوجہد کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔









آپ کا تبصرہ