ایران۔اسرائیل جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کا سیاسی نقشہ

حوزہ/ایران۔اسرائیل جنگ نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی نقشے کو ہلا کر رکھ دیا ہے، بلکہ اس نے پوری مسلم دنیا کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنے اجتماعی ضمیر، اپنی ترجیحات اور اپنے نظریاتی مؤقف کا ازسرِ نو جائزہ لے۔

تحریر: سید علی نقی نقوی

حوزہ نیوز ایجنسی| وَلَنْ تَرْضَىٰ عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ. (سورہ بقرہ، آیت 120)

امتِ مسلمہ آج ایک ایسے تاریخی موڑ پر کھڑی ہے جہاں عبادت، سیاست، اخلاق اور عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات—سب ایک دوسرے میں گتھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ایران۔اسرائیل جنگ نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی نقشے کو ہلا کر رکھ دیا ہے، بلکہ اس نے پوری مسلم دنیا کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنے اجتماعی ضمیر، اپنی ترجیحات اور اپنے نظریاتی مؤقف کا ازسرِ نو جائزہ لے۔

یہ جنگ محض دو ریاستوں کے درمیان عسکری تصادم نہیں تھی؛ یہ ایک ایسا آئینہ تھی جس میں پوری امت نے اپنی کمزوریاں، اپنی تقسیم، اپنی بے بسی اور اپنی ترجیحات کو صاف صاف دیکھ لیا۔ برسوں سے مسلم دنیا دو الگ دنیاؤں میں بٹی ہوئی تھی: ایک دنیا عبادت، روزہ، نماز، حج اور مذہبی شعائر کی تھی؛ اور دوسری دنیا سیاسی مفادات، عالمی اتحادوں، سفارتی دباؤ اور طاقت کے کھیل کی۔ ایران۔اسرائیل جنگ نے ان دونوں دنیاؤں کے درمیان موجود پردہ چاک کر دیا۔

سورہ بقرہ کی آیت 120 ایک ایسا اصول بیان کرتی ہے جو وقت، حالات اور جغرافیے سے ماورا ہے۔ یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ بڑی طاقتیں کبھی بھی اس وقت تک مطمئن نہیں ہوتیں جب تک مسلمان اپنی فکری، تہذیبی اور سیاسی شناخت چھوڑ کر ان کے راستے پر نہ چل پڑیں۔ یہ دشمنی کی دعوت نہیں، بلکہ بصیرت کی دعوت ہے—وہ بصیرت جو مسلم قیادت کے بڑے حصے میں مفقود ہو چکی ہے۔

ایران۔اسرائیل جنگ نے اس آیت کی معنویت کو ایک بار پھر زندہ کر دیا۔ جیسے جیسے جنگ آگے بڑھتی گئی، ویسے ویسے مسلم دنیا کے اندرونی تضادات کھل کر سامنے آتے گئے۔ کچھ حکومتیں کھل کر مغربی طاقتوں کے ساتھ کھڑی دکھائی دیں، کچھ نے خاموشی کو حکمت کا نام دیا، اور کچھ نے جذباتی بیانات پر اکتفا کیا۔ لیکن ان سب کے درمیان ایک چیز مشترک تھی: امت کے اجتماعی مفاد کا فقدان۔

غزہ کے بچوں کا خون، فلسطینیوں کی چیخیں، تباہ شدہ گھروں کی تصویریں—یہ سب امت کے ضمیر پر دستک دیتی رہیں۔ مگر سیاسی فیصلے کہیں اور ہوتے رہے۔ ایران۔اسرائیل جنگ نے یہ حقیقت بے نقاب کر دی کہ مظلوموں کا درد عالمی سیاست میں اکثر ایک سودے بازی کا ہتھیار بن جاتا ہے۔ لیکن قرآن کی آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اخلاقی وضاحت سیاسی مصلحتوں سے زیادہ اہم ہے۔

یہ جنگ اس غلط فہمی کو بھی توڑتی ہے کہ مغربی طاقتیں کبھی مسلم دنیا کے دیرپا مفاد کی محافظ بن سکتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے عدم توازن پر قائم اتحاد ہمیشہ وقتی ہوتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ ان طاقتوں کی رضا مشروط ہوتی ہے، عارضی ہوتی ہے، اور اس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک مسلمان اپنی شناخت ترک نہ کر دیں۔ ایران۔اسرائیل جنگ نے دکھا دیا کہ سیاسی وعدے کتنی تیزی سے بدلتے ہیں، اور مظلوم کتنی آسانی سے تنہا چھوڑ دیے جاتے ہیں۔

جنگ کے دوران ایک سوال بار بار اٹھا:

عبادت کا مفہوم کیا رہ جاتا ہے جب سیاسی ظلم معمول بن جائے؟

روزہ کس کام کا جب مظلوم بھوکے مر رہے ہوں؟

نماز کس معنی کی جب انصاف کی آواز دب جائے؟

حج کس مقصد کا جب رمی جمرات صرف ایک رسم بن کر رہ جائے؟

ایامِ حج قریب آتے ہی یہ سوال اور بھی گہرا ہو جاتا ہے۔ رمی جمرات کا عمل ہمیں یاد دلاتا ہے کہ شیطان صرف ایک ماضی کی کہانی نہیں، بلکہ ایک زندہ نظام ہے—ایک ایسا نظام جو ظلم، استحصال اور طاقت کے ناجائز استعمال پر قائم ہو۔ ایران۔اسرائیل جنگ نے واضح کر دیا کہ آج کا "شر" محض ایک فرد یا قوم نہیں، بلکہ ایک عالمی ڈھانچہ ہے۔

امتِ مسلمہ کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ صرف علامتی مزاحمت پر قناعت کرے گی یا حقیقی سیاسی آزادی اور اخلاقی خودمختاری کی طرف قدم بڑھائے گی۔ قرآن کی آیت ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنی راہ خود متعین کریں، نہ کہ ان طاقتوں کے اشاروں پر چلیں جو ہمیشہ اپنے مفاد کو مقدم رکھتی ہیں۔

ایران۔اسرائیل جنگ نے یہ بھی ثابت کیا کہ عوامی رائے کی طاقت کم نہیں۔ جب حکومتیں خاموش تھیں، عوام نے آواز بلند کی۔ یہ بیداری شاید اس جنگ کا سب سے مثبت پہلو ہے۔ مگر جذباتی بیداری کافی نہیں؛ اس کے ساتھ حکمت، منصوبہ بندی، اتحاد اور ادارہ سازی بھی ضروری ہے۔

امت کو ایسے رہنما درکار ہیں جو عوام کے سامنے جواب دہ ہوں، نہ کہ بیرونی طاقتوں کے سامنے۔ اسے ایسی معیشت، ایسی ٹیکنالوجی، اور ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے جو اسے خودمختار بنا سکیں۔

ایران۔اسرائیل جنگ ایک آئینہ ہے—ایک ایسا آئینہ جس میں امت نے اپنی حقیقت دیکھی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس حقیقت سے آنکھیں چُرا لیں گے یا اس کا سامنا کریں گے؟

مستقبل کا فیصلہ اس بات پر ہوگا کہ امت آج کیا انتخاب کرتی ہے:

کیا ہم عزت کو ترجیح دیں گے یا انحصار کو؟

کیا ہم اتحاد کو اپنائیں گے یا تقسیم کو؟

کیا ہم قرآن کی راہ پر چلیں گے یا دوسروں کی رضا کے پیچھے بھاگیں گے؟

آیت 120 آج بھی وہی پیغام دیتی ہے:

خودداری، بصیرت، اور آزادی۔

ایران۔اسرائیل جنگ نے ثابت کر دیا کہ قرآن صرف ماضی کی کتاب نہیں—یہ حال کی تشریح بھی ہے اور مستقبل کی رہنمائی بھی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha