بدھ 20 مئی 2026 - 08:17
نہج البلاغہ کی نظر میں جب ہمارا دشمن صلح کی دعوت دے تو ہم کیا کریں؟!

حوزہ / نہج البلاغہ کے ماہر نے کہا : اسلام کی نظر میں صلح اس وقت اہمیت رکھتی ہے جب وہ جارحیت کے حقیقی خاتمے اور سلامتی کے قیام کا باعث بنے، نہ کہ خطرے کے تسلسل کا سبب۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی ممالک میں جنگی صورتحال کے پیش نظر بعض افراد نہج البلاغہ کا غلط استناد کرتے ہوئے غلط فہمیوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں جنگ و صلح کے تعلق اور ان قیمتی متون سے استفادے کی حدود کے بارے میں سوالات بھی اٹھائے جاتے ہیں۔

اسی سلسلے میں نہج البلاغہ کا یہ قول کہ "اگر دشمن تجھے صلح کی دعوت دے تو اسے قبول کرو" ، بھی انہی سوالات کا مرکز بنا۔ اس لیے ہم نے نہج البلاغہ کے ماہر حجت الاسلام مصطفی زہرہ ای سے انٹرویو کیا تاکہ ان سے ان سوالات کے جوابات معلوم کر سکیں۔ ذیل میں ان کی گفتگو کی خلاصہ پیش خدمت ہے:

کیا یہ جملہ "اگر دشمن تجھے صلح کی دعوت دے تو اسے رد نہ کرو" واقعی نہج البلاغہ میں موجود ہے؟ اگر ہے تو کس خطبے، خط یا حکمت میں؟

بسم الله الرحمن الرحیم

جی ہاں! یہ جملہ نہج البلاغہ میں مالک اشتر کے نام حضرت کے خط میں اس طرح آیا ہے: "دشمن کی طرف سے جو صلح کی پیشکش آئے بشرطیکہ خدا اس سے راضی ہو، اسے رد نہ کر۔"

امام علیہ السلام کی یہ نصیحت بہت عمیق نکات اور مطالب رکھتی ہے جن پر اگر توجہ نہ دی جائے تو اس سے قرآن کریم کی آیات اور امیرالمومنین کے دیگر اقوال کے خلاف معنی سمجھے جا سکتے ہیں۔

حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا کہ "وہ صلح قبول کرو جس سے خدا راضی ہو"۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر صلح خدا کی رضا مندی کا باعث نہیں ہوتی جیسا کہ سورہ محمد کی آیت 35 میں فرمایا: «فَلَا تَهِنُواْ وَتَدعُوٓاْ إِلَی ٱلسَّلمِ وَأَنتُمُ ٱلأَعلَونَ وَٱللَّهُ مَعَکُم...» "(جب تم دشمن کے ساتھ حلاتِ جنگ میں ہو تو) پس کمزوری نہ دکھاؤ اور صلح کی دعوت نہ دو جبکہ تم غالب ہو اور اللہ تمہارے ساتھ ہے۔"

لیکن جب دشمن کی قوت کمزور ہو جائے تو ان میں سے بچنے والے اور ان کے حامی ممکن ہے صلح کی پیشکش کریں۔ یہاں صلح قبول کرنا مطلوب ہوگا کیونکہ ایسی صورتحال میں صلح کا مطلب ہے کہ جنگ بھی بند ہو اور دشمن اس بات کا پابند ہو جائے کہ وہ دوبارہ زیادتی اور ظلم و ستم نہیں کرے گا اور ہوسکتا ہے کہ وہ ہرجانہ (معاوضہ) وغیرہ بھی ادا کرے۔

یہ وہی صلح ہے جس کے بارے میں امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا: "اگر تمہارے دشمن کی طرف سے ایسی صلح کی پیشکش آئے جس میں خدا کی رضا ہو تو اسے قبول کرو۔"

ایسی صلح جو مقاومت کا نتیجہ ہے، امن، آسانی اور سکون کا باعث بنے گی۔ اسی لیے مولا علی علیہ السلام نے مزید فرمایا: فَإِنَّ فِی اَلصُّلْحِ دَعَةً لِجُنُودِکَ وَ رَاحَةً مِنْ هُمُومِکَ وَ أَمْناً لِبِلاَدِکَ.. "کیونکہ صلح میں تمہارے لشکر کے لیے آرام اور قوتِ تازہ ہے، تمہاری پریشانیوں سے سکون ہے اور تمہارے شہروں کے لیے امن ہے۔"

نہج البلاغہ کی نظر میں جب ہمارا دشمن صلح کی دعوت دے تو ہم کیا کریں؟!

یہ صلح دراصل ایک مکمل جہاد کا شیریں نتیجہ ہوتی ہے جس میں شہادتیں بھی معاشرے کی بقا اور نسل میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔

لیکن حضرت نے مالک اشتر کو صلح کی نصیحت کرتے ہوئے ایک اہم مسئلے سے بھی خبردار کیا، فرمایا: وَ لَکِنِ اَلْحَذَرَ کُلَّ اَلْحَذَرِ مِنْ عَدُوِّکَ بَعْدَ صُلْحِهِ فَإِنَّ اَلْعَدُوَّ رُبَّمَا قَارَبَ لِیَتَغَفَّلَ فَخُذْ بِالْحَزْمِ وَ اِتَّهِمْ فِی ذَلِکَ حُسْنَ اَلظَّنّ "لیکن صلح کے بعد دشمن سے چوکنا اور خوب ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دشمن قرب حاصل کرتا ہے تاکہ تمہاری غفلت سے فائدہ اٹھائے۔ لہٰذا احتیاط کو ملحوظ رکھو اور اس بارے میں حسنِ ظن سے کام نہ لو۔"

امام علیہ السلام کا یہ انتباہ دراصل ایک قرآنی اصول ہے۔ خداوند متعال فرماتا ہے کہ کافر دشمن کا مزاج عہد شکنی ہے لیکن جب تک وہ صلح کے عہد پر قائم ہیں، تم بھی اپنے عہد پر قائم رہو۔

اسی لیے امیرالمومنین علیہ السلام نے مالک اشتر کو مزید فرمایا: «وَ إِنْ عَقَدْتَ بَیْنَکَ وَ بَیْنَ عَدُوِّکَ عُقْدَةً أَوْ أَلْبَسْتَهُ مِنْکَ ذِمَّةً فَحُطْ عَهْدَکَ بِالْوَفَاءِ وَ اِرْعَ ذِمَّتَکَ بِالْأَمَانَةِ وَ اِجْعَلْ نَفْسَکَ جُنَّةً دُونَ مَا أَعْطَیْتَ».. "اور اگر اپنے اور دشمن کے درمیان کوئی معاہدہ کرو، یا اسے اپنے دامن میں پناہ دو، تو پھر عہد کی پابندی کرو، وعدہ کا لحاظ رکھو، اور اپنے قول و قرار کی حفاظت کیلئے اپنی جان کو سپر بنا دو۔"

یہ مختصر بیان اسلام میں جنگ و صلح کا ایک عمومی اصول ہے جسے مناسب مواقع پر تفصیل سے بیان کیا جا سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha